کالے کوٹ کی حرمت اور پُرتشدد واقعات

کالے کوٹ کی حرمت اور پُرتشدد واقعات
کالے کوٹ کی حرمت اور پُرتشدد واقعات

  

سیالکوٹ میں وکلاء نے خاتون اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں جو ہنگامہ کیا،توڑ پھوڑ کی، کیا یہ اُن کے شایانِ شان تھی؟ منو بھائی مرحوم کہا کرتے تھے اگر سب لوگ بھی کچرا کھانے لگیں تو کچرا حلال نہیں ہو جائے گا۔وکلاء کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ وہ اپنی کمیونٹی کی طاقت سے کچہری اور عدالتوں کو تالے لگا کر اپنی ضد اور بات منوا بھی لیتے ہیں تو عوام کی نظر میں اُن کی عزت و تکریم میں اضافہ نہیں ہوتا،بلکہ کمی آتی ہے۔یہ سوال وکلاء اور اُن کے نمائندوں کو ہمیشہ پیش ِ نظر رکھنا چاہئے کہ کالا کوٹ تو قانون و انصاف کی علامت ہے۔ پھر یہ قانون شکنی کا استعارہ کیوں بن گیا ہے۔میری اگر کوئی مثبت شناخت ہے، اور وہ شناخت قابلِ عزت بھی ہے، لیکن مجھے اُس کے الٹ حوالے سے دیکھا جاتا ہے تو یہ بات میرے لئے کسی تازیانے سے کم نہیں ہونی چاہئے،وکیلوں کی طاقت قانون ہے پھر وہ قانون کی دھجیاں اڑا کر کیسے عزت پا سکتے ہیں۔

میرے حلقہ ئ احباب میں سینئر اور جونیئر وکلاء کی ایک بڑی تعداد موجود ہے،میں نے انہیں ذاتی تعلقات میں بہت مہذب، صلح جوُ اور دوست پایا ہے،جو احترام دیتے ہیں، اور انسانی قدروں کا خیال کرتے ہیں،مگر یہ کیا ماجرا ہے کہ یہی وکلاء جب اکٹھے ہوں تو اشتعال میں آ جاتے ہیں، عدالتوں کی کرسیاں اُلٹا دیتے ہیں،کوئی سائل سوال پوچھنے کی جرأت کرے تو مل کر پیٹ ڈالتے ہیں، کوئی افسر بات نہ مانے تو اُس کے دفتر پر حملہ کر دیتے ہیں، ٹریفک وارڈن کسی خلاف ورزی پر وکیل کو روک لے تو وہ ساتھیوں کو فون پر بُلا کر اُس وارڈن کی ایسی تیسی کر دیتا ہے،کہیں ذاتی حیثیت میں جائیں اور کوئی بات نہ مانے یا پسند نہ آئے تو قانون کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اُس سے دست وگریبان ہو جاتے ہیں، اپنی عدالتیں لگاتے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ ان سب باتوں سے کون انکار کر سکتا ہے۔یہ سب کچھ کیا گیا ہے، کیا جا رہا ہے۔ قانون بے بس ہو جاتا ہے،مظلوم آہ بھر کر صبرکرتے ہیں، ادارے مصلحت کا شکار ہو کر کڑوا گھونٹ بھر لیتے ہیں، یوں کہنا چاہئے کہ وکلاء ہر محاذ پر جیت جاتے ہیں،لیکن کیا وہ واقعی جیت جاتے ہیں،کیا اسے جیت کہہ سکتے ہیں، جو قانون اور لوگوں کے جذبات کو پامال کر  کے حاصل کی جائے، کیا جب  پنجاب کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ پر حملہ کر کے فاتحانہ نشان بنائے گئے تھے، تو وکلاء فتح یاب ہوئے یا ایک بہت بڑی ہزیمت اپنے نام لکھوا آئے تھے۔ کوئی بھی کمیونٹی ہو، وہ رہتی کمیونٹی ہی ہے، معاشرے نہیں بنتی،آپ اپنے جزیرے میں رہ کر سمندر کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے۔مجھے انہی دِنوں سوشل میڈیا پر ایسی کچھ پوسٹیں بھی دیکھنے کا موقع ملا،جن میں وکلاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس بار ایسے کسی شخص کو ووٹ نہیں دیں گے، جو وکلاء میں گھسے غنڈوں کی حمایت کرے گا، ہم اُسے منتخب کریں گے، جو وکلاء کی عزت و تکریم میں اضافے کا باعث بنے۔ میرا خیال ہے یہ بہت مثبت سوچ ہے،اِس پر عمل ہونا چاہئے۔ یہ وکلاء اور خود معاشرے کے لئے ضروری ہے۔

اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان جب وکلاء کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں تو ایک طرف بار اور بنچ میں قریبی تعلق کا ذکر کرتے ہیں اور دوسری طرف اِس بات پر زور بھی دیتے ہیں کہ وکلاء جس سمت کو چل پڑے ہیں اُس سے انہیں روکنا پڑے گا،خاص طور پر سابق چیف جسٹس صاحبان ثاقب نثار اور آصف سعید خان کھوسہ نے اس بارے میں ہمیشہ وکلاء کو کھلے لفظوں میں نصیحتیں کیں۔اب جبکہ تقریباً سوا ماہ بعد نیا سال طلوع  ہونے کو ہے،اور نئے سال میں وکلاء کے نئے نمائندے منتخب ہوں گے تو جی چاہتا ہے اُن سے چند گذارشات کی جائیں۔اسی امید پر شاید کہ تیرے دِل میں اُتر جائے میری بات،کیونکہ وکلاء ہمارے معاشرے کی بہت بڑی اور بہت طاقتور کمیونٹی ہیں،اس نے جمہوریت کی بحالی اور ملک میں انسانی آزادیوں کو یقینی بنانے میں ہمیشہ ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔معاشرے میں سب سے موثر بلند آہنگ اور زور دار آواز انہی کی تصور کی جاتی ہے۔اگر وکلاء معاشرتی سدھار میں اپنے کردار کی اہمیت کو جان جائیں،اور اُس پر عمل کریں تو یقین سے کہہ سکتا ہوں ہمارے ہاں بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے، تاہم اس کے لئے پہلے خود وکلاء کو اپنے اندر ایک بڑی تبدیلی لانی ہو گی۔ کالے کوٹ کی حرمت صرف یہی نہیں کہ طاقت کے بل بوتے پر لاقانونیت کا مظاہرہ کیا جائے۔یہ باور کرایا جائے کہ دیکھو ہم سے زیادہ قانون شکن کوئی نہیں،بلکہ کالا کوٹ تو قانون کی علامت ہے اُس پر عملدرآمد کرانے کی ضمانت ہے۔

کالا کوٹ تحفظ کی علامت ہونا چاہئے وہ خوف کی علامت کیوں بن گیا ہے؟ سنجیدہ وکلاء کے سامنے دو راستے کھلے ہیں پہلا وہی ہے، جو اِس وقت مروج ہے اور ہر قیمت پر کسی بھی وکیل کی زیادتی اور شر انگیزی کا دفاع کرنے پر مبنی ہے۔ایسا تو صرف جنگل میں ہوتا ہے کہ شیر شیر کی حمایت کرے،اور لومڑی لومڑی کا ساتھ دے چاہے زیادتی کسی کی بھی ہو۔انسانی معاشرے میں تو یہ جنگل کا قانون نہیں چلتا،یہاں تو فیصلے قانون و انصاف کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔یہ کیا طریقہ ہے کہ کوئی جج کسی وکیل کے کہنے پر ضمانت نہ لے یا تاریخ نہ دے تو وہ ساتھیوں کو بُلا کر ہنگامہ کھڑا کر دے،اُس کے بعد بار ایسوسی ایشن اُس کی حمایت میں ہڑتال کا اعلان کر کے حوصلہ افزائی کرے۔بار کونسل کے ضابطے آخر کس دن کے لئے بنائے گئے ہیں،ایسے وکلاء کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی جاتی،جو اپنے کردار و عمل سے وکلاء کمیونٹی کے لئے کلنک کا ٹیکہ بن جاتے ہیں، اچھائی کی امید ہمیشہ رکھنی چاہئے،معجزے کسی وقت بھی ہو سکتے ہیں۔شاید2022ء میں یہ معجزہ ہو جائے کہ نئے عہدیداروں کی بدولت کالا کوٹ کی حرمت اور عوام کی نظر میں اُس کا احترام بحال ہو، کالا کوٹ شرافت،دیانت،ایمانداری اور قانون کی سب سے بڑی علامت بن جائے۔

مزید :

رائے -کالم -