سرحد چیمبر نےشرح سود میں اضافے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے حکومت سےبڑا مطالبہ کردیا

سرحد چیمبر نےشرح سود میں اضافے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے حکومت سےبڑا ...
سرحد چیمبر نےشرح سود میں اضافے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے حکومت سےبڑا مطالبہ کردیا

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حسنین خورشید احمد نے سٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود آٹھ اعشاریہ 75 فیصد اضافہ پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئےاسے مسترد کردیا ہے اورکہاہےکہ مانیٹری پالیسی کے ذریعہ ایک  اعشاریہ  پانچ  فیصد اضافے سے مہنگائی کی نئی لہر آنے کے ساتھ ساتھ کاروبار پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق سرحد چیمبر کے صدر کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود  میں اچانک اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے، اگر شرح سود کو ڈبل ڈیجیٹ تک لے کر جائیں گے تو بہت مسائل جنم لیں گے،سٹیٹ بینک کا یہ اقدام کا فی سخت اور کاروبار، صنعتوں اور سرمایہ کاری کے بالکل خلاف ہے جس پر نظرثانی کرکے فوری طور پر واپس لیا جائے، اتنا بڑا اضافہ ملکی معیشت اور کاروبار کے لئے کسی صورت بھی حق میں نہیں،شرح  سود  میں  ڈیڑھ  فیصد اضافہ سے صنعتی پیداوار میں بھی کمی آئے گی۔

انہوں  نے کہا کہ موجودہ کورونا صورتحال کی وجہ سے کاروبار، معیشت اور تجارت تاحال پوری طرح بحال نہیں ہوئی جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے شرح سود کو کم کرنے کی بجائے اس میں ڈیڑھ  فیصد اضافہ کردیا ہے جو معیشت کے لئے کسی صورت بھی سود مند ثابت نہیں ہوگا،اس فیصلے پرفوری طور پر نظرثانی کرکے کمی لائی جائے، حکومت کی جانب سے صنعتوں اور کمرشل صارفین کو گیس کی سپلائی کی بندش کا اقدام قابل مذمت ہے،خیبر پختونخوا میں گیس  کی  سرپلس پیداوار ہے اور آئین کے آرٹیکل کے 158اے کے تحت قدرتی گیس کو بھرپور استفادہ حاصل کرنے کا پہلا حق اس صوبے کا ہے تو ایسا اقدام نہ صرف آئین کے منافی اور کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ،صنعتوں اور کمرشل صارفین کوگیس و بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو ہرصورت میں یقینی بنائی جائے۔

مزید :

بزنس -