محکمہ تعلیم میں کرپشن‘ گرفتاری کا ڈر‘ 22 افسروں کا عدالت سے رجوع

 محکمہ تعلیم میں کرپشن‘ گرفتاری کا ڈر‘ 22 افسروں کا عدالت سے رجوع

  

  ملتان (خصو صی رپورٹر) اینٹی کرپشن خانیوال کی جانب سے قومی خزانے کو کرپشن کے ذریعے لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے والی چیئرپرسن تعلیمی بورڈ ملتان سیمت 30 ہیڈ ماسٹروں اور ہیڈ مسٹریس کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے معاملے پر مقدمہ میں ملوث 22 افسران نے گرفتاری کے ڈر سے اینٹی کرپشن عدالت سے رجوع کرلیا۔ تفصیل کے مطابق سکولوں (بقیہ نمبر19صفحہ 6پر)

میں فرنیچر کی خریداری میں  کرپشن کرنے والے ملزمان کے خلاف چار برس پہلے اینٹی کرپشن کو درخواست موصول ہوئی کہ سکولوں کے فرنیچر کی خریداری میں  لاکھوں کی کرپشن کی گئی ابتدائی انکوائری  میں کرپشن ثابت ہونے پر باضابطہ انکوائری شروع ہوئی جس میں 16لاکھ 63ہزار400روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت ہوا جس پر چیئرپرسن تعلیمی بورڈ ملتان ڈاکٹر شمیم اختر جو اس وقت گورنمنٹ گرلز ہائی سکول خانیوال کی ہیڈ مسٹریس تھیں سمیت 30 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔ باقی افراد میں صابرحسین، محمد نواز، محمد اشرف، نجمہ نقوی، انیس بانو، نسیم اختر، عطیہ حامد منصور، فرزانہ کوثر، نصرت کلثوم، شاہدہ نسرین، زبیدہ سحر، امیتاز رشید، امجد حسنین خان، محمد نعیم، عبدالقدوس، حمیدالرحمان،نور محمد، عطاالرحمان، غلام حسین، غلام شبیر، غلام صابر، شہزاد مظہر یوسف، عاصمہ ناز، نثار علی، شبانہ قمر، رخسانہ ناز، عابدحسین،محمد رفیق،اور کمپنی کا مالک شاہد ندیم شامل ہیں۔ملزمان نے گرفتاری کے ڈر سے عدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔ آئندہ سماعت 27 نومبر کو ہوگی۔

رجوع

مزید :

ملتان صفحہ آخر -