اچھے دنوں کی توقع! 

 اچھے دنوں کی توقع! 
 اچھے دنوں کی توقع! 

  

آج صبح جب دفتر آنے کے لئے بس کے انتظار میں تھا کہ ہمارے محلے دار تاجر جو حقیقتاً پرہیز گار ہیں قریب آ کر کھڑے ہو گئے سلام دعا کے بعد انہوں نے بڑی فکر مندی سے پوچھا کہ حالات کیا ہیں لانگ مارچ کیا کرے گا؟ان کی تشویش یہ تھی کہ سیاسی لڑائی کی وجہ سے کاروبار مندا ہے اور اب تو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گئے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کی قوت خرید ختم ہو گئی ہے اور یہ جو سڑکوں پر گاڑیوں کی چہل پہل اور آمد و رفت نظر آتی ہے تو یہ سب مصنوعی ہے کہ اس ملک میں مالدار اشرافیہ پانچ فیصد ہے اور باقی جو ہم جیسے تاجر پیشہ ہیں سب سفید پوش ہیں اور ان کے پاس گاڑیاں بھی بینک لون والی ہیں۔ محترم بھائی کا یقین تھا کہ میرے پاس اطلاع ہو گی اسی لئے وہ معاشی بدحالی کا ذکر کرتے ہوئے فکر مند تھے۔ میں چونکہ کئی سالوں سے عملی رپورٹنگ سے الگ ہوں اور ادارتی ذمہ داریاں نبھا رہا ہوں اس لئے براہ راست اطلاع بھی کم ہوتی ہے تاہم طویل پیشہ ورانہ زندگی کے دوران والے تجربے اور روابط کی وجہ سے اکثر معلومات بھی ملتی ہیں جبکہ اخبارات کا بغور مطالعہ فرائض میں شامل ہے اور الیکٹرونک میڈیا سے بھی استفادہ کرتا ہوں اس لئے اپنا تجربہ تو پیش کر ہی سکتا تھا اپنے ان دین دار ہمسایہ دوست سے بھی عرض کیا کہ اگر تجزیاتی طور پر پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو آپ جیسے حضرات کی فکر مندی بے جا نہیں کہ حالیہ جاری شدید محاذ آرائی کی وجہ سے عوامی مسائل مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ سب ایک جانا بوجھا سلسلہ ہے کہ عوامی توجہ کو بٹائے رکھا جائے۔ یوں بھی معاشرے کی تقسیم بری طرح ہو چکی ہے وہ کسی اچھائی کا منظر پیش نہیں کرتی مجھے ان سے اگلے سوال کی بھی توقع اور انہوں نے پوچھ ہی لیا کہ یہ جلسے، جلسے اور مارچ مارچ والے کھیل کب ختم ہوں گے، اس سوال کا جواب ذاتی معلومات کے حوالے سے دینا مشکل تھا لیکن تازہ ترین خبروں کے باعث تجزیہ تو پیش کیا جا سکتا تھا سو میں نے عرض کیا اگلے ہفتے کے دوران یہ سیاہ بادل چھٹ جائیں گے کہ ایک بڑا مسئلہ حل ہونے والا ہے میں نے بتایا کہ تازہ ترین خبروں کے مطابق جس تعیناتی کو متنازعہ بنا دیا گیا وہ آئندہ منگل تک حل ہو جائے گا کہ اب تو وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واضح طور پر کہہ دیا کہ منگل تک نام سامنے آ جائے گا کہ عمل شروع ہو کر تکمیل تک آ پہنچا ہے۔ اپنے اس فکر مند دوست کو تسلی دی اور کہا کہ وہ اپنے کاروبار پر توجہ رکھیں دعا فرمائیں۔ ان شاء اللہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔

اس کے بعد میں دفتر چلا آیا تاہم ذہنی رو تو حالات کی طرف منتقل ہو گئی تھی چنانچہ خیر کی خبر تلاش کرنا شروع کی تو حوصلہ ہوا کہ صدر مملکت کے ساتھ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی تفصیلی ملاقات کے بعد بتایا گیا تھا کہ ایک حد تک اتفاق رائے پیدا ہو گیا۔ صدر مملکت نے یقین دلایا کہ وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے۔ جہاں تک مشاورت والی تجویز کا تعلق ہے تو یہ ذاتی رائے تھی اور میرے خیال میں مشاورت بہتر نتائج دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوسری حوصلہ افزا خبر یہ تھی کہ خود رانا ثناء اللہ نے شاہ محمود قریشی اور فواد حسین چودھری سے ملاقاتوں کا اعتراف کر لیا یقیناً ان ملاقاتوں میں حالات حاضرہ پر ہی گفتگو ہوئی ہو گی اور منفی بات نہیں تو پھر خیر ہی خیر ہے میں یہ نہیں کہوں گا کہ عمران خان نے تو پس پردہ رابطوں سے انکار کیا ہے چیئرمین عمران خان کی حد تک یہ درست ہے کہ وہ جن رابطوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ موجودہ حکمرانوں سے نہیں۔ ایسٹیبلشمنٹ کے ہیں اور انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ صدر مملکت کی کاوش سے سپہ سالار سے ملاقات ہوئی بقول عمران خان اس ملاقات میں تو شفاف انتخابات اور فوری انعقاد پر بات ہوئی اب صورت حال یہ ہے کہ صدر مملکت آئینی پابندی کا برملا اعلان کرتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ رابطوں کی بات کرتے ہیں خواجہ صفدر پیر اور منگل کا کہہ رہے ہیں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے تعیناتی کے حوالے سے بہت محتاط اور متعلقہ بات کی کہ سب تھری سٹار جنرلز اہلیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کو کسی پر اعتراض نہیں اور آئینی طور پر یہ وزیر اعظم کا اختیار ہے کہ وہ تعیناتی کریں اس لئے اسے زیر بحث نہ لایا جائے۔ بہر حال میری ذاتی اطلاع یا ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ تھی کہ جی ایچ کیو کی طرف سے پانچ نام تجویز کر دیئے گئے کہ اس کے بعد ہی موجودہ سپہ سالار نے روایت کے مطابق الوداعی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب معاملہ مشاورت پر اٹکا ہوا تھا جو اب ہر سطح پر مکمل ہو چکا اور اب فیصلے کا دن آیا ہی چاہتا ہے۔ میں تو آج بھی یقین رکھتا ہوں کہ پی ڈی ایم والوں نے بہر حال سینیارٹی ہی کا اصول طے کیا ہے اور اسے مثال بنایا جائے گا اس کے لئے کسی ترمیم یا قانون سازی کی ضرورت نہیں۔ برسر اقتدار حضرات نہیں چاہیں گے کہ اختیار تعیناتی ختم ہو جائے اور مستقل طور پر از خود عمل جاری ہو۔ یہ اطلاع بھی کسی طور دل کو نہیں بھاتی کہ حکومت ملٹری رولز میں ترمیم کر کے تاعمر تک توسیع کا اختایر حاصل کرنے والی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ یہ خبر بھی ایک چال تھی کہ توجہ کسی اور طرف مبذول کرا کے مشاورت مکمل کر لی گئی۔ اب تو عمران خان کی بات بھی پوری ہونے والی ہے کہ سینئر موست کا تقرر کیا جائے آئندہ ہفتے یہ سب کہانیاں ماضی بن جائیں گیا ور دعا ہے کہ پھر معاملات معمول پر آ جائیں۔ 

جہاں تک ہمارا (میرا+ادارہ) تعلق ہے تو روز اول سے یہ موقف ہے کہ معاملات کو حل کرنے کے لئے مذاکرات لازم ہیں اور ان کے نتیجے میں قومی اتفاق رائے پیدا ہونا ضروری ہے ہم مسلسل یہ عرض کرتے رہے ہیں حالات ظاہرہ سے یہ توقع پیدا ہوئی کہ بات اب چل نکلی ہے دیکھیں کہاں تک پہنچے، جہاں تک اعلیٰ تعیناتی کا تعلق ہے تو اس پر تنازعہ پیدا نہ کرنے کے حوالے سے بھی ہم عرض کرتے رہے ہیں۔ خود تمام سیاسی جماعتوں (متحارب فریقوں سمیت) کو اس امر پر اتفاق ہے کہ معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے یوں بھی اس محاذ آرائی نے کوئی فائدہ نہیں دیا جس کرپشن کا بار بار ذکر کیا اور ہنگامہ برپا کیا جاتا ہے وہ تو مزید بڑھ اور پھیل گئی ہے اس کا اندازہ کراچی، سکھر موٹر وے سکینڈل سے ہی لگایا جا سکتا ہے اس میں ایک ڈپٹی کمشنر گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیق کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ کرپشن اب تبادلوں کی حد تک بہت زیادہ ہے جبکہ بھرتی بھی کوئی میرٹ پر نہیں ہوتی حال ہی میں معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم میں پانچویں، چھٹے گریڈ کی آسامیاں نکلی ہیں۔ صوبائی حکومت نے پابندی اٹھائی ہے اور ملازمتوں کے لئے ایم پی اے حضرات کے لئے کوٹہ مختص کیا ہے۔ ایسی ہی ایک آسامی کے امیدوار سے معلوم ہوا ہے کہ پانچویں گریڈ کے لئے سفارش کی غرض سے متعلقہ رکن صاحب کے کوارڈینیٹر سے رابطہ کیا کہ وہ سفارش کر دیں کہ انہوں نے چار لاکھ روپے مانگ لئے کہ کوٹہ میں سے ملازمت مل جائے گی جو مستقل ہے اب تو غریب آدمی پانچویں گریڈ کی ملازمت حاصل کرنے کے لئے خوار ہی ہو رہا ہے اس کے پاس چار لاکھ روپے کہاں ہوں گے اور اگر کوئی یہ کر بھی گزرے تو ملازمت کے کتنے عرصہ میں یہ رقم واپس ہو گی اور یوں بھی دستور ہے کہ جو اس طرح ملازمت حاصل کرتے ہیں وہ اپنی دی گئی رقم پوری کرنے کے لئے حربے بھی اختیار کرتے ہیں۔

جہاں تک لانگ مارچ کا تعلق ہے تو میں کسی نوعیت کی رائے دینے کے بجائے خود چیئرمین عمران خان کی تازہ ترین گفتگو سے یہی اخذ کرتا ہوں کہ انہوں نے تعیناتی کے حوالے سے حالات کو دیکھ لیا اور اپنی رائے کو محفوظ رکھتے ہوئے بھی اب اعتراض ختم کر دیا ہے جبکہ ان کا مارچ بھی اب اس جارحیت کا حامل نہیں جس سے خدشات پیدا ہو رہے تھے اس لئے یہ توقع بے جا نہیں کہ اگلا ہفتہ بہتری ہی لائے گا اور پھر ایک سیاسی عمل شروع ہو جائے گا یوں بھی اگر برسر زمیں دیکھا جائے تو عمران خان کو اپنی مہم جوئی سے فائدہ ہوا ضمنی انتخاب کے نتائج ایک طرف آئندہ جنرل الیکشن کے لئے بھی ان کی پوزیشن بہتر نظر آ رہی ہے۔ اگر وہ نا اہلیت سے بچ گئے تو آئندہ انتخابات میں بہتر نتائج کی توقع رکھ سکتے ہیں جبکہ موجودہ حکومتیں مسائل کے حل پر توجہ دے سکیں گی۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے لئے بھی اس کے بعد عوامی مسائل حل کر کے نتائج دیتا ہوں گے اللہ سے دعا ہے کہ جو میں سوچ رہا ہوں ایسا ہی ہوا کہ اب تو عوام کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو کر چھلکے تو ہے۔

مزید :

رائے -کالم -