انکوائری رپورٹس میں قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں حق تلفی نہیں: گورنر شاہ فرمان 

        انکوائری رپورٹس میں قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں حق تلفی نہیں: ...

  

        پشاور(سٹاف رپورٹر)گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کی زیرصدارت وویمن یونیورسٹی صوابی کی خصوصی سینٹ کا اجلاس جمعہ کے روز گورنر ہاوس پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی صوابی ڈاکٹرشاہانہ عروج کاظمی کو گورنر انسپکشن ٹیم کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں جاری ہونیوالے شوکاز نوٹس کے جواب پر تبادلہ خیال کیا گیا، وائس چانسلر ڈاکٹرشاہانہ عروج کاظمی کو جی آئی ٹی انکوائری رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی میں غیر قانونی بھرتیوں، انتظامی و مالی امور میں اختیارات کے غلط استعمال پر گورنر/چانسلر کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھاجس پر ڈاکٹرشاہانہ عروج کاظمی نے اپنا تفصیلی جواب بھجوایا تھا، اجلاس میں وی سی ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی کوبھجوائے جانیوالے شوکاز نوٹس پران کے جوابات کا یونیورسٹیز ایکٹ، یونیورسٹی اسٹیٹیوٹس اور تمام قانونی پہلوؤں کے مطابق تفصیلی جائزہ لیا گیا، اس موقع پر گورنر شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹس میں قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں اور کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہئے اور اگر الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں تو ذرا برابر نرمی نہیں ہونی چاہئیے، صوبہ کے اعلی تعلیمی اداروں میں میرٹ کی خلاف ورزیاں اور جانبدارانہ فیصلے انتہائی افسوسناک ہیں، ہم سب کی اولین ترجیح نوجوان نسل کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم و اطلاعات و تعلقات عامہ کامران بنگش،رکن صوبائی اسمبلی رنگیز احمد،قائمقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہورالحق، سیکرٹری اعلی تعلیم محمد داؤد، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنرمحمود حسن اور سینٹ کے دیگر متعلقہ اراکین نے شرکت کی۔

مزید :

صفحہ اول -