شرح سود میں اضافے سے صنعتی، زرعی سیکٹر متاثر، بیروزگاری کا نیا طوفان 

شرح سود میں اضافے سے صنعتی، زرعی سیکٹر متاثر، بیروزگاری کا نیا طوفان 

  

 ملتان(نیوز رپورٹر)سٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سود میں اضافہ واپس لے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں شرح سود میں اضافہ مہنگائی کا مزید طوفان لائے گا۔ان خیالات کا اظہار معروف صنعت کار اور سابق صدر ملتان وڈیرہ غازی خان چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری خواجہ محمد جلال الدین رومی نے اپنے خصوصی بیان میں کیا۔انھوں نے کہا اس وقت بجلی، گیس اور دیگر محصولات کی وجہ سے بیرونی آڈر پورے کرنے میں صنعت کاروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایسے حالات میں پاکستان اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کر کے صنعت و ذراعت کے شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کی کاروباری سرگرمیاں کو متاثر کر دیا ہے۔خواجہ محمد جلال الدین رومی نے مزید کہا کہ اس وقت ملک پہلے ہی خوفناک مہنگائی کی وجہ سے بے حد مشکلات کا شکار ہے۔ایسے میں شرح سود میں اضافہ کرنا غریب کے منہ سے آخری نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔حکومت کا خیال ہے کہ شرح سود میں اضافہ سے مہنگائی کم ہو گی۔تو ان کی خام خیالی ہے۔اس شرح سود کے اضافے کے بعد نہ تو مہنگائی کم ہو گی اور نہ ہی روپے کی گرتی ہوئی قدر کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔کرنٹ اکاوئنٹ کے بڑھتے ہوئے خسارے کو قابو رکھنے میں نہ صرف ناکامی ہو گی بلکہ ادائیگوں کا توازن بھی برقرار نہ رہ سکے گا۔ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے مہنگائی کی وجہ سے شرح سود میں اضافہ واپس لیا جائے۔ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی حیثیت آٹے میں نمک کے برابر ہے۔جس وجہ سے کرنٹ اکاوئنٹ خسارہ ساڑھے تین ارب ڈالر کی سطح کو چھو رہا ہے۔جبکہ حکومت ان دونوں مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔اس لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں اضافہ کر کے مہنگائی کی طرف ملک کو دھکیل دیا ہے۔خواجہ محمد جلال الدین رومی نے کہا مہنگائی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔کاروبار ٹھیپ ہو گئے ہیں۔جس وجہ سے حکومت کی ساکھ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔شرح سود میں اضافے سے مہنگائی میں بڑھے گی۔جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو گا۔جو ملکی معیشت کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔معروف صنعت کار خواجہ جلال الدین رومی نے مزید کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری کیمٹی نے شیڈول سے ایک ہفتہ قبل اجلاس بلا کر شرح سود میں اضافہ کر کے تمام کاروباری اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ ابھی ملکی معیشت کورونا کی صورت حال سے بنردآزما ہو رہی تھی کہ شرح سود میں اضافہ کر کے رہی سہی عوام پر ایک اور وار کر دیا ہے۔اس وقت ڈالر کی اڑان نے صنعت کاروں کا پہیہ جام کر رکھا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں نے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں اضافے سے آڈرز پورے کرنے مشکل ہو رہے ہیں۔ اناج اور چینی کی درآمدات سے مالی خسارہ بڑھ رہا ہے۔گزشتہ سال کرنٹ اکاوئنٹ خسارہ 850 ملین ڈالر تھا جو اس سال بڑھ کر تین ارب ڈالر ہو چکا ہے۔جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے 172 سے بڑھ چکا ہے۔ایسی صورت حال میں شرح سود میں اضافہ کاروباری لاگت میں اضافے سے بے روزگاری ہو گی۔اور عوام کی پریشانی بھی بڑھے گی۔ایسی صورت میں فوری طور پر شرح سود میں اضافہ کی بجائے بجلی اور گیس کی بلا تعطل اور مناسب نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ صنعت کاروں اور زراعت سمیت تمام شعبوں کو پیداواری عمل کو بڑھایا جائے۔ جس سے نہ صرف مہنگائی کم ہو گی بلکہ حکومت کو شرح سود میں اضافہ نہیں کرنا پڑے گا۔

مزید :

صفحہ اول -