وزیر اعظم کے دورہ کابل کی اصل وجہ سامنے آگئی 

وزیر اعظم کے دورہ کابل کی اصل وجہ سامنے آگئی 
وزیر اعظم کے دورہ کابل کی اصل وجہ سامنے آگئی 
کیپشن:    سورس:   Twitter

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن سیاسی گفت و شنید ہی سے حاصل ہوگا، اہل افغانستان کے بعد اس امن میں سب سے  بڑا حصہ ہمارا ہے، امن و تجارت کے ثمرات بطور خاص ہمارے قبائلی عوام تک پہنچیں گے جنہوں نے افغان جنگ کی تباہ کاریوں کا بارِگراں اٹھایا۔ 

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کابل کا ان کا دورہ افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کے عزمِ صمیم کے اظہار کی جانب ایک اور قدم ہے۔’ میں کبھی بھی (تنازعات کے) عسکری حل کا قائل نہیں رہا چنانچہ ہمیشہ سے میرا ایمان رہا ہے کہ افغانستان میں امن سیاسی گفت و شنید ہی سے حاصل ہوگا۔‘

وزیر اعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اہل افغانستان کے بعد اس امن میں سب سے  بڑا حصہ ہمارا ہے کیونکہ اس سے باہمی روابط و تجارت کے دروازے کھلیں گے اور خوشحالی دونوں ممالک (افغانستان و پاکستان) کا رخ کرے گی۔ امن و تجارت کے ثمرات بطور خاص ہمارے قبائلی عوام تک پہنچیں گے جنہوں نے افغان جنگ کی تباہ کاریوں کا بارِگراں اٹھایا۔

خیال رہے کہ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان نے افغان دارالحکومت کابل کا ایک روزہ دورہ کیا تھا ۔ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کے حصول کی مشترکہ کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سلامتی اور امن سے متعلق امور کو آگے بڑھانے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے اعلی سطحی قیادت کے تبادلے، ترجیحی تجارت کے معاہدے پر بات چیت شروع کرنے اور کسٹمز اسسٹنس معاہدوں کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے مابین ریل روڈ منصوبوں کی تعمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس دوران افغانستان اور پاکستان کے مابین مشترکہ نظریہ کے عنوان سے ایک دستاویز بھی جاری کی گئی جس کا مقصد خطے میں امن واستحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے، مشترکہ نقطہ نظر کا مقصد دونوں ممالک کے مابین سیاسی ، معاشی اور عوامی رابطوں کے لئے تعاون پر مبنی شراکت داری کو آگے بڑھانا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن، مستحکم، متحد جمہوری اورخود مختار اور خوشحال افغانستان کے لئے حمایت جاری رکھے گا، افغانستان میں تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، افغانستان میں امن واستحکام اور خوشحالی کے لیے مذاکرات اور سیاسی حل ہی واحد راستہ ہے۔بعد ازاں وزیر اعظم نے صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -