اپوزیشن نے قوانین کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کی: فروغ نسیم 

اپوزیشن نے قوانین کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کی: فروغ ...

  

          اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے قوانین کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا مگر انہیں پڑھنے کی زحمت نہ کی، کلبھوشن کے معاملے پر سیاست خطرناک ہے، معاملہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، ہم نے حکمت عملی سے بھارتی عزائم ناکام بنائے، عالمی عدالت انصاف بل سے بھارت کے ہاتھ کٹ چکے ہیں، بل کی منظوری کے بعد ای وی ایم کے ذریعے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن پر لازم ہے، نئی مردم شماری جدید آلات کے ذریعے کرائی جائیگی،الیکشن کمیشن آزاد و با اختیار ہے، الیکشن کمیشن پارلیمنٹ سے منظور قوانین کے تحت شفاف الیکشن کا انعقاد یقینی بنائے پارلیمانی سیکرٹری ملیکہ بخاری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اپوزیشن کوشش تھی کہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر ان قوانین میں اگر کچھ غیر پارلیمانی اور غیر قانونی ہے تو بتائیں لیکن کچھ لوگوں نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جو قانون آپ نے پڑھے نہیں ہیں اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیسے کریں گے انہوں نے کہا کہ ای وی ایم اور پرانا سسٹم دونوں سو فیصد نہیں ہے لیکن ای وی ایم پرانے سسٹم سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہاکہ کلبھوشن سے متعلق قانون صرف ایک شخص کے لیے نہیں ہے یہ سب کیلئے ہے، جو بھی قانون کے پیرائے میں آئے گا یہ سب کے لیے یکساں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس وقت کی بات ہے جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی کلبھوشن کو مشاورت کی رسائی نہیں دی گئی تھی جس کے نتیجے میں بھارت آئی سی جے گیا اور اس ہی دوران حکومت تبدیل ہوئی، لہذا پی ٹی آئی اور اسکی حکومت کو یہ کیس ورثے میں ملا تھا  جولائی 2019 میں آئی سی کے فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان میں آرٹیکل 199 اور 184/3 بھی موجود ہے ساتھ ہی پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو بھی سامنے رکھا گیا جس کے بعد آئی سی جے نے کہا کہ نتائج کا جائزہ لینا پاکستان کا فرض ہے جو پاکستان کو ہی کرنا چاہیے فروغ نسیم نے کہا کہ اپوزیشن مردم شماری کی بات کر رہی ہے،مردم شماری پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہی کرائی گئی تھی اور جب نتائج آئے تو ایم کیو ایم نے ناراضگی کا اظہا کرتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کی۔ انہوں نے کہاکہ نئی حکومت سے پاکستان کے تمام صوبوں نے دوبارہ مردم شماری کا مطالبہ کیا،اور اب یہ مردم شماری جدید آلات کے ذریعے کیا جائے گا۔حیدرآباد یونیورسٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں حیدرآباد میں یونیورسٹیز نہیں ہونی چاہیے۔انسداد ریپ قوانین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سیکریٹری برائے قانون ملیکہ بخاری نے کہاکہ  جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی مردم شماری کرائیں گے، سندھ اور بلوچستان نے دوبارہ مردم شماری کا مطالبہ کیا، مردم شماری کے معاملے پر بھی سیاست کی جا رہی ہے، پاکستان میں انسداد ریپ قوانین میں خلا تھا جس کی وجہ ان قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے خصوصی عدالتیں بنائی گئی ہیں انہوں نے بتایا کہ ان کیسز کے فیصلے 4 سے6 ماہ کے درمیان کیے جائیں گے اور اس کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر تحقیقاتی ادارے قائم کیے جائیں اور یہاں تربیت یافتہ افسران تفتیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اینٹی ریپ کرائسز سیل قائم کیا گیا جس میں خواتین و بچیوں کا طبی معائنہ کیا جائے گا اس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کریں گے اور اس میں عملہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے تعینات کیا جائے گا۔ملیکہ بخاری نے کہا کہ ریپ کے کیسز میں ملوث مجرموں کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا جس میں نادرا وزارت قانون کے ساتھ مل کر ایک ریپ مجرموں سے متعلق رجسٹر بنائیں گا تاکہ اس طرح کے کیسز سے اچھی طرح نمٹا جا سکے۔انہوں نے بتایا پاکستان اسلامی کونسل نے کیمیائی طریقے سے نامرد بنانے کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اسے غیر اسلامی قرار دیا تھا، جس کے بعد اس طریقے کار کو قانون کی شق سے نکال دیا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم طلاق کے بعد خواتین کے حقوق اور جائیداد میں ورثے سے منتقل قوانین بھی منظور کیے ہیں۔

فروغ نسیم

مزید :

صفحہ اول -