ضم شدہ اضلاع کے طلبہ کا مطالبات کے حل کیلئے احتجاجی مظاہرہ

  ضم شدہ اضلاع کے طلبہ کا مطالبات کے حل کیلئے احتجاجی مظاہرہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)ضم قبائلی اضلاع   او ر بلوچستان کے طلبہ  نے  ایچ ای سی کی میڈیکل سکالرشیپ سیٹس بحال کرنے کیلئے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جسمیں کثر تعداد میں طلبہ نے شرکت کی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر انکے حق میں مطالبات درج تھے اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے   بلوچستان اور  ضم قبائی اضلاع  کے سٹوڈنٹس کے لیے 2014 میں  سکالر شیپ شروع کیا گیا تھا اس سکالرشپ کا اصل مقصد فاٹا کے پسماندہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کو تعلیم میں کرنا تھا اج کے دور میں بھی فاٹا کے سٹوڈنٹس تعلیمی میدان میں صوبے کے باقی علاقوں کے سٹوڈنٹس سے پیچھے ہیں،HEC  پروجیکٹ کا پہلا فیز 2010 سے 2015 تک رہا اور پھر دوسرا فیز 2016 سے شروع ہوا جس کا دوران پانچ سال تھا جب 2018 میں فاٹا ضم ہوا تو اس سکالرشپ کے حصول کے لیے سٹوڈنٹس کو درپیش کو مختلف مسائل درپیش ہوئے  تاہم مسلہ کے حل کیلئے احتجاج کرنا پڑا تاہم ا 2020 میں اس کے حوالے سے ایک بار پھر مسئلہ درپیش ایا  جہاں سیٹس کو  265 سے کم کرکے 29 کردیئے گئے اپنے حق کے حصول کے لیے ایک بار پھر سٹوڈنٹس کو احتجاج کرنا پڑا انہوں نے بتایا کہ طلبہ اور   مرحوم عثمان لالا اور ڈپٹی چئرمین سینٹ مرزا آفریدی کے کو ششوں کی بدولت نہ صرف سیٹس بحال ہوئے بلکہ اگلے دو سالوں کے لیے ایک Resolution بھی پاس ہوا یعنی Senate Resolution 433 جس کے مطابق یہ سیٹیں 2022 تک تو سیع ہوئے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سینٹ  کے قرار داد پر عمل درامد کیا جائے،ہنگامی بنیادوں پر سکالر شیپ ٹیسٹ اور سکالر شیپ بحال کی جائے اور ایچ ای سی کے 265سیٹس بحال کئے جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کا وسیع کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -