آخر مجھے نوکری مل گئی!!!!! 

آخر مجھے نوکری مل گئی!!!!! 
آخر مجھے نوکری مل گئی!!!!! 

  

اس وقت دنیا میں 2 ارب واٹس ایپ صارفین ہیں یہ تعداد ہر دو سالوں میں نصف ارب سے بڑھ رہی ہے,واٹس ایپ کا موجد جین کوم ہے, جین کوم یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا  اس کا خاندان غربت میں زندگی گزار رہا تھا. گھر میں نہ بجلی تھی نہ گیس تھی اور نہ ہی پانی تھا گرمیوں کا موسم تو یہ لوگ جیسے تیسے کر کے گزار لیتے لیکن موسم سرما ان کے لئے بہت تکلیف دہ ہوتا کیوں کہ یہ موسم سرما اپنے ہمسائے کے فارم ہاؤس میں بھیڑوں کے ساتھ گزارتے تھے  اور بھیڑوں کو  لپٹ کر سونے پر مجبور تھے , آپ ان کی غربت کی انتہا ملاحظہ کیجیے کہ ان کے لوگوں کے پاس سردیوں میں اوڑنے کے لیے کمبل تک نہیں تھا، پھر اس غربت میں ظلم بھی شامل ہو گیا کیوں کہ 1992 میں یوکرائن میں یہودیوں پر ظلم شروع ہو گیا، والدین نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے نقل مکانی سے انکار کر دیا ،ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما اور یہ لوگ امریکہ چلے گئے، کیلیفورنیا ان کا نیا دیس تھا۔۔۔

یہ لوگ امریکہ تو پہنچ گئے لیکن ان کے پاس نہ گھر تھا نہ کوئی کام اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیاء ،یہ دونوں ماں بیٹا  اب مکمل طور پر خیرات پر تھے, امریکہ میں فوڈ سٹمپ کے نام سے ایک فلاحی سلسلہ چل رہا ہے حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے لئے ایک سٹمپ دیتی ہے، یہ سٹمپ امریکی خیرات ہوتی ہے ،یہ لوگ اتنے مجبور تھے کہ یہ زندگی بچنے کیلئے خیرات لینے پر مجبور تھے, اس غربت کو دور کرنے کیلئے جین کوم کے پاس ایک ہی آپشن تھا اور وہ تھا تعلیم کا حصول, جین کوم پڑھنے لگا ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم مہنگی ہوتی چلی گئی، فوڈ سٹمپ پر گزار مشکل ہو گیا تو جین کوم ہے ایک سٹور پر خاکروب کی نوکری شروع کر دی , جین کوم سارے سٹور کی صفائی کرتا یہاں تک کے سٹور کے باتھ رومز بھی صاف کرتا, وہ برسوں یہ ذمہ داری نبھاتا رہا ۔

جین کوم اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا ،یہ شوق اسے یونیورسٹی لے گیا، یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے وہ yahoo  میں بھرتی ہو گیا ،جین کوم نے دو سال اسی کمپنی میں کام کیا ،2004 میں فیس بک آئی اور آہستہ آہستہ مقبول ہوتی چلی گئی اور 2007 میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی۔ جین کوم نے فیس بک میں نوکری کے لئے درخواست دی لیکن فیس بک نے ان کی جاب درخواست کو ریجکٹ کر دیا کیوں کہ ان کو جین کوم میں کوئی خاص مہارت نظر نہ آئی اور یہ مزید دو سال yahoo میں کام کرتا رہا ۔آپ جین کوم کی غربت کا اندازہ اس بات سےلگائے یہ آئی فون خریدنا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس پیسے نہیں تھے .آئی فون کو خریدنے کے لئے جین کوم نے دوپہر کا کھانا بند کر دیا اور پیسے بچانا شروع کردیئے، کچھ وقت لگا لیکن   جین کوم نے آئی فون خرید لیا اور یہ ہی آئی فون آگے چل کر اس کے لئے سونے کی کان ثابت ہوا۔

جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے سوچا میں کوئی ایسی اپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل ہو جس سے میسج بھی ہو سکیں اور تصویریں اور فائلیں بھی آسانی سے منتقل ہو سکیں اور اسے ہیک بھی نہ کیا جا سکے ۔یہ ایک انوکھا اور منفرد خیال تھا، اس نے اپنے اس ارادے کا ذکرِ اپنے دوست برین اوکٹین سے کیا ،اس نے بھی اپنے دوست کی ہاں میں ہاں ملا دی اور یہ دونوں اس پر کام کرنا شروع ہو گے، ان لوگوں نے اس پروگرام پر دو سال کام کیا ،ان کی دو سال کی محنت رنگ لے آئی اور یہ ایک انتہائی طلسماتی ایپ بنانے میں کامیاب ہوگئے ، یہ ایپ فروری 2009 میں لانج ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مقبولیت کی حدیں پار کر گئی، اس وقت واٹس ایپ سب سے محفوظ اور تیز ترین زرائع ابلاغ ہے.

یہ اپلی کیشن اتنی کامیاب ہوئی کی دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی بولی لگانا شروع کر دی لیکن جین کوم مسلسل انکار کرتا رہا، فروری 2014 میں فیس بک بھی واٹس ایپ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گی, فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی اور اس نے قہقہے لگا کر کہا یہ وہ ادارہ ہے جس نے 2007 میں مجھے نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا ۔جین کوم دیر تک ہنستا رہا ،اس نے اسی ہنسی کی دوران فیس بک کو ہاں کر دی اور 19 بلین ڈالر میں سودا ہو گیا ۔یہ کتنی بڑی رقم ہے؟آپ اس بات کا اندازہ اس سے لگاہیں کے اس وقت پاکستان کے کل فارن ایکسچینج ذخائر 13.6 بلین ڈالر ہیں جبکہ جین کوم نے ایک اپلی کیشن 19 بلین ڈالر میں فروخت کی۔

جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں ایک شرط رکھی تھی کہ میں معاہدے پر فوڈ سٹمپ دینے والے خیراتی ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر دستخط کروں گا، فیس بک کے لئے یہ شرط عجیب تھی کیونکہ فیس بک انتظامیہ یہ ڈیل اس کے یہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر کرنا چاہتی تھی, یہ سلسلہ دو ماہ تک چلتا رہا ،فیس بک انتظامیہ اسے قائل کرتی رہی اور جین کوم انکار کرتا رہا اور بالآخر فیس بک انتظامیہ اس کی شرط ماننے کو تیار ہو گی ، تاریخ اور وقت مقرر ہوئی اور مقررہ وقت اور تاریخ پر فیس بک انتظامیہ فوڈ سٹمپ دینے والے خیراتی ادارے کے ویٹنگ روم میں پہنچی، جین کوم ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری سیڑھی پر بیٹھ کر رو رہا تھا, اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اس نے فیس بک انتظامیہ کو یہاں کیوں بلایا تھا ؟

جین کوم نے فیس بک انتظامیہ کو اس لئے بلایا تھا کہ یہ وہ سینٹر تھا جس کے کونے کی آخری سیڑھی پر بیٹھ کر جین کوم اور اس کی ماں گھنٹوں فوڈ سٹمپ کا انتظار کرتے تھے ،ویٹنگ روم میں بیٹھنا تکلیف دہ تھا لیکن اس سے بھی تکلیف دہ بات کھڑکی پر بیٹھی خاتون تھی, وہ خاتون ہر بار ان کی طرف نفرت سے دیکھتی، طنزیہ مسکراتی اور کہتی تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے؟ تم لوگ کوئی نوکری کیوں نہیں کرتے؟ یہ بات دونوں ماں اور بیٹے کے دل پر لگتی لیکن یہ خاموش کھڑے رہنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے تھے ،خاتون آخر میں ان کو ایک سلپ دیتی تھی اور جین کوم کی ماں اس پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے واپس چلے جاتے  ۔یہ برسوں اس عمل سے گزرتے رہے چنانچہ جب اسے کامیابی ملی تو اس نے اپنی اس کامیابی کو اس سینٹر کے ویٹنگ روم میں منانا کا فیصلہ کیا، اس نے 19 بلین ڈالر کی ڈیل پر فوڈ سٹمپ کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کئے، چیک لیا اور یہ سیدھا کاونٹر پر چلا گیا ،فوڈ سٹمپ دینی والی خاتون وہاں موجود تھی، جین کوم نے 19 بلین ڈالر کا چیک اس کے سامنے رکھا اور ہنس کر کہا "آخر مجھے نوکری مل گئی "!!! اور آنکھیں صاف کرتا ہوا سینیٹر سے باہر نکل گیا.

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -