دورہ نیوزی لینڈ کیلئے بابراعظم کی پریس کانفرنس، قوم کو امید دلا دی

دورہ نیوزی لینڈ کیلئے بابراعظم کی پریس کانفرنس، قوم کو امید دلا دی
دورہ نیوزی لینڈ کیلئے بابراعظم کی پریس کانفرنس، قوم کو امید دلا دی
کیپشن:    سورس:   Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے دورے پر جا رہے ہیں جس کیلئے بہت پرجوش ہیں، کیوی سرزمین پر ہمارا ریکارڈ بہت اچھا ہے اور امید ہے کہ اس مرتبہ بھی اچھی کرکٹ کھیلیں گے، کپتانی کا کوئی دباﺅ نہیں کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابراعظم نے کہا کہ میں ہر سیریز میں چیلنج اور ذمہ داری لیتا ہوں، جب بھی بیرون ملک دورے پر جاتے ہیں تو دباﺅ ہوتا ہے لیکن دباﺅ میں کھیلنے کا لطف بھی زیادہ آتا ہے، کوشش یہی ہے کہ جتنی بھی ذمہ داری لوں، اسے نبھاﺅں اور اس مرتبہ بھی 100 فیصد کارکردگی دینے کی کوشش کروں گا۔ 

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سینئر کھلاڑیوں سے سیکھنے کا بہت موقع ملا اور سینئرز سے سیکھتا رہوں گا ، ہماری ٹیم نوجوان اور سینئرز پر مشتمل ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ہم سب مل کر رہیں،ٹیم میں کسی طرح کی کوئی گروپنگ نہیں اور پوری ٹیم ایک یونٹ کی طرح ہے، سب ایک دوسرے کیلئے دعا کرتے ہیں، ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور کارکردگی دکھانے پر خوش بھی ہوتے ہیں۔ 

بابراعظم نے کہا کہ ہر دورہ چیلنج ہوتا ہے اگرچہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے ورلڈکپ کا فائنل کھیلا ہے لیکن ہماری ٹیم بھی بہت پراعتماد ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم نے ورلڈکپ جیتا مگر ان کیخلاف ہماری کارکردگی بہت اچھی رہی، خاص طور پر انفرادی کارکردگی بہت بہتر رہی، باﺅلرز نے بہت اچھی باﺅلنگ کی اور وہاں تجربہ بھی کام آیا جس کی مثال اظہر علی ہیں جنہوں نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی، بالکل اسی طرح کوشش ہے کہ نیوزی لینڈ کیخلاف بھی اچھی شروعات کریں۔ 

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک میں سکور کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور میری خواہش ہے کہ میں آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ میں سنچریز بناﺅں، نیوزی لینڈ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی خواہش ہے اور اس کیلئے بھرپور تیاری بھی کی ہے، مجھ پر پی سی بی کی جانب سے کوئی پریشر بھی نہیں کیونکہ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہم آپ کی قیادت کے معاملے میں لمبے عرصے کیلئے سوچ رہے ہیں، آپ دباﺅ کے بغیر کھیلیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب پاکستان کرکٹ کی بہتری چاہتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں ہو سکتا کہ سارے کھلاڑی پرفارم کریں، کبھی کبھار کچھ کھلاڑی پرفارم نہیں کرتے اور کچھ کر جاتے ہیں، بنیادی بات یہ ہے کہ جو پرفارم نہ کرے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ یہ بہت ضروری ہوتا ہے، ہمارے ہاتھ میں صرف محنت ہے، نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ 

مزید :

کھیل -