’نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرنا اوربڑابھائی کہنا مہنگا پڑ گیا‘

’نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرنا اوربڑابھائی ...
’نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرنا اوربڑابھائی کہنا مہنگا پڑ گیا‘

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق بھارتی کرکٹر اورہندوستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت’کانگریس‘ کے رہنمانوجوت سنگھ سدھو کو پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرنا اور’بڑابھائی‘ کہنا مہنگا پڑ گیا،بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)نےنوجوت سنگھ سدھو پرکڑی تنقید کرتےہوئےکہاہےکہ سدھو کا پاکستانی وزیراعظم کےحق میں بیان کروڑوں بھارتیوں کے لئے باعث تشویش اورکانگریس کی سوچی سمجھی سازش ہے، سدھو نے یہ بیان راہول گاندھی کے کہنے پر دیا ہے۔

ہندوستان کے نجی ٹی وی کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ترجمان سمبت پاترا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سدھو نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں،سدھو پاکستان سے رشتہ بڑے بھائی تک لے آئے ہیں، وہ ماضی میں بھی پاکستان کی تعریف کرتے رہے ہیں، اس سے قبل کانگریس لیڈر سلمان خورشید اور منی شنکر ایر بھی اپنے بیانات میں ہندوتوا کی گستاخی کرچکے ہیں، اس سلسلے میں سدھو کا بیان یونہی نہیں آیا، یہ کانگریس کی سوچی سمجھی سازش ہے،بتایا جائے کہ کیا پریانکا گاندھی بھی  پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو اپنا بڑا بھائی مانتی ہیں؟۔

انہوں نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پنجاب ایک حساس سرحدی ریاست ہے،جموں و کشمیر اور پنجاب جیسی ریاستوں میں دراندازی کی کوششیں جاری ہیں، پاکستان ہمیشہ انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، سرحدی ریاست کے لیڈروں میں حب الوطنی کا جذبہ ہونا چاہیے، انہیں اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ ہندوستان کے بارے میں کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا؟۔

یاد رہے کہ کرتار پور پاکستان پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو میں نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا  کہ عمران خان ذہین  انسان ہیں ، وہ میرا بڑا بھائی ہے، اس نے بہت کیا ہے,انقلابی وزیر اعظم خطے کی قسمت بدل سکتے ہیں, عمران خان نے مثبت اقدامات کئے ،یورپین ممالک نے جنگ کے بعد اپنی کرنسی ایک کر دی، آج یورو دنیا کی مضبوط ترین کرنسی میں سے ایک ہے، شاہراہ ریشم 34 ممالک کو جاتا ہے اور تجارت کا بڑا راستہ ہے،  سال 2019ء تک پاکستان اور بھارت کے مابین بھی تجارت جاری رہی ، تجارت سے پاکستان اور بھارت کو فائدہ ہو گا ، دوریاں ختم کرنےکےلیےاقدامات کرنا ہوں گے، پاکستان سے بڑی مارکیٹ کہیں نہیں، لاہور اور گورداسپور کےدرمیان تجارت کھلےتو خوشی ہوگی۔

مزید :

بین الاقوامی -