”سَموگ ایک آفت ہے“

”سَموگ ایک آفت ہے“
”سَموگ ایک آفت ہے“

  

غروب ِآفتاب کے بعد لاہور ملتان موٹروے پر جاتے ہوئے، اطراف میں آگ کے شُعلے لَپکتے دِکھائی دیئے۔تھوڑی دیر کے لئے سانس لینے میں دُشواری کا احساس ہوا۔ غالباً آگ سے اُٹھنے والا دھواں اپنا آپ محسوس کرا رہا تھا۔دُوردراز تک لگی آگ کو دیکھ کر یک لحظہ کسی ہنگامی صورتِ حال کا شُبہ ہوا۔ تاہم اپنی معاشرتی روایت سے آگاہ ہونے کی وجہ سے یقین ٹھہرا کہ یہ آگ لگی نہیں لگائی گئی ہے۔ جب دَھان کی فصل ہاتھ سے کاٹتے تھے توکھیت میں اس کی باقیات تھوڑی رہتی تھیں۔لیکن جب سے مشینوں سے کٹائی کا آغاز ہوا ہے، کم سے کم ایک تہائی حصّہ جَڑ کے ساتھ باقیات کی صورت میں کھیت میں پیچھے کھڑا رہ جاتا ہے۔کسان اگلی فصل کی کاشت سے قبل، اس سے نجات حاصل کرنا لازمی سمجھتا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے دَھان کی باقیات کو آگ لگا دی جاتی ہے۔اگرچہ زمیندار کو حصولِ مقصد میں کامیابی تو مل جاتی ہے۔ تاہم ماحول کی پراگندگی میں دھواں اپنا باقاعدہ حصّہ ڈال دیتاہے۔ایک زمیندار سے جب اِس آگ سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے ماحول پر مُضر اثرات کے بارے میں بات ہوئی تو کہنے لگا کہ دوسرے کاشتکار بھی آگ لگاتے ہیں،میں کوئی اکیلا تو یہ کام نہیں کر رہا۔پھر کہنے لگا کہ آپ کی نظر صرف کھیتوں پر ہی کیوں جم کے رہ گئی ہے۔شہر کے مضافات میں پھیلے ہوئے بھٹّوں کی چمنیوں پر کیوں نہیں جاتی۔کھیتوں میں تو صرف خس جلتی ہے، جبکہ بھٹّوں کی چمنیوں سے اُٹھنے والے دھوئیں کے پیچھے زہر آلود مواد جل رہا ہوتا ہے۔ 

معاشرتی اور سماجی ذِمّہ داری سے نابلد افراد ہمیشہ اس تیقُّن کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ جینا اور کمانا بس اُنہی کا حق ہے، خواہ جس ڈَھنگ سے جیئیں یا کمائیں۔بھلے اُن کے قُرب و جَوار میں رہنے والے افراد اُن کی ذاتی آسائش اور آرام کے عِوض اَذیّت کی سُولی پرلٹکے رہیں،انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔معاشرے نے ایسے ضرررساں مزاجات کے آزاد خیال رَویّوں کے سامنے سرِ خم تسلیم کر رکھا ہے۔جس سے بے حسی،وَبا کی طرح پھیل کر ہرکس وناقص کے اَعصاب کو متاثّر کر چکی ہے۔ہر شخص غلط کام میں حصّہ ڈالنے کا حق اس لئے رکھتا ہے کہ وہی کام دوسرے جو کر رہے ہیں۔زمیندار دَھان کی باقیات کو آگ اس لئے لگا رہا ہے کہ بھٹّوں والے اس سے زیادہ ضرررساں دھواں پیدا کر رہے ہیں۔بھٹّوں والے یہ کام کرنے کا استحقاق اس لئے رکھتے ہیں کہ شہر میں ٹاؤن کمیٹی والے پولی تھین مِلے کوڑے کو جلا کر فضاء کومکدّر کرتے رہتے ہیں۔

 اگر کوئی سہواً یا اِرادتاً کسی”قباحت“کی نشاندہی کر گزرتا ہے تو اُسے پاگل، سَر پھرا، یاسَنکی طبیعت کا مالک ہونے کالَقب ملتا ہے۔ کون نہیں جانتا، عوامی جگہ پر تمباکو نوشی منع ہے اورکچھ لوگ بڑھی ہوئی حساسیّت کے باعث دھوئیں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اُنہیں فی الفور متلی ہونے لگتی ہے یا چھینکیں آنے لگتی ہیں۔اُنہیں فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ اطراف میں کوئی”مہذّب شخص“اپنی طبیعت کو ”ہلکا“ کر رہا ہے۔مگر وہ جرّأت نہیں کر سکتے کہ تمباکو نوش کے آگے ہاتھ جوڑ کر اسے تمباکو نوشی سے باز رکھ سکیں۔وہ اس کی طرف بس ایک ناگوارسی نگاہ ڈالنے کے بعد اپنے ناک اور منہ پر کپڑا یا ٹشو پیپر رکھ کرکوئی محفوظ کونہ تلاش کرتے ہیں۔ٹریفک کے اشارے پر رُکی گاڑیوں میں سے کبھی کبھار کوئی موٹر سائیکل،رکشہ،ٹرک یا کار،کان پھاڑتی آواز کے ساتھ ساتھ دھوئیں کے بھنبے چھوڑرہی ہوتی ہے۔مگر پاس کھڑی گاڑی پر سے کوئی شخص اتر کر اُسے سمجھانے کی جرّأت کا ارتکاب کبھی نہیں کرے گا۔

آج سموگ کا سَماں گہرا ہوتا جا رہا ہے۔قومی شاہراؤں پر حفاظتی اِقدامات، اوقات کے تعیّن اوردیگر عوامل سے ذرائع رسل ورسائل مسلسل آگاہ کر رہے ہیں۔مگر گاڑیوں سے جُھولتی اِن سڑکوں کے اطراف میں دھوئیں کے بادل مسلسل اُٹھ رہے ہیں۔نہ کسی کی نجی حیثیّت میں اور نہ ہی سرکاری حیثیّت میں جرأت بن پا رہی ہے کہ اپنا معاشرتی فریضہ ادا کرنے کے لئے آگے بڑھے۔ کتنی بارایسا بھی ہواہے کہ کھیتوں میں لگی آگ موٹروے کے ساتھ اَٹھکھیلیاں کرتے سر سبز درختوں تک رسائی حاصل کر گئی اور چندہی لمحوں میں اُن سے ”خزاں ناک“سلوک کر ڈالا۔جس کے باعث موٹروے پر سینکڑوں گاڑیاں ایک دوسرے میں لگتی چلی گئیں۔ اپنی معاشرتی ذمّہ داری سے آگاہ ہونے اور اُسے قبول کرنے کی بجائے،ابھی سے ہم وطنوں نے راگ اَلاپنا شروع کر دیاہے کہ سموگ ہندوستان سے آتی ہے۔ایسی سوچ کی پرورش میں ان کا قطعاً قصور نہیں۔دراصل جتنی سموگ فضاء میں ہے، اس سے دبیز ہمارے ذہن کے خلیوں پرچَھا چُکی ہے۔ سڑکوں پر تو سموگ کی دبیز گھٹا ؤں میں دیکھنے کے لئے گاڑیوں میں تُند وتیز روشنیاں مہیّا کی جا سکتی ہیں،مگرذہن کے خلیوں پر تہہ در تہہ چڑھی سموگ کو اتارنے کے لئے اِحساس اور اعتراف کی ضرورت ہے، جس کے ناپید ہونے کی وجہ سے آنکھوں والے اَندھے،کانوں والے بہرے اور سوچنے والے کُند ہو کر رہ گئے ہیں۔جُوں جُوں ذہنی سموگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔تُوں تُوں سماجی ذِمّہ داری کا احساس مرتا جارہا ہے۔

سموگ کا وقوع یکبارگی سے مُنسلک نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مستقل آفت کے طور اپنا آپ منوارہا ہے،جہاں ڈینگی اور کوروناسے متعلق سرکار نے تعلیمی اداروں میں درسی کتابوں کے راستے سے آگاہی کا مستقل بندوبست کیا ہے، وہاں سموگ کو بھی،بھلے کم نوعیّت کی ہی سہی، ایک ماحولیاتی آفت کے طور پر قبول کر لینا چاہیے اور درسی کُتب کے ذریعے تعلیمی آگاہی کا حصّہ بنانا چاہیے۔اگرچہ درسی کتابوں میں موجود بہت ساری تعلیم ہمیں سماجی ذِمہ داری کا سبق یاد نہیں کرا سکی۔اس کے باوجود اس کی افادیّت سے انکار کی گُنجائش نہیں۔جہاں سرکاری،نیم سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مختلف سماجی، طبّی اور ماحولیاتی اواَمرسے آگاہی پیدا کرنے کے بارے میں سڑکوں پراور گلیوں میں چہل قدمی (واک) کا اہتمام کیا جاتا ہے۔سموگ کے پیدا ہونے کی وجوہات کے تدارک، اس کے پھیلاؤاور اس کے نزول کے دوران حفاظتی تدابیر سے متعلق ایسی چہل قدمیوں کی اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ ذہنی سموگ سے آگاہی کے سلسلے کی چہل قدمی کی زمانہئ حال میں کوئی سبیل دِکھائی نہیں دیتی۔

مزید :

رائے -کالم -