مخمصے کا حل 

مخمصے کا حل 
مخمصے کا حل 

  

آجکل حکومت کی ہوا اکھڑی ہوئی ہے معیشت تو شروع سے ہی اس حکومت کا مسئلہ تھا لیکن کئی سال انہوں نے یہ کہہ کر گزار لئے کہ یہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے لیکن اب یہ دلیل بھی کافی کمزور ہو گئی ہے اور مہنگائی نے تو سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور حکومت کے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔ معاشی اعشاریئے مسلسل منفی جا رہے ہیں اب ڈالر 77 روپے تک پہنچ گیا ہے درمیان میں کچھ مثبت رحجان ظاہر ہوا تھا لیکن وہ وقتی تھا۔ معاشی کے بعد اب سیاسی ماحول بھی منفی اشارے دے رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں جن میں دراڑ پڑ گئی تھی اب پھر اکٹھی ہو رہی ہیں۔ مقتدر حلقومں کے ساتھ ایک پیج پر ہونے والی بات بھی شکوک و شبہات کا شکار ہو گئی ہے۔ بڑے بڑے کالم نگار اور اینکر حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں پتہ نہیں کہ یہ صرف مایوسی ہے یا کہیں سے کوئی اشارہ ہے کیونکہ کچھ نمایاں اینکر اپنی مایوسی باقاعدہ ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

اس صورتحا ل میں یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ مایوس عناصر خصوصاً صحافی اور سینئر تجزیہ نگار ایک مخمصے کا شکار ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ عمران خان ناکام ہو چکے ہیں لیکن اُن کا متبادل کیا ہے؟ اُن کے خیال میں ”چور“ اور ”ڈاکو“ قیادت کو عمران خان کا متبادل قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ عمران خان کو ہٹایا گیا تو نوازشریف پھر وزیراعظم بن جائیں گے حالانکہ وہ تاحیات نااہل ہو چکے ہیں گویا نواز شریف کا ووٹ بینک قائم ہے۔ لوگ صرف ایک فیکٹر یعنی کرپشن کے پروپیگنڈے کو زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں۔ دراصل سیاست دو اور دو چار کا کھیل نہیں بلکہ سیاست بہت وسیع اور پیچیدہ کھیل ہے۔ کرپشن کے علاوہ مسلم لیگ کے خلاف یہ بھی بڑی دلیل دی جاتی ہے کہ بڑی جماعتوں میں موروثیت حاوی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے باریاں لگائی ہوئی تھیں یعنی دو پارٹیوں کا نظام بھی قابل قبول نہیں حالانکہ امریکہ جیسے ملک میں دو پارٹی نظام کامیابی سے کام کر رہا ہے وہاں تو باریوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ موروثیت بھی صرف پاکستان میں نہیں بہت سے ملکوں میں ہے اور حتیٰ کہ امریکہ میں بھی اس کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ دراصل ہماری قوم ہیرو کی تلاش میں رہتی ہے جو تمام برائیوں سے پاک ہو۔ عمران خان کی کامیابی اسی نظریئے کی فتح تھی لیکن افسوس کہ لوگ تین سال میں مایوس ہو گئے ہیں۔ کیا واقعی لوگ ایماندار لیڈر چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ لیڈر موروثیت سے بلند ہو اگر ایسا ہے تو پھر انہیں جماعت اسلامی کو ووٹ دینا چاہئے کیونکہ جماعت اسلامی میں موروثیت بالکل نہیں اور لیڈر ایماندار ہیں اور رہے ہیں۔ لیڈر کیا اُن کے کارکنوں پر بھی کرپشن کا کوئی سکینڈل آج تک سامنے نہیں آیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ انہیں ووٹ نہیں دیتے یہاں میں پھر وہ بات دہراؤں گا کہ سیاست اتنا سادہ کھیل نہیں۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔

سیاستدانوں سے مایوسی کے بعد ہم نے بہت کچھ آزمایا ہے۔ چار دفعہ اقتدار فوج کے پاس رہا۔ عموماً ہم نے انہیں شروع میں خوش آمدید کیا اور بڑی توقعات باندھ لیں لیکن پھر وہی مایوسی۔ بیرون ملک سے قیادت درآمد کرکے بھی ہم نے دیکھ لیا۔ ایوب خان کے زمانے میں وزیر خزانہ شعیب سے لیکر آج تک سوائے چند وقفوں کے ہم وزیر خزانہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے حاصل کرتے رہے ہیں پھر دو وزیراعظم بھی باہر سے حاصل کئے گئے لیکن آج بھی ہم مایوسی میں گھر۔ ہوئے ہیں۔ 

آخر اِس مخمصے کا حل کیا ہے؟ پہلی بات یہ کہ ہمیں ہیرو درشپ کو چھوڑنا ہو گا ایک مغربی مفکر نے کہا تھا کہ ”بدقسمت ہے وہ قوم جسے ہیرو کی تلاش رہتی ہے“  ذرا سوچیں کہ 22 کروڑ لوگوں میں سے کوئی ایک آدھ آدمی ہی قابل اور ایماندار ہو گا جس کے ہاتھ حکومت کی باگ ڈور دی جا سکتی ہے، کیا یہ ایک قوم کی توہین نہیں، کیا قدرت نے پاکستان کے کروڑوں لوگوں کی صلاحیتوں کے مقابلے میں ناانصافی کی ہے ایسا ہرگز نہیں۔ ہماری غلطی یہ ہے کہ سسٹم کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور شخصیتوں کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ ہم اداروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ اُن سے محاذ آرائی کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہم سب پر اپنی پسندیدہ شخصیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں رائے عامہ بنانے والے ماہرین انتخابات سے پہلے ہی آئندہ وزیراعظم طے کرنا چاہتے ہیں گویا الیکشن کی کوئی اہمیت نہیں۔ سیاسی نظام ہم نے پہلے دن سے جو طے کیا تھا یعنی پارلیمانی نظا م اسے قائم رہنے کی ضرورت ہے۔

مسئلے کا حل یہ ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں اور شفاف ہوں اس کے نتیجے میں جو قیادت منتخب ہوتی ہے اُسے قبول کرنا چاہئے اس سے مختلف راستہ اختیار کرکے ہم آج تک مایوسی کا شکار ہیں۔ مغربی دنیا میں یہی نظام یعنی جمہوریت کامیابی سے چل رہی ہے لیکن ہم اس سسٹم کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں اور ذاتی  گروہی، لسانی تعصبات کا شکار ہیں۔ جمہوریت میں یقیناً بہت سی خرابیاں ہیں لیکن اس سے بہتر نظام ابھی دنیا میں سامنے نہیں آیا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس سسٹم میں بہتری کیلئے کچھ تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً فرانس نے Proportional نظام اپنایا ہوا ہے ہم بھی کسی حد تک یہ تبدیلی کر سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال کی بجائے چار سال کر سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ارکان کیلئے کوئی تعلیمی شرط رکھ سکتے ہیں۔ پارٹیوں کو منظم اور موثر بنانے کیلئے کچھ شرائط عائد کی جا سکتی ہیں البتہ انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے تمام فریقوں کو اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا۔ میرے خیال میں عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے چاہئیں کم از کم سیاسی تاریخ سے یہ دھبہ تو دور ہو جائے کہ آج تک کسی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔ موجودہ حکومت کے پانچ سال پورے ہونے پر شفاف انتخاب کا انعقاد ہونا چاہئے اور جو پارٹی منتخب ہو اُسے اقتدار منتقل کر دینا چاہئے۔سیاسی عمل میں تسلسل اور شفافیت ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔ جو نظام ہم نے اپنایا ہوا ہے اُس پر اُس کی روح کے مطابق عملدرآمد کے علاوہ کامیابی کا اور کوئی راستہ نہیں۔ خالی جگہ پر گھاس خودبخود اُگ جاتی ہے لیکن جمہوریت کے پودے کی باقاعدہ آبیاری کرنی پڑتی ہے اس کے لئے ہم تیار نہیں  لیکن اس نظام کا پھل کھانا چاہتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -