پشاور کو آلود گی سے پاک کر کے دم لوں گا: کمشنر پشاور ڈویژن

      پشاور کو آلود گی سے پاک کر کے دم لوں گا: کمشنر پشاور ڈویژن

  

         پشاور (سٹی رپورٹر) پشاور کو آلودگی سے پاک کرکے دم لوں گا آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کے خلاف ایک بار پھر بھرپور آپریشن کا آغاز کیا جارہا ہے آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کے خلاف مہم اور دیگر اقدامات سے متعلق بھرپور عوامی آگاہی مہم شروع کی جا رہی ہے اس سلسلے میں باقاعدہ ایک سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا جس میں سول سوسائٹی اور عوام سے تجاویز لی جائے گی آلودگی کے خاتمے  کیلئے  صنعت کاروں کی جانب تعاون کی یقین دہانی خوش آئند ہے آلودگی پھیلانے والے بغیر فلٹریشن پلانٹ کے کار خانوں کو فی الفور بند کیا جائے گا آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کی جانب سے اسٹے ختم کرانے کے لئے خود عدالت عالیہ میں پیش ہونگا ان خیالات کا اظہار کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے آلودگی کے خاتمے اور آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کرش مشینوں کے خلاف کارروائیاں کرنے عوام میں شعور اجاگر کرنے اور دیگر اقدامات کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی کہیں اجلاس میں پشاور اور خیبر کے اضلاع کی ضلع انتظامیہ محکمہ ماحولیات محکمہ انڈسٹریز سمیت متعلقہ اداروں کے اعلی افسران نے شرکت کی اجلاس میں معروف صنعت کار غلام سرور مہمند کی سربراہی میں میں پشاور ضلع خیبر کے صنعتکاروں نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اجلاس میں ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے کارخانوں اور فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کرنے عوام میں شعور اجاگر کرنے اور فیکٹری اور کارخانوں کے مالکان کو فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کی جانب راغب کرنے صنعتکاروں کے تحفظات دور کرنے اور مل جل کر ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پشاور میڈم گل بانو کی زیر صدارت کمیٹی قائم کی گئی کمیٹی میں معروف صنعتکار سول سوسائٹی کے اراکین محکمہ ماحولیات انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران شامل ہوں ہونگے اجلاس میں معروف صنعت کار غلام سرور مہمند نے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کو یقین دلایا کہ آلودگی کے خاتمے کے لیے صنعت کار کمشنر پشاور ڈویژن کے شانہ بشانہ ہوں گے تاہم کچھ صنعتکاروں کے تحفظات اور ان کے روزگار کار کو برقرار رکھنے کے لئے کوششیں کی جائیں گی تاکہ آلودگی کا بھی مکمل خاتمہ اور صنعتکاروں کا روزگار بھی خراب نہ ہو اجلاس میں مل جل کر ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -