فنانس ٹیموں کو تبدیلی قبول کرنے اور ٹرانسفارمیشن کے عمل میں کردار کی ہدایت

فنانس ٹیموں کو تبدیلی قبول کرنے اور ٹرانسفارمیشن کے عمل میں کردار کی ہدایت

  

لاہور(پ ر)کووڈ19-، موسمی تبدیلی اور ٹیکنالوجی میں جدت کے باعث اداروں کو تیزی سے ہونے والی تبدیلی کا سامنا ہے۔لہٰذا،ان اداروں میں کام کرنے والے فنانس کے عملے کو یہ تبدیلی قبول کرتے ہوئے  راہنما کا کردار ادا کرنا چاہییتاکہ خطرات سے بچا جا سکے۔ یہ بات ”ٹرانسفارمیشنل  جرنیز: فنانس اینڈ دی ایجائل آرگنائزیشن“ کے عنوان سے دی ایسوسی ایشن آف سرٹیفائیڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس،چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آسٹریلیا اینڈ نیوزی لینڈ اور جنریشن سی ایف او کی جاری کردہ مشترکہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں اس بات کی تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اداروں میں فنانس اور اکاؤنٹنسی سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کے مقصد کے یقینی ہونے کی بھی ضرورت ہے تاکہ اْن کا مستقبل سے تعلق یقینی بنایا جا سکے۔ ادارے کے سائز سے قطع نظر، اکاؤنٹنسی اور فنانس سے تعلق رکھنے والے  پیشہ ور افراد،جہاں وہ کام کرتے ہیں، تبدیلی کے عمل میں اپنا مؤثر کردار یقینی بنا سکیں۔ اس کے لیے یہ بات نہایت اہم ہے کہ فنانس کی ٹیم کس طر ح ادارے کے اہداف کے مطابق ہے۔فنانس کی ٹیموں کا کرداراپنے دائرہ کار،مینجنگ آپریشنل، موسمی تبدیلی اور نان-فنانشل ڈیٹا اور مؤثراور عمدہ طریقوں سے حاصل کردہ انتہائی قابل اعتبار ڈیٹا اینالیٹکس کی بنیاد انسائٹس کی فراہمی کے حوالے سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔لہٰذا، اْنھیں ادارے کی کارکردگی اور کنٹرول کیایجنڈوں  پرانسفارمیشن کے لیے کلیدی پلیئرز کے طور پر مرکزی حیثیت حاصل ہونا چاہیے۔

۔ اس بارے میں اے سی سی اے کی چیف ایگزیکٹو ہیلن برانڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:”ٹرانسفارمیشن میں فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کا کردار واضح ہے۔اس کردار کی نوعیت اْس ویژن کی وسعت پر منحصر ہے کہ خود فنانس کس طرح ادارے کے مستقبل کے لیے اپنا حصہ ادا کرسکتا ہے۔ اس نہ رْکنے والی تبدیلی کے باعث فنانس کی ٹیموں کو مستقبل کے حوالے سے آگے سوچنے اور مستعد رہنے کی ضرورت ہے۔“ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آسٹریلیا اینڈ نیوزی لینڈ کی چیف ایگزیکٹو ،انسیا فین آنسلین (Ainslie van Onselen)  نے اضافہ کرتے ہوئے کہا:”اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تبدیلی کی رفتار میں تیزی آتی رہے گی۔ اس تیزی کے لیے تیاررہنا فنانس اور اکاونٹنسی سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو اس قابل بنائے گا کہ وہ ٹرانسفارمیشن کے عمل اور ادارے کی طویل المیعاد کامیابی یقینی بنانے میں اپنا  بھر پور کردار ادا کریں۔“ جنریشن سی ایف او کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، کرس آرجنٹ (Chris Argent)نے اپنے تبصرے میں کہا:”ایک موقع پر میں خود بھی فنانس ڈائریکٹر رہا ہوں لہذا میں یہ مشورہ دوں گا کہ اکاؤنٹنٹس کو اْن امکانات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ اپنے اداروں کی ترقی اور مستقبل کے تعین میں کس طرح اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ صرف ٹیکنالوجی میں ہونے والے اضافے پر زور دینا نہیں ہے بلکہ  ثقافتی تبدیلیوں کو اس طرح سمجھنا بھی ہے کہ وہ وبا کے دوران  کام کرنے کے طریقوں میں کس طرح اہمیت اختیار کی ہے۔“

مزید :

کامرس -