تعلقات میں بہتری لانے کیلئے ہمسائیہ ممالک سے ڈائیلاگ ضروری: یوسف رضا گیلانی 

تعلقات میں بہتری لانے کیلئے ہمسائیہ ممالک سے ڈائیلاگ ضروری: یوسف رضا گیلانی 

  

ملتان، مخدوم رشید (سٹی رپورٹر،نمائندہ خصوصی)سابق وزیر اعظم و قائد حزب اختلاف سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا نام تاحال ای سی ایل سے نہیں ہٹایا گیا، جس کی وجہ سے ناروے کے شہر اوسلو میں عالمی تنظیم فانڈیشن ڈائیلاگ فار پیس میں شرکت نہیں کر سکے، اور کانفرنس میں بذریعہ ویبینار آن لائن خطاب کیاسابق وزیراعظم و قائد حزب اختلاف سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے قیام امن، انتہا پسندی (بقیہ نمبر48صفحہ6پر)

کے خاتمے اور سیکورٹی کے درپیش مسائل کو حل کرنے میں بین المذاھب ہم آہنگی کو کلیدی عنصر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پڑوسی ممالک کو اعتماد اور باہمی تعاون کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیئے وقت آگیا ہے کہ ہر معاملے اور فیصلے میں تمام انسانوں کے لئے برابر ی اور بنیادی حقوق کے تصور کو ترجیح دی جائے ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر اور فلسطین جیسے علاقوں میں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کو دیکھا جاسکتا ہے حقیقی پائیدار امن کے حصول کے لئے انتہا پسندی کا خاتمہ مخلصانہ مکالمے اور عمل سے ہی ہوسکتا ہے ان عناصر کے بغیر دنیا میں کہیں بھی امن قائم نہیں ہوسکتا دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے آج پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں سب سے زیادہ تجربہ کار ملک کے طور پر کھڑا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوسلو میں سیکیورٹی اور انتہا پسندی سے مقابلے کے حوالے سے منعقدہ ویبنار سے ویڈیو لنک خطاب میں کیا سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں سیکورٹی اور سلامتی کو جدید دور کی پہچان سمجھا جاتا ہے انتہا پسندی، عدم برداشت، جیو پولیٹیکل اور جیو اکنامک ہتھکنڈیانتہا پسندانہ نظریات کو جنم دیتے ہیں یہ عوامل تمام ممالک کے لیے سلامتی کے خدشات میں بدل جاتے ہیں پاکستان تقریبا دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی قیادت کر رہا ہے د ہشت گردی کے خلاف پاکستان نے تمام ممالک سے مجموعی طور پر زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی 70,000 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور ملکی معیشت کو 130 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا دنیا بھر میں بڑھتی انتہا پسندی مساوات اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے ہٹ کر جمہوریتوں کے سکڑنے کی نشاندہی کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ پا رلیمنٹ کی کوششوں سے نیشنل کانٹر ٹیررازم اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا حکومت نے پروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس 2013 کی منظوری دی اور الیکٹرانک کرائم کی روک تھا کے لئے الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 پاس کیا گیاآئینی ترمیم کے ذریعے انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتیں قائم کیں د ہشت گردی  کے خاتمے کے لئے پارلیمنٹ نے 2015 میں نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی کامیاب آپریشن کے باوجود دہشت گردی کو شکست دینے اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کا ہمارا قومی عزم مستحکم ہے آج پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں سب سے زیادہ تجربہ کار ملک کے طور پر کھڑا ہے،پاکستانی پارلیمان نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 منظور کیا ایکٹ کا مقصد دہشتگردی کے لئے فنانسنگ کو روکنا تھا سید یوسف رضا گیلانی نے  انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی پارلیمنٹ کے بہترین کردار کی نشاہدہی کی اور دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے قوانین پر بھی روشنی ڈالی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -