راہ حق

راہ حق

  

    یہ قدیم زمانے کی بات ہے کسی ملک میں ایک بادشاہ ہوتا تھا۔اس بادشاہ کا شاہی محل بہت پرانا ہو چکا تھا اور وہ نیا محل بنانے کی فکر میں دن رات پریشان رہنے لگا تھا۔ایک دن وزیر نے موقع دیکھ کر کہا بادشاہ سلامت کیا میں آپ سے پریشان رہنے کی وجہ معلوم کر سکتا ہوں؟ بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ آپ تو جانتے ہی ہیں یہ محل ہمارے بزرگوں نے بنایا تھا اس کی خستہ حالت دیکھ کر ہمیں کچھ خوف سا محسوس ہونے لگا ہے۔شائد اب یہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔ہمارا خیال ہے کہ اسے گرا کر اسی جگہ پر نیا محل تعمیر کروایا جائے۔وزیر نے بادشاہ کی بات غور سے سن کر جواب دیا کہ بادشاہ سلامت ہمیں اس محل کو گرانے کی کیا ضرورت ہے ہم کسی دوسری جگہ پر بھی تو نیا محل بنوا سکتے ہیں پھر آپ کی یہ بزرگوں کی نشانی بھی اپنی جگہ محفوظ رہے گی۔

    بادشاہ وزیر کی بات سن کر خوش ہو گیا۔اگلے دن بادشاہ نے ایوان میں اپنے سبھی مشیروں اور وزیروں سے مشاورت کی جہاں سب نے بادشاہ کی بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا عالی جاہ!یہ آپ کا حق ہے نیا محل ضرور بننا چاہیے۔پھر بادشاہ نے کہا کہ پورے ملک میں اعلانِ عام کر دیا جائے جو شخص بادشاہ کے شاہی محل کا خوبصورت نقشہ کم از کم مدت میں تیار کرے گا اور اگر بادشاہ کو اس کا بنایا ہوا نقشہ پسند آگیا تو پھر اسے بادشاہ اپنا خاندانی شاہی گھوڑا انعام میں دے گے۔

    یہ انعام دولت حاصل کرنے سے کئی گنا زیادہ تھا۔سومنادی کے اعلان کرنے کے باوجود کوئی ایسا آدمی سامنے نہیں آیا جو بادشاہ کی بتائی ہوئی شرط پر پورا اتر سکے۔اس طرح وقت گزرتا رہا۔بادشاہ کی خواہش اب حسرت میں بدلنے لگی تھی۔پھر ایک دن وزیر نے بادشاہ کو بتایا کہ بادشاہ سلامت ایک شخص ایسا ہے جو آپ کی بتائی ہوئی شرط پر پورا اتر سکتا ہے لیکن وہ اس وقت کسی بڑے تاجر کے پاس غلام بن کر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔بادشاہ کے لئے ایک غلام خرید کر آزاد کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔

    بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ تاجر کو اس غلام کی منہ مانگی قیمت ادا کی جائے پھر غلام کو آزاد کروانے کے بعد اسے شاہی لباس پہنا کر عزت کے ساتھ ہمارے سامنے حاضر کیا جائے۔بادشاہ کے حکم کے مطابق وزیر اس تاجر کے پاس چلا گیا لیکن تاجر نے اپنا غلام آزاد کرنے سے انکار کر دیا۔جبکہ وزیر نے تاجر سے کہا”اس غلام کے بدلے میں آپ اور غلام بھی لے سکتے ہیں یا پھر منہ مانگی قیمت حاصل کرنا آپ کا حق ہے“لیکن تاجر نہ مانا۔

    بادشاہ وزیر کے واپس لوٹنے کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔وزیر نے حاضر ہو کر بادشاہ کو بتایا کہ بادشاہ سلامت تاجر اپنا غلام کسی بھی قیمت پر آزاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

    وزیر کی بات مکمل ہوتے ہی دربار میں ہلچل مچ گئی۔بادشاہ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور دربار میں موجود ایک وزیر بادشاہ سے کہنے لگا عالی جاہ!تاجر کی نافرمانی کی سزا تجویز کی جائے۔دوسرے وزیر نے کہا جو شخص بادشاہ کی نافرمانی کرے اسے اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

    تیسرے وزیر نے کہا جو شخص بادشاہ کا ادب و احترام نہیں کرتا اسے تو زندان میں ڈال دینا چاہیے۔

    پھر وزیر خاص نے بادشاہ سے اجازت طلب کرنے کے بعد کہا کہ میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔بادشاہ نے اسے بولنے کی اجازت دی تو اس نے کہا”عالی جاہ!ملک میں اچھے سے اچھا کام کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔بس انہیں ڈھونڈنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔اگر ایک شخص اپنا غلام آزاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو کیا ہوا اس سے نہ تو آپ کی شان میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی تاجر کا مرتبہ بلند ہو گا۔ ہمیں کسی بھی اجنبی کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے پہلے ایک بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے جیسا کہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:”ہمیں دوستی کا آغاز تحفہ دینے سے کرنا چاہیے،اس سے محبت بڑھتی ہے اور دوسرے فریق کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ تحفہ قبول کرے“۔

    بادشاہ وزیر خاص کی بات سن کر خوش ہو گیا۔اس نے کہا کہ آج وزیر خاص نے ہمیں بہت بڑی غلطی کرنے سے بچا لیا ہے۔ ورنہ ہم ضرور کچھ غلط کر بیٹھتے۔انسان کا رویہ ہی اس کی اصل پہچان ہے۔ہر کام کروانے کے لئے زور زبردستی کی ضرورت نہیں ہے۔میرے بادشاہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں کسی کو بھی بغیر جرم کئے جو مرضی سزا دے دوں۔اصل حکومت تو اللہ تعالیٰ کی ہے پھر میں کون ہوتا ہوں اس کے حکم کے بغیر کسی کو مجرم ٹھہرانے والا۔میں نے بھی  حشر والے دن اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے۔کیونکہ یہ حکومت مجھے اللہ تعالیٰ نے امانت کے طور پر دی ہے اور میں نے اس کا جواب بھی دینا ہے۔ یقینا اس کام کے لئے کوئی اور بھی حل ہو گا۔

    ایک دن تاجر اپنے دوستوں میں بیٹھ کر مزے مزے کے کھانے کھا رہا تھا اور غلام اپنے آقا کی خدمت میں مصروف تھا۔تاجر نے جب غلام کے چہرے پر نظر دہرائی تو وہ بہت پریشان لگ رہا تھا۔جب تاجر کے دوست چلے گئے تو تاجر نے غلام کو نہایت پیار اور محبت سے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ تمہاری آنکھوں میں آنسو!اس سے پہلے تو میں نے تمہیں اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا۔

    غلام نے جواب دیا میرے آقا آپ تو اپنے دوستوں میں بیٹھ کر مزے مزے کے کھانے کھاتے ہیں اور ڈھیروں باتیں کرتے ہیں۔اور ایک میں ہوں جو اپنے ماں باپ،بہن بھائیوں سے سینکڑوں میل دور ہوں اور اپنی زندگی کے دن گن گن کر گزار رہا ہوں۔

    تاجر غلام کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتا تھا۔کیونکہ اس نے غلام کو پیسے دے کر نہیں خریدا تھا بلکہ اس کے کسی دوست نے اسے تحفہ کے طور پر غلام دیا تھا۔پھر تاجر نے غلام سے سوال کیا کہ تم اپنی غلامی کی زندگی کب سے گزار رہے ہو؟آقا سے مخاطب ہو کر کہنے لگا”ایک دن میں اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل تھا اور جنگل میں ہرن پکڑنے کی غرض سے چلا گیا۔اس دن سخت گرمی تھی۔ایک پیاسا ہرن پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔میں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر اس کے پیچھے اپنا گھوڑا دوڑانا شروع کر دیا۔یوں میں نے اپنے تمام تیر ہرن پکڑنے میں استعمال کر دیئے۔ہرن بچ بچا کر دور نکل گیا لیکن میں اس بات سے بے خبر تھا کہ جہاں میں پہنچ چکا ہوں وہ بستی وہ جاگیر میرے وطن کی نہیں ہے۔شام کے سائے پھیلنے لگے تھے سورج مکمل طور پر غروب ہو چکا تھا۔دور یا نزدیک سے کوئی بھی چیز نمایاں نظر نہیں آرہی تھی۔پھر چند بدو لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے رسیوں سے جکڑ لیا۔چند روز انہوں نے مجھے اپنے پاس رکھا اور اس کے بعد انہوں نے کسی کے آگے فروخت کر دیا۔اس طرح نا جانے میں کتنے ہاتھوں میں بکنے کے بعد آپ کے دوست کی ملکیت بن گیا۔پھر اس نے مجھے بطور تحفہ آپ کے حوالے کر دیا۔یہ تھی میری کہانی۔

    تاجر نیک دل اور سخی تھا۔اس نے غلام کی کہانی سننے کے بعد کہا”میں نے تمہیں آزاد کیا،میں نے تمہیں اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا“۔

    غلام نے آزادی حاصل کرنے کے بعد کہا۔جب میں اللہ کی یاد سے غافل تھا تو غلامی میرا مقدر بن گئی اور جب میں نے اللہ کا ذکر کثرت سے کیا تو اللہ پاک نے میری رہائی کا خود ہی انتظام کر دیا۔تاجر نے اپنے آزاد کئے ہوئے غلام سے کہا کہ سچ کہا تم نے میں بھی اب تک اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل تھا جو انسانوں کی تجارت کو وسیلہ رزق سمجھ بیٹھا تھا۔اب جب تم نے مجھے اللہ کے خوف کا احساس دلا ہی دیا ہے تو میں اللہ کی رضا کے لئے اپنے تمام غلام آزاد کرتا ہوں۔غلام کی بات پر تاجر پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے اللہ کی رضا کے لئے اپنے تمام غلام آزاد کر دیئے۔ اب ہر وقت تاجر اللہ کی یاد میں رہنے لگا تھا۔وہ دنیاوی کاموں کو چھوڑ کر آخرت کی فکر میں لگ گیا تھا۔اور نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا تھا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بادشاہ کا شاہی محل بھی بن چکا تھا۔بادشاہ نے اپنے محل کی پرانی عمارت کو مرمت کروانے کے بعد مدرسہ کے لئے وقف کر دیا تھا۔یوں ملک میں تعلیم کا نظام عام ہو گیا۔

    سچ ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور انسان اپنے عمل سے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -