سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے اسلامیہ کالج کراچی کی عمارت خالی کرالی

سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے اسلامیہ کالج کراچی کی عمارت خالی کرالی

  

     کراچی (سٹا ف رپورٹر)سندھ پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم پر اسلامیہ کالج کراچی کی عمارت طلبا سے خالی کرالی  عدالتی عملہ اسلامیہ کالج کراچی کی عمارت خالی کرانے کیلئے پہنچا تو طلبہ نے مزاحمت کی، پولیس نے مزاحمت کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا تو طلبہ نے بھی پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا۔اسلامیہ کالج کے طلبہ نے پولیس کے خلاف نعرے بازی اور سڑک پر ٹائر جلا کر احتجاج شروع کردیا۔پولیس کی بھاری نفری نے طلبہ کو منشتر کرنے کیلئے شیلنگ اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا گیا، اور مظاہرین کو منتشر کر دیا اور کارروائی کرتے ہوئے 7 طلبہ کو حراست میں لے لیا۔ایس ایچ او جمشید کا کہنا ہے کہ اسلامیہ کالج پرائیوٹ پراپرٹی پرقائم ہے، اور گزشتہ 40 سال سے کالج کی عمارت کے حوالے سے عدالت میں کیس چل رہاتھا، اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور کالج کا قبضہ کیس جیتنے والے ٹرسٹیز کے حوالے کیا جائے گا۔دوسری جانب اسلامیہ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کالج خالی کرنے کیلئے لیگل نوٹس نہیں ملا۔ سرکاری حکام اور طلبہ تنظیم کے مطابق اسلامیہ کالج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے جانے والے اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے والے طلبہ پر کراچی پولیس نے آنسو گیس فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔جمشید کوارٹرز تھانے کے ایس ایچ او نوید سومرو نے بتایا کہ اسلامیہ کالج نجی زمین پر قائم ہے جس کے مالکان نے جگہ خالی کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ایس ایچ او نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حق میں فیصلہ رکھنے والے فریق کے لیے سندھ ہائی کورٹ کو قبضہ ختم کرانے کی ہدایت کی تھی۔نوید سومرو نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے سٹی کورٹس کو ہدایت کی کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرائیں اور رپورٹ عدالت عالیہ کے ناظر کو پیش کریں۔ایس ایچ او نے بتایا کہ پولیس عدالتی نمائندے اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ اسلامیہ کالج پہنچی تھی۔انہوں نے کہا کہ عدالتی نمائندہ کالج پرنسپل سے بات چیت کر رہا تھا کہ اسی دوران کچھ طلبہ نے مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کیا۔نوید سومرو نے مزید کہا کہ پولیس نے طلبہ پر کم طاقت کے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔پولیس افسر نے بتایا کہ طلبہ کو منتشر کرنے کے بعد سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس شرقی سید عبدالرحیم شیرازی، سیکریٹری محکمہ تعلیم برائے کالجز علیم لاشاری اور دیگر حکام بات چیت کے لیے موقع پر پہنچے اور کالج انتظامیہ سے جگہ خالی کرنے کے لیے مذاکرات کیے۔جہاں ایک جانب ایس ایچ او نوید سومرو نے کہا کہ پولیس کارروائی کے دوران کسی طالب علم کو گرفتار یا حراست میں نہیں لیا گیا وہیں دوسری جانب، جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ نے دعویٰ کیا کہ 5 معصوم طلبہ کو گرفتار کیا گیا اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پولیس اس کالج کو خالی کرانے کے لیے پہنچی جہاں 400 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے 5 طالب علموں کو فوری رہا نہ کیا گیا تو پولیس اور شہری انتظامیہ نتائج کی ذمہ دار ہوگی۔طلبہ تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں کیونکہ پرامن احتجاج طلبہ کا حق ہے۔

طلبہ احتجاج 

مزید :

صفحہ اول -