کیسے ممکن ہے قانون سازی غیر شفاف اور الیکشن شفاف ہوں، پی ڈی ایم 

کیسے ممکن ہے قانون سازی غیر شفاف اور الیکشن شفاف ہوں، پی ڈی ایم 

  

لاہور(این این آئی) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے ترجمان حافظ حمد اللہ نے کہا ہے 22نومبر کو پی ڈی ایم کی سٹیرنگ کمیٹی فیصلہ کن جدوجہد کا فیصلہ کریگی،ملک میں اس وقت مسخروں کی حکومت ہے، حالیہ قانون سازی ڈنڈے کے زور پر ہوئی،جس طرح کی قانون سازی کی گئی اس سے ملک وقوم اور قومی اداروں کی ساکھ دنیا میں متاثر ہوئی،عمران خان حکومت مسلط حکومت ہے،اس حکومت کو استعمال کیا جار ہا ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمد اللہ نے کہا مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے،ایک انڈ ے کی قیمت چھ او ر آٹھ روپے سے بیس روپے تک چلی گئی،وزیراعظم نے کہا تھا ان کی حکومت انڈوں سے شروع ہوگی،اب علم نہیں مسئلہ انڈے میں ہے یا مر غی میں،اب لو گو ں کو مرغی انڈوں پر لگادیا،آپ نے تو فیکٹریاں لگانا تھیں لیکن آپ نے چرس اور افیون کی فیکٹریاں لگادیں،حکومت کا سربراہ مسخرا ہے۔حافظ حمد اللہ نے کہا ایم کیوایم،جی ڈی اے اور (ق) لیگ کی قیادت کو فون کرائے گئے،اسی لئے توہم کہتے ہیں غیر سیاسی عناصر مداخلت نہ کریں،سوال اٹھتا ہے گیارہ نومبر کو پارلیمنٹ کا اجلاس کیوں ملتوی کیا گیا، کیسے ممکن ہے قانون سازی غیر شفاف اور الیکشن شفاف ہوں،پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ کے ادوار میں مشترکہ اجلاسوں میں متفقہ قانون سازی ہوئی،پیپلز پارٹی نے اٹھارویں ترمیم کے ذر یعے صوبوں کو خود مختاری دی،(ن)لیگ کے دور میں انتخابات اصلاحات پر متفقہ ترامیم کی گئیں۔ آج فواد چوہدری اور اعظم سواتی الیکشن کمیشن کو گالیاں دیتے ہیں،متنازعہ قانون سازی و ترامیم سے حکومت کیاکرنا چاہتی ہے۔ پی ڈی ا یم قوم کی آواز بن چکی ہے۔

حافظ حمد اللہ

مزید :

صفحہ اول -