عثمان بزدار بھی شہبازشریف کے ٹوٹکوں پر چل پڑے؟ دورہ ملتان کی کہانی سامنے آگئی

عثمان بزدار بھی شہبازشریف کے ٹوٹکوں پر چل پڑے؟ دورہ ملتان کی کہانی سامنے آگئی
عثمان بزدار بھی شہبازشریف کے ٹوٹکوں پر چل پڑے؟ دورہ ملتان کی کہانی سامنے آگئی

  

لاہور (کالم: نسیم شاہد) اپنے پیارے، سادہ، معصوم اور کم گو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا دل بھی غالباً کبھی کبھی یہ خواہش کرتا ہے کہ شہباز شریف والے حکومتی ٹوٹکے استعمال کئے جائیں۔ اس کا تازہ ثبوت ایک روز پہلے اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے ملتان شہر کا بغیر پروٹوکول اچانک دورہ کیا، شہر میں صفائی کی ناقص صورت حال پر ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ کو معطل کر دیا وہاں سے نشتر ہسپتال کا رخ کیا۔ جہاں مریضوں اور ان کے لواحقین سے حال احوال معلوم کیا ہسپتال میں ناقص انتظامات اور صفائی دیکھی تو ایم ایس نشتر ہسپتال کو بھی عہدے سے ہٹا دیا اور کمشنر ملتان کو یہ ہدایت دے کر لاہور روانہ ہو گئے کہ نشتر ہسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے سہولیات اور باقی معاملات کا جائزہ لے کر انہیں رپورٹ بھجوائیں۔ بات اس حد تک تو درست ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار بغیر پروٹوکول کے اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہوئے شہر میں گھومے، یہ بھی درست ہے کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بھی ان کے دورے کی خبر نہ ہوئی مگر انہوں نے جو ایکشن لیا وہ شہباز شریف سٹائل والا ہے، چھٹی ہی کرانی تھی تو ان انتظامی افسروں کی کراتے جو حد درجہ سیاسی ہو چکے ہیں اور اپنے بنیادی فرائض ادا کرنے کی بجائے سیاسی نمائندوں کے ڈیرے پر زیادہ وقت گزارتے ہیں شہر میں ناقص صفائی ہو یا نشتر میں سہولیات و توجہ کا فقدان، اس کا نوٹس بطور ضلعی سربراہ ڈپٹی کمشنر کو لینا چاہئے، مگر وہ اس طرف توجہ دیں تو حالات بہتر ہوں۔ اب دو چھوٹے افسروں کو کھڈے لائن لگا کر عثمان بزدار شہبازی اسٹائل اپنانا چاہتے ہیں تو اس کا کوئی خاص اور خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ شہباز شریف تو ایسے معاملے میں سیدھا ڈی پی او یا ڈی سی کو گھر بھیجتے تھے تاکہ باقیوں کو کان ہو جائیں۔

روزنامہ پاکستان میں نسیم شاہد نے اپنے کالم میں لکھا کہ ملتان اس وقت نا اہل انتظامیہ کے حوالے سے پنجاب میں نمبر ون پوزیشن حاصل کر چکا ہے پنجاب حکومت کروڑوں روپے کا بجٹ دیتی ہے مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ انتظامیہ مخیر حضرات اور صنعت کاروں سے اپیل کرتی ہے کہ شہر میں صفائی کے لئے لوڈر رکشہ عطیہ کئے جائیں پھر بڑے طمطراق سے ان کی تصویریں بنا کر اپنے نمبر ٹانکتی ہے حالانکہ یہ انتظامیہ کے لئے شرم کا مقام ہے کہ وہ اپنے فنڈز سے شہر کی صفائی کا انتظام بھی وضع نہیں کر سکتی شہر میں صاف پانی کے جتنے پیوریفیکشن پلانٹس لگے ہوئے ہیں، ستر فیصد خراب ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر عثمان بزدار معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو انتظامی افسروں اور عوامی نمائندوں کے گٹھ جوڑ پر نظر ڈالیں جس نے شہر کو گورننس کے لحاظ سے زیرو کر دیا ہے۔ پنجاب کا کون سا انتظامی افسر عوامی نمائندوں کی چاپلوسی کرتا ہے، ان کے بچوں کی سالگرہ پر گھر جا کے بچوں کو گود میں اٹھا کے تصویریں بنواتا ہے اور اپنے اصل فرائض سے غافل رہتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ایم این اے ملک عامر ڈوگر کو وزیر اعظم کا اعزازی معاون بنایا گیا تو ڈپٹی کمشنر ملتان مبارکباد دینے ان کے گھر پہنچ گئے کیا یہ سیدھا سادا سیاست میں ملوث ہونے کا عمل نہیں ہم نے تو آج تک نہیں دیکھا کہ کسی ضلع کا ڈی سی یہ کام بھی کرتا ہو جب اس قسم کی صورتحال ہو گی تو ضلع میں کام کرنے والے دیگر افسران کیونکر اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کریں گے، پھر تو سب ہی یہ چاہیں گے کہ سیاسی آشیر باد حاصل کر کے لوٹ مار کے سوا اور کچھ نہ کریں۔

شہباز شریف نے اپنے دور میں انتظامی افسروں اور ارکانِ اسمبلی کا گٹھ جوڑ کم کم ہی پیدا ہونے دیا تھا یہی وجہ ہے کہ اکثر ارکان اسمبلی اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او کے خلاف شکایات لے کر ان کے پاس جاتے تھے اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ شہباز شریف کو بطور وزیر اعلیٰ یہ علم ہو جاتا تھا کہ کس ضلع میں کیا کھچڑی پک رہی ہے اور عوامی مفاد میں کتنے کام ہو رہے ہیں۔ عثمان بزدار کو تو اس حوالے سے اندھیرے میں رکھا جاتا ہے ارکانِ اسمبلی اور انتظامی افسر عوام کے خلاف متحد ہو چکے ہیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کی شرط پر سارا نظام چوپٹ کر دیا ہے۔ عثمان بزدار چاہتے تو ہیں کہ ان کی شہباز شریف جیسی دھاک بیٹھ جائے، مگر وہ اپنے ارکان اسمبلی کو ناراض کر سکتے ہیں اور نہ افسروں کو، خاص طور پر سی ایس پی افسران پر ہاتھ ڈالنا ان کے لئے شجرِ ممنوعہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کمزوری کا انتظامی افسروں کو بھی علم ہے اور ارکانِ اسمبلی کو بھی سو عثمان بزدار تکنیکی طور پر شہبازی ٹوٹکے استعمال کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں، انہوں نے تنبیہ تو کی ہے کہ وہ ملتان کی طرح دیگر شہروں کے بھی اچانک دورے کریں گے، مگر اس کا اثر اس لئے نہیں ہوگا کہ بڑے افسروں کے خلاف وہ صبر کے گھونٹ بھرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے۔

بڑے افسروں سے درگزر اور چھوٹے افسروں کو اِدھر ا±دھر کرنا ویسے بھی قرینِ انصاف نہیں۔ قانونی طور پر ڈویڑن میں معاملات کی نگرانی کا اختیار کمشنر اور ضلع میں ڈپٹی کمشنر کو حاصل ہوتا ہے جہاں ان افسروں کا اپنا مفاد ہو ہر کام میں ٹانگ اڑاتے ہیں لیکن عوامی فلاح کا کوئی کام ہو تو ذمہ داری ذیلی محکموں پر ڈال دیتے ہیں شہباز شریف کے دور میں بھی ہم یہی کہا کرتے تھے کہ جب اوپر سے نیچے تک حکومتی افسروں کی ایک فوج ظفر موج موجود ہے تو وزیر اعلیٰ کو چھاپے کیوں مارنے پڑتے ہیں؟ اس کا مطلب ہے نظام نہیں ون مین شو چل رہا ہے اتنے بڑے صوبے میں وزیر اعلیٰ کہاں کہاں جا سکتا ہے چیف سکریٹری اور آئی جی کس مرض کی دوا ہیں کارکردگی جانچنے کا کوئی خود کار نظام کیوں نہیں بنایا جا سکتا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اگر ملتان کا اچانک دورہ نہ کرتے تو یہ حقیقت کسی کے سامنے نہ آتی کہ شہر میں صفائی کی صورتِ حال خراب اور نشتر ہسپتال کے معاملات دگرگوں ہیں کیا انتظامی افسر صرف کروفر اور مال بنانے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں، چھوٹے افسروں کی برطرفی کی بجائے کیا ان سے باز پرس نہیں ہونی چاہئے؟

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -