کرایہ 30روپے، آگے پیچھے گرجتا انجن، کراچی سرکلر ٹرین چل پڑی

  کرایہ 30روپے، آگے پیچھے گرجتا انجن، کراچی سرکلر ٹرین چل پڑی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ووٹ کی عزت کو شدید خطرہ انہیں لوگوں سے جو ہارنے کے بعد ہار تسلیم نہیں کرتے،پوری دنیا میں جہاں جمہوریت ہے وہاں الیکشن ہارنے والا اپنی شکست تسلیم کرہی نہیں رہا،ن لیگ میں سمجھ ہوتی وہ اپنے بیانیے پر غور کرتی،مولانا فضل الرحمان سے کہتاہوں ن لیگ والے آپ کوخراب کریں گے،  شبر زیدی پر الزام سے پہلے مولانا فضل الرحمان کو سوچنا چاہیے تھا، جو فوج کیخلاف بات کرتا ہے وہ وزیراعظم عمران خان کی مخالفت نہیں خدمت کرتاہے،5سال بعد کراچی سرکلرریلوے چلارہے ہیں،جس کا سارا کریڈٹ چیف جسٹس،وزیراعظم، سندھ حکومت اور پاکستان ریلوے کے ملازمین کو جاتا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سب کو چابی دی تو کام ہوئے،ایک سال کے اندر سرکلر ریلوے کو مکمل ماڈرن کردیا جائے گا، سندھ حکومت نے اوور ہیڈ برج کی تعمیر کا ٹینڈر ایف ڈبلیو او کو دے دیا ہے، جیسے جیسے پھاٹک اور اوور پاس تعمیر ہوں گے ٹریک بڑھتا رہے گا، کے سی آر کی بحالی میں کسی سیاسی جماعت کی جانب سے سیاسی سپورٹ نہیں مل رہی، سندھ حکومت کو مکمل تعاون فراہم کررہے ہیں،4پارٹیوں کو اپنی فریٹ ویگنز کی نجکاری کردی ہے اور ہم 8 مسافر ٹرینوں کی نجکاری کرنے جارہے ہیں اور جب کے سی آر مکمل تیار ہوگئی تو کوئی اسے لینا چاہے تو ہم کھلے دل سے اس کی نجکاری کریں گے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں طویل عرصے سے بند کراچی سرکلر ریلوے جزوی طور پر بحال کردی گئی،وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اسٹی اسٹیشن پراس کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آج(جمعہ) کے سی آر میں مفت سفر کا اعلان کیا۔شیخ رشید نے کہاکہ 20نومبرسے ہم اس ٹرین کو پہلے 2 دفعہ چلائیں گے، پھر 4 دفعہ اور بعد ازاں 10 دفعہ چلائیں گے، ہم 40 کوچز بنا رہے ہیں جس کی 15 کوچز  لگائی جارہی ہیں، یہ تمام کوچز پاکستان ریلوے کے مزدوروں اور افسران نے بنائی ہیں۔انہوں نے کا کہ بہت بڑا قبضہ مافیا ریلوے ٹریک پر قابض ہے اور 25 برس میں کے سی آر کے ٹریک پر قبضہ مافیا چھا گیا ہے، ہم اسے خالی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ قبضہ اتنا زیادہ ہے کہ ایک پلاٹ اگر فروخت کریں تو پاکستان ریلوے کا سارا خسارہ ختم ہوسکتا ہے۔وفاقی وزیر ریلوے نے کہاکہ ریلوے کی زمین پر قبضہ کرنے والے پچیس سال بعد یہ ماننے کو تیار نہیں کہ زمین ریلوے کی ہے، لوگ ٹرین کے تولیے اور صابن بھی چرالیتے ہیں، ڈسٹری بیوشن وال سب سے زیادہ چوری ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی ایک مسائل زدہ شہر ہے اور ہم اس کوشش کریں گے کہ اس کے مسائل میں کمی آسکے جبکہ ہم ایک سال کے اندر کے سی آر کو ماڈرن کردیں گے۔اس موقع پر ٹریک کو قبضہ مافیا سے خالی کرانے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم حکومت سندھ کے لیے ہے، ہمیں کسی جماعت کی طرف سے سیاسی تعاون نہیں مل رہا، یہ حکومت سندھ کا کام ہے، گیلانی اسٹیشن اور دیگر پر قبضہ مافیا ہے، تجوری ہائٹس تک ہم جارہے ہیں یہ سب ہماری زمینیں ہیں جس پر قبضے کیے ہوئے ہیں اور ان شاء اللہ سال سے ڈیڑھ سال میں قبضہ خالی کرائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -