مشینی ووٹنگ کو اَنا کا مسئلہ نہ بنائیں 

مشینی ووٹنگ کو اَنا کا مسئلہ نہ بنائیں 

  

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو جمعرات کے روز سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل تو پاس ہو گیا،لیکن کمیشن آئندہ انتخابات  ای وی ایم کے مطابق کروانے کا پابند نہیں،اس مشین کا استعمال اگلے الیکشن میں ہو گا یا نہیں، ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔اس کے استعمال میں کئی چیلنجز درپیش ہیں اور ہمیں اس سے پہلے14کٹھن مراحل سے گزرنا ہو گا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بریف کرتے ہوئے ای وی ایم کے استعمال میں درپیش مسائل اور  مشکلات کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ ہمیں اس منصوبے کے تین سے چار پائلٹ پروجیکٹس کرنا پڑیں گے، جس کے لئے خاصا وقت  درکار ہو گا۔ ایک پولنگ سٹیشن پر کتنی ووٹنگ مشینیں چاہئیں اس کا تعین بھی تاحال نہیں کیا جا سکا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کرنا پڑیں گی،جن میں وقت لگے گا، جبکہ ای وی ایم کا استعمال بھی آسان نہیں،کیونکہ اس مقصد کے لئے بھارت کو20 اور برازیل کو22سال کا عرصہ لگ گیا۔

الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کا یہ موقف درست معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال چشم زدن میں کیا جانا تو ممکن نہیں،بھارت میں یہ تجربہ 1982ء میں ہونے والے کیرالہ کے الیکشن سے کیا گیا تھا۔ وہاں بھی طویل عرصے تک اس کی پریکٹس اور ریہرسل کی جاتی رہی،ویسے بھی کمپیوٹر ٹیکنالوجی متعارف  ہونے کے بعد  حق رائے دہی کے استعمال میں دنیا ای وی ایم سے آگے نکل چکی ہے، کئی ممالک میں تو اس کا استعمال متروک بھی ہو چکا۔38ممالک میں اس کا استعمال کیا گیا، جن میں سے امریکہ اور جرمنی سمیت30ممالک نے اسے ترک کر دیا۔ہمارے ہاں شرح تعلیم سمیت جہاں اور بہت سے مسائل بھی موجود ہیں وہاں بینکوں یا دیگر تجارتی اداروں میں کمپیوٹر ڈیٹا بیس بھی محفوظ تصور نہیں کیا جاتا اور صارفین آئے روز اس حوالے سے شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں،کئی بار بینکنگ سسٹم بھی ہیک ہو چکا ہے، یہ جو مثال پیش کی جا رہی ہے کہ بلوچستان یا قبائلی علاقہ جات کے جن دور دراز دیہات میں بجلی اور کمپیوٹر کی سہولت موجود نہیں وہاں کے ووٹرز اپنا حق رائے دہی کس طرح استعمال کریں گے اس میں بھی وزن ہے، پھر اس قسم کے تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ جو ووٹرز بیلٹ پیپر پر مہر درست انداز میں نہیں لگا سکتے، وہ ای وی ایم کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدوار کو کیسے ”کلک“ کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ کے حالیہ الیکشن میں اپوزیشن کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے7ووٹ محض اس بنا پر مسترد کر دیئے گئے تھے کہ سینیٹرز نے یہ مطلوبہ خالی خانے کے بجائے مذکورہ امیدوار کے نام پر مہر لگا دی تھی۔ ایوانِ بالا کے معزز اراکین سے یہ حرکت سرزد ہو سکتی ہے تو ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ میں کیا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں بیلٹ پیپرز پر ہزاروں کی تعداد میں مہریں سیدھی کے بجائے الٹی لگا دی جاتی ہیں۔ ووٹرز کی اگر مناسب تربیت نہ کی جائے تو انتخابی نتائج شکوک و شبہات کو جنم دیں گے۔ ای وی ایم کے حوالے سے مبصرین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس کا ماسٹر برین کیا ہو گا۔ ووٹ ڈالتے وقت بٹن دبانے کا فریضہ کون انجام دے گا، اور اس امر کا فیصلہ کیسے ہو گا کہ ووٹ جس امیدوار یا جماعت کو ڈالے گئے ہیں اس کے کھاتے میں نکلیں۔

بھارت نے ڈیڑھ کرور الیکٹرانک ووتنگ مشینوں پر2019ء میں 126ارب پاکستانی روپوں کے برابر پیسہ خرچ کیا، 2023ئمیں پاکستان کو کتنے پیسے خرچ کرنا ہوں گے؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ہندوستان میں ایک ای وی ایم زیادہ سے زیادہ 64امیدواروں کے 3,840ووٹ ریکارڈ کر سکتی ہے‘ایک بیلٹنگ یونٹ میں 1.6امیدواروں کے لیے انتظام ہے اور زیادہ سے زیادہ  چار یونٹس کو جوڑا جا سکتا ہے۔اگر امیدواروں کی تعداد 64سے زیادہ ہو تو پولنگ کا روایتی بیلٹ بکس کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک مشینوں کا استعمال کرنا ہے تو حکومت کو ایک لاکھ 90ہزار سے زائد مشینیں (EVMs) درکار ہوں گی۔بھارت میں اب تک تقریباً 107 ریاستوں کے انتخابات اور تین پارلیمانی انتخابات ای وی ایم کا استعمال کرتے ہوئے کرائے جا چکے ہیں جس میں ووتنگ مشین انٹرنیٹ سے منسلک نہیں تھی۔

وزیراعظم صاف شفاف‘غیرجانبدار اور دھاندلی سے پاک انتخابات کے انعقاد پر مسلسل زور دے رہے ہیں لیکن اپوزیشن جماعتیں اور بعض غیر جانبدار حلقے اور تنظیمیں بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔اگرچہ انتخابی اصلاحات کا بل معمولی اکثریت سے پاس کروا لیا گیا، لیکن اپوزیشن کی ایک بڑی تعداد کے تحفظات تاحال دور نہیں ہوئے۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ای وی ایم کے حوالے سے تمام پارلیمانی جماعتوں، الیکشن کمیشن آف پاکستان ای وی ایم کے ماہرین سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لے کر سارے اعتراضات،مشکلات، مسائل اور تحفظات کا باریک بینی سے جائزہ لیاجائے۔حکومت اس سلسلے میں تمام اقدامات بروئے کار لائے اور آئندہ انتخابات کوبروقت اور شفاف بنانے کے لئے اگر ای وی ایم کا استعمال ضرور ی ہے تو اس پر اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے۔اسے ضد اور اَنا کا مسئلہ نہ بنایا جائے،اس سے حالات الجھیں گے،اور شفاف انتخابات کا جو خواب جناب وزیراعظم کی طرف سے دیکھا اور دکھایا جا رہا ہے،وہ چکنا چور ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -