سموگ ایک نئی وباء‘ انسانوں کا اپنا قصور ہے؟

 سموگ ایک نئی وباء‘ انسانوں کا اپنا قصور ہے؟
 سموگ ایک نئی وباء‘ انسانوں کا اپنا قصور ہے؟

  

 کورونا کی وباء کی وجہ سے احتیاط لازم تھی‘اس لئے سیر صبح ترک کرنا پڑی اور صحت کے لئے دوسرے مروجہ طریقے اختیار کئے۔جب ویکسی نیشن شروع ہوئی تو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر سنٹر پہنچ کر ویکسین لگوا لی اور پھر یاد سے دوسری ڈوز کی بھی تکمیل کی۔اس کے بعد گاہے گاہے صبح کو دوستوں سے گپ شپ بھی کرتے رہے۔اس پورے عرصہ میں ماسک کی باقاعدہ عادت بنا لی جو اب تک بھی جاری ہے۔لیکن اب یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ عادت مجبوری بن کر ساتھ رہے گی کہ ویکسین کے باوجود ماہرین کی رائے ماسک ہی کے حق میں ہے کہ ابھی مکمل طور پر وباء کنٹرول نہیں ہو سکی۔اگرچہ مثبت کیسوں کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔خیال تھا کہ دسمبر تک شاید یہ بھی ممکن ہو کہ سانس آزادی سے لیا جا سکے‘ لیکن قدرت کو منظور نہیں‘ کیونکہ ہم انسان جو انسانیت اور انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔حالات کو اس نہج پر لے آئے ہیں کہ یہ ماسک لباس کی طرح انسانی جسم ہی کا ایک حصہ بن گئے ہیں اب اگر کورونا ویکسی نیشن والے حضرات کی محفل میں ماسک اتارا جا سکتا ہے تو گھر سے نکلتے وقت لازماً ماسک پہننا ہو گا کہ اب کورونا سے زیادہ سموگ نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔اور کھلی فضا میں سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔آج صبح جب گھر سے دفتر کے لئے روانہ ہوئے تو راستے میں بنک رکنا پڑا کہ بائیومیٹرک لازم کرانا تھی۔

پھر جب وحدت روڈ سے مڑنے کے بعد کینال روڈ پر آئے تو اللہ سے پناہ مانگنا پڑی کہ لاہور کی اس مرکزی نہر کے ہر طرف دھوئیں جیسی دبیز تہ نظر آ رہی تھی اور یہ احساس ہوتا تھا کہ جیسے بادل چھائے ہوئے ہوں، لیکن یہ بادل نہیں سموگ ہے کہ اس کی شدت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔آج تو لفٹ مل گئی اور کار میں دفتر آئے لیکن خواہش کے باوجود گاڑی کے شیشے نہ کھول سکے‘ حالانکہ لاہور میں اور کہیں سبزہ ہو نہ ہو اس نہر کے کنارے اور اردگرد درخت ضرور ہیں۔جب کبھی بھی ادھر سے گزر ہو امرود اور جامن کے درختوں سمیت سایہ دار درخت نظر آئیں تو مرحوم میجر جنرل(ر) انصاری صاحب کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔جب وہ ایل ڈی اے کے چیئرمین تھے تو انہوں نے جلو سے ٹھوکر نیاز بیگ تک بڑی یکسوئی سے شجرکاری کرائی اور اس میں امرود اور جامن کے علاوہ بیڑی پتہ کے پودے بھی لگوائے تھے۔یہ سب آج بھی موجود ہیں۔یقیناایل ڈی اے کے موجودہ حکام ان سے مستفید بھی ہوتے ہوں گے۔بہرحال مجھے یہ شکایت ہے کہ یہ نہر اور اس کے کناروں کے ساتھ سڑکوں کے اطراف میں گرین بیلٹ توجہ کی منتظر ہے۔ نہر کے کناروں اور گرین بیلٹوں میں کئی درخت اپنی عمر پوری کر کے سوکھ چکے ہیں۔یہ سب جوں کے توں ہیں ان کو نکال کر ان کی جگہ تازہ شجرکاری نہیں کی گئی اور یوں کئی جگہ یہ حصہ گنجا سا بھی نظر آتاہے۔

بات سموگ سے شروع ہوئی تو یہ مسئلہ بھی یاد آ گیا۔میرے کئی قارئین اور دوستوں کو شکوہ ہے کہ سیاست تووہی ہے جو سب دیکھتے چلے آ رہے ہیں اور قلم کار حضرات نے اپنی توجہ ادھر مبذول کر رکھی ہے۔حالانکہ اور بھی غم ہیں زمانے میں اس سیاست کے سوا تو کچھ عوامی مسائل کا بھی ذکرہونا چاہئے۔ اسی لئے مجھے یاد آیا بلکہ صبح صبح ہی سموگ سے واسطہ پڑا تو از خود اس پر لکھنے کو جی چاہا کہ ایک طرف کورونا اور ڈینگی جیسے امراض نے دکھ دے رکھا ہے تو اب سموگ نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔میں نے آج کی جو کیفیت بیان کی یہ صرف میرا ہی مشاہدہ نہیں ہے۔ہرراہ گزر کو اس سے واسطہ پڑتا ہے کچھ تو میری طرح لکھ کر دل کا غبار نکال لیتے ہوں گے لیکن مجموعی طور پر لوگ اب اس نہج پر پہنچ گئے کہ وہ دل ہی دل میں کچھ کہہ کر اپنے کام کے لئے گزرتے جاتے ہیں۔اسے ایمان کا کمزور درجہ قرار دیا جاتا ہے۔ہم سب پر تو فرض ہے کہ ہم نہ صرف اس کے خلاف آواز بلند کریں بلکہ خود بھی دیکھیں کہ کہیں ہم کسی موٹرسائیکل یا کار کی وجہ سے اپنا حصہ تو نہیں ڈال رہے کہ یہ سموگ خود انسان کا پیدا کردہ اور انسانی لاپرواہی کا ہی حصہ ہے۔

کئی بار ذکر ہو چکا کہ میری پیدائش اندرون لاہور کی ہے اور دنیا میں قیام پاکستان سے پہلے ہی آ گیا تھا یوں لڑکپن ہی میں قیام پاکستان کی تحریک کو دیکھ لیا تھا جب میں نے ہوش سنبھالا اور سکول جانے لگا تو میرا شہر حقیقی طور پر باغات کا شہر تھا پرانے شہر کے اردگرد بہت خوبصورت اور گنجان باغات تھے۔ان کو سرکلر باغات کہا جاتا تھا۔ہمارا بچپن انہی باغات میں کھیل کود کر گزرا‘لوئر مال‘ مال روڈ اور اپرمال سایہ دار درختوں کی وجہ سے شدت کی گرمی میں بھی راہ گیروں کو ٹھنڈک کا احساس دلاتی تھیں۔فیروز پور روڈ‘ جیل روڈ‘ اور لارنس روڈ پر بڑی بڑی کوٹھیاں اور سڑک پر سایہ دار درخت تھے‘اب کیا دور آ گیا کہ ترقی نے یہ سایہ ہی چھین لیا‘ شہر والے سرکلر باغات سڑک کی  توسیع اور تجاوزات کی وجہ سے معدوم ہو گئے۔لوئرمال اور اپرمال کے درخت بھی سڑکوں کی توسیع کی نذر ہوئے اور مال روڈ بھی چھدری ہو گئی۔سبزے کی کمی موسم کی تبدیلی کا باعث بن گئی۔کیسا دور تھا جب کبھی ایسی کسی علامت کا نام تک نہیں سنا گیا جسے سموگ کہتے ہیں۔

اس سموگ کی سائنسی وجوہات بیان کی جاتی ہیں تو علم ہوتا ہے کہ حضرت انسان نے خود یہ اہتمام کیا ہے دریائے راوی کا پانی طاس سندھ معاہدہ کے تحت بھارت کے حوالے کر دیا گیا تو راوی خشک ہو کر گندہ نالہ بن گیا۔پھر جو بند سیلاب سے شہر کو بچانے کے لئے بنائے گئے ان کے اندر تعمیرات ہو گئیں اور یہ تعمیرات رہائشی اور تجارتی و صنعتی بھی ہیں۔بند کے اندر چوہنگ سے محمود بوٹی اور سائفن تک سریا بنانے اور اسی نوعیت کی دوسری صنعتیں قائم ہو گئیں جو بھٹیوں والی ہیں اور ان بھٹیوں کی چمنیوں سے کثیف دھواں نکل کر پھیلتا ہے اور یہ کثیف دھواں بہت ہی مضر صحت ہوتا ہے کہ ان بھٹیوں میں ایندھن کے طور پر پرانے ٹائر بھی جلائے جاتے ہیں۔اس حد تک ہی اکتفا نہ ہوا، وقت آگے بڑھا تو جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف اور ملتان روڈ کے اردگرد لاہور سے گجرات اور دوسری طرف سے پتوکی تک صنعتی علاقے بن گئے۔

یہاں تک ہی نہیں شہر پھیلے‘ تعمیرات کا آغاز ہوا تو اینٹوں کے بھٹے بھی لگائے گئے اب آپ لاہور کو مرکز مان کر جی ٹی روڈ سے جہلم تک،ملتان روڈ سے ساہیوال تک شیخوپورہ سے فیصل آباد تک چلتے چلے جائیں تو ہر طرف صنعتیں ہی نظر آئیں گی اور ان میں سے بیشتر کی چمنیاں دھواں اگل رہی ہوں گی۔اسی درمیان بھٹہ خشت بھی آ جاتے ہیں۔

آج سارا زور کھیتوں میں فصلوں کی باقیات جلانے پر دے کر اس صنعتی آلودگی کی طرف سے نظریں چرائی جاتی ہیں۔یہ صنعتیں قواعد کے تحت انسداد آلودگی کے آلات کی تنصیب کے لئے پابند ہیں۔لیکن نہ تو صنعتی پھیلاؤ کو روکا گیا اور نہ ہی ان کی چیکنگ ہوتی ہے کہ آلودگی کا ذریعہ نہ بنیں۔ اس کے علاوہ کوڑا جلانے کی بدعادت عام ہے اور یہ سب انسداد کے ذمہ دار محکموں کی غفلت کے باعث ہوتا ہے۔اب جہاں عوام کو احتیاط کی ضرورت ہے۔وہاں ذمہ دار محکموں کے محاسبے کی بھی ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ جو ذمہ دار ہیں‘انہی کو تھپکی دے کر کہا جائے کہ درست کرو‘ سموگ کی جو کیفیت ہے یہ کورونا کی طرح ایک پوری وباء ہے۔لوگ پہلے ہی بیمار اور کمزور ہیں اب وہ آکسیجن سے محروم ہو گئے ہیں۔سیاست کو ذرا الگ رکھ کر ادھر بھی تو توجہ دیں کہ صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -