گجرنالہ آپریشن کے دوران کسی خاتون کی موت نہیں ہوئی،سلیم بلوچ 

  گجرنالہ آپریشن کے دوران کسی خاتون کی موت نہیں ہوئی،سلیم بلوچ 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پارلیمانی سیکرٹری سلیم بلوچ نے کہا ہے کہ گجرنالے پر آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔آپریشن کے دوران کسی خاتون کی صدمے کی وجہ سے موت نہیں ہوئی ہے۔کراچی شہر میں موجود ہزاروں نالوں میں سے وفاقی حکومت نے صرف تین نالے صاف کیے ہیں۔سندھ کے محکمہ بلدیات نے کسی بھی ڈی ایم سی کو اسپیشل گرانٹ نہیں دی ہے۔جہاں کام ہوگا وہاں پیپلزپارٹی کا جھنڈا بھی ہوگا۔وہ جمعہ کو سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے شاہنواز جدون اور ایم ایم اے کے رکن سید عبدالرشید کے توجہ دلاؤ نوٹسز کا جواب دے رہے تھے۔شاہنواز جدون نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا کہ سندھ حکومت ایک طرف کہتی ہے کہ ہم روٹی،کپڑا اور مکان دیتے ہیں اور دوسری جانب غریبوں کے مکانات توڑے جارہے ہیں۔گجرنالے پر ذکیہ شاہد نامی خاتون گھر گرائے جانے کا صدمہ برداشت نہیں کرسکی اور انتقال کرگئی۔ان کی موت پر حکومت نے کیا کارروائی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق نے تین نالے صاف کیے ہیں۔وزیراعظم نے نالوں کے لیے 35ارب روپے کا پیکج رکھا۔اس میں متاثرین کے لیے بھی پیسے رکھے گئے تھے۔وفاق سے جو پیسے آئے تھے وہ کس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے گئے ہیں اس پر کوئی بات نہیں کررہا ہے۔سلیم بلوچ نے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گجر نالے کو کلیئر کرنے کیلیے قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود تھے۔ایک طرف کہتے ہیں کہ نالے صاف کررہے ہیں اوربندہ مرنے کا الزام ہم پر لگارہے ہیں۔سب کی موجودگی میں آپریشن ہو اہے۔میں نہیں سمجھتا کہ خاتون کی موت کسی حادثے کا نتیجہ تھی۔یہ طبعی موت ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی شہرکے  ہزاروں نالوں میں سے تین وفاقی حکومت نے صاف کیے ہیں۔گجرنالے پر آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔ایم ایم اے سید عبدالرشید نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا کہ سندھ ترقیاتی فنڈوں کے بارے میں آگاہ کیا جائیجو کراچی اضلاع کے تمام ڈی ایم سیز کیلیے ایڈمنسٹریٹر بلدیات کو جاری کیے گئے۔ضلع جنوبی کی سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کی تازگی پیش رفت  کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔لیاری کی گلیاں تباہ حال ہیں۔عوام بڑی مشکلات میں ہیں۔دوکروڑ لاگت کی پی سیز ہیں۔اب سرکاری افسر اور ٹھیکیداروں میں تقسیم ہوگئی ہے۔اس کی وجہ سے لیاری کی گلیاں تک گئی ہیں۔وہاں پر ایک کے بعد ایک آکر جھنڈے لگاکر جارہا ہے۔ہر جگہ پر ایڈمنسٹریٹر کا تقرر ہوا ہے۔عملا کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے۔پارلیمانی سیکرٹری سیلم بلوچ نے اپنے جواب میں کہا کہ محکمہ بلدیات نے کوئی بھی فنڈز ڈی ایم سیز کو نہیں دئیے  ہیں۔جب ڈی ایم سیز میں چیئرمینز موجود تھے اس وقت جو شیئر ہوا تھا اسی سے ہی کام ہورہا ہے۔سندھ حکومت نے کسی کو اسپیشل گرانٹ نہیں  دی ہے۔جو ٹینڈرز چیئرمین کے دور میں ہوئے اس پر کام ہورہا ہے۔اگر کسی کو پیپلز پارٹی کے جھنڈے سے تکلیف ہے تو یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں کام ہوگا وہاں پیپلز پارٹی کا جھنڈ ا بھی اہوگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -