پی ایم پورٹل پر درخواستوں کے ذریعے پولیس کو بلیک میل کیے جانے کا انکشاف

پی ایم پورٹل پر درخواستوں کے ذریعے پولیس کو بلیک میل کیے جانے کا انکشاف
پی ایم پورٹل پر درخواستوں کے ذریعے پولیس کو بلیک میل کیے جانے کا انکشاف

  

فیصل آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم کے شکایات پورٹل پر جھوٹی درخواستوں کے ذریعے پولیس اہلکاروں اور افسران کو بلیک میل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

نجی ٹی وی دن نیوز کے مطابق صنعتی شہر فیصل آباد میں نصر اللہ نامی شخص اور ساتھیوں  کی جانب سے پولیس ملازمین کے خلاف پرائم منسٹر پورٹل پر جھوٹی درخواستوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان درخواستوں کے ذریعے پولیس کے اعلیٰ حکام پر دباؤ ڈال کر اہلکاروں کے تبادلے کرائے جا رہے ہیں۔

فیصل آباد پولیس کی جانب سے بلیک میلنگ میں ملوث گروہ کی نشاندہی کے باوجود ان کی جانب سے پرائم منسٹر پورٹل پر شکایات کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس ملازمین کی جانب سے گروہ کے خلاف بلیک میلنگ کی درخواست کے باوجود حکام کارروائی سے گریزاں ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو بلیک میل کرنے والے گروہ کے سرغنہ نصراللہ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ جج کا اہل مند ہے اور اس کے ساتھیوں پر منشیات فروشی کے بھی مقدمات درج ہیں۔

اس گروہ کی جانب سے سی پی او فیصل آباد آفس میں تعینات جونیئر کلرک عاشق علی کے خلاف مجموعی طور پر 60 درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں سے 58درخواستوں کو جھوٹی اور بوگس قرار دے کر داخل دفتر کیا جاچکا ہے جبکہ ایک درخواست واپس پی ایم پورٹل کو بھجوائی گئی اور ایک درخواست پر کارروائی نہیں ہوئی۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اس گروہ کو بے تحاشہ اور غیر ضروری درخواستیں دینے کی وجہ سے ’عادی درخواست گزار‘ قرار دیا جاچکا ہے۔ ایس پی سپیشل برانچ فیصل آباد کی انکوائری رپورٹ میں ان درخواستوں کو بوگس قرار دیا گیا ہے۔

گروہ کے متاثرہ اہلکاروں نے سی پی او فیصل آباد، آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ جھوٹی درخواستیں دے کر بلیک میل کرنے والے گروہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -فیصل آباد -