خود کی اصلاح

خود کی اصلاح
خود کی اصلاح

  

دورحاضر میں ہر کوئی دوسرے پر نکتہ چینی کرتے دکھائی دیتا ہے۔ہر کوئی دوسرے کو نیچا دکھانے میں مشغول دکھائی دیتا ہے۔اگر کوئی اس معاشرے میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اس پر تنقید کے انبھار لگا دیے جاتے ہیں۔پہلے ہی حوصلہ شکنی کر دی جاتی ہے جس سے ایک محنت کش انسان ہمت بھی ہار سکتا ہے۔اگر ہم کسی کی ہمت نہیں بندھا سکتے تو کم از کم کسی کی حوصلہ شکنی بھی نہیں کرنی چاہیے۔

ایک قوم کیلئے مشعل راہ اس کے حکمران ہوتے ہیں لیکن ہمارے حکمران بھی ہمہ وقت ایک دوسرے پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ابھی ایک پارٹی پریس کانفرنس کر رہی ہوتی ہے ،ساتھ ہی مخالف پارٹی کے ممبرز تنقید کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ تنقید برائے اصلاح کی بجائے تنقید برائے تنقید کو اپنا لیا گیا یے۔

ہمیں اپنے حالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیوں ہم پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ ہم خود کی اصلاح کی بجائے دوسروں میں خامیاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔قوم ملت کے ہر فرد سے مل کر بنی ہے اسلیے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کی اپنے طور پر اصلاح کرے۔اگر آ پ کسی میں کمی یا برائی دیکھتے ہیں،اسکی اچھے طریقے سے اصلاح کی کوشش کریں،تنقید کا طریقہ کار نہ اپنائیں اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔اسلیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ اس بندے سے دوستی کی جائے ،پھر سمجھایا جائے اگر وہ سمجھ جائے تو بہت بہتر اور اگر نہ سمجھے تو اللہ پر چھوڑ دیں،دل صاف رکھیں،خود میں خامیاں دیکھیں اور دوسروں میں خوبیاں دیکھیں،ایسے ہی ہماری اصلاح ہو گی اور معاشرے میں محبت پھیلے گی۔

 مثبت سوچ اپنا کر ہم خود کی اصلاح آسانی سے کر سکتے ہیں۔میرے نزدیک کسی کا برا نہ سوچنا خود کی اصلاح کی جانب اہم قدم ہے۔دوسروں کو حوصلہ دیں، ہمت بندھائے اور آ گے بڑھنے کا درس دیں۔

خود سے پہلے دوسروں کے لیے سوچنا ہی انسانیت ہے ،محض دنیاوی کامیابی کیلیے جھوٹ کا سہارا لے کر دوسرے کو دھوکہ دینا اور اس خواہش کو حاصل کرنا بہت بڑی حیوانیت ہو گی ، اس کامیابی کو دنیا میں جیسے تیسے حاصل کر لیں گے لیکن آ خرت میں کوئی حصہ نہیں رہے گا۔ہم اشرف المخلوقات ہیں اور انسانوں کے کام آ نا ہی ہماری زندگی کا مقصد ہے ۔ہم انسانیت کی خدمت تبھی کر پائیں گے جب مطلبی ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے ،دنیاوی فائدے کو خاطر میں نہیں لائیں گے اور خود کی اصلاح کی کوشش کریں گے۔ اس وقت ہمیں خود کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کرنے اور کسی کا دل نہ دکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -