وزیر اعظم کا دورہ افغانستان، کتنا خرچہ ہوا؟ ناقابل یقین تفصیل سامنے آگئی

وزیر اعظم کا دورہ افغانستان، کتنا خرچہ ہوا؟ ناقابل یقین تفصیل سامنے آگئی
وزیر اعظم کا دورہ افغانستان، کتنا خرچہ ہوا؟ ناقابل یقین تفصیل سامنے آگئی
کیپشن:    سورس:   Twitter

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے دورہ کابل میں بھی کفایت شعاری کی نئی مثال قائم کردی۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا کابل کا ایک روزہ دورے پر صرف 11 ہزار ڈالر کے اخراجات آئے۔ عمران خان کے مقابلے میں جب نواز شریف نے 2015 میں بطور وزیر اعظم کابل کا دورہ کیا تو ان کے اس دورے پر 58 ہزار ڈالر کے اخراجات اٹھے تھے۔ 2012 میں پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے دورے پر 51 ہزار ڈالر کا خرچہ ہوا تھا۔ علاوہ ازیں 2009 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کا دورہ 44 ہزار ڈالر میں مکمل کیا تھا۔

خیال رہے کہ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان نے افغان دارالحکومت کابل کا ایک روزہ دورہ کیا تھا ۔ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کے حصول کی مشترکہ کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سلامتی اور امن سے متعلق امور کو آگے بڑھانے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے اعلی سطحی قیادت کے تبادلے، ترجیحی تجارت کے معاہدے پر بات چیت شروع کرنے اور کسٹمز اسسٹنس معاہدوں کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماو¿ں نے انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے مابین ریل روڈ منصوبوں کی تعمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس دوران افغانستان اور پاکستان کے مابین مشترکہ نظریہ کے عنوان سے ایک دستاویز بھی جاری کی گئی جس کا مقصد خطے میں امن واستحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے، مشترکہ نقطہ نظر کا مقصد دونوں ممالک کے مابین سیاسی ، معاشی اور عوامی رابطوں کے لئے تعاون پر مبنی شراکت داری کو آگے بڑھانا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن، مستحکم، متحد جمہوری اورخود مختار اور خوشحال افغانستان کے لئے حمایت جاری رکھے گا، افغانستان میں تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، افغانستان میں امن واستحکام اور خوشحالی کے لیے مذاکرات اور سیاسی حل ہی واحد راستہ ہے۔بعد ازاں وزیر اعظم نے صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

مزید :

قومی -