ملک میں پانی ذخیرہ کرنیکی صلاحیت نہ ہونے کے برابر،اکانومی واچ

ملک میں پانی ذخیرہ کرنیکی صلاحیت نہ ہونے کے برابر،اکانومی واچ

  

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان اکانومی واچ کے چئیرمین برگیڈئیر(ر) محمد اسلم خان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور ناقص منصوبہ بندی ملک کے اہم وسائل میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔ ملک میں پانی کی فی کس دستیابی گزشتہ سات دہائیوں میں 5260 کیوبک میٹر سے کم ہو کر 935 کیوبک میٹر رہ گئی ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ اگر حکومت اب بھی موثر حکمت عملی وضع کرنے میں ناکام رہی تو 2025 تک فی کس دستیابی 860 کیوبک میٹر اور 2040 تک کم ہو کر 500 کیوبک میٹر رہ جائے گی جس سے ملک کے اندر اور پڑوسی ممالک سے سنگین تنازعات جنم لینگے۔ اسلم خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کچھ علاقوں میں شدید بارشوں کا سبب بن رہی ہے جبکہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ 49 فیصدپانی ضائع ہو رہا ہے لیکن ستر سال سے تمام حکومتوں نے اس اہم شعبے کو نظر اندازکیا ہے۔ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف چار فصلیں چاول، گندم، گنا اور کپاس 80 فیصد پانی استعمال کرتی ہیں جبکہ جی ڈی پی میں صرف پانچ فیصد حصہ ڈالتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کو اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ملک مکمل طور پر خشک ہو کر صحرا بن جائیگا۔

اکانومی واچ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -