رواں سال پولیس کے لئے کیسا رہا؟

    رواں سال پولیس کے لئے کیسا رہا؟
    رواں سال پولیس کے لئے کیسا رہا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 سال 2023 پنجاب بالخصوص لاہورپولیس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے حوالے سے کئی اہم یادوں کے ساتھ ڈیڑھ ماہ بعد اختتام پزیر ہو جائے گا۔ ویسے تو جرائم کی بیخ کنی‘انصاف کی فوری فراہمی، اور فلاح وبہبود کے حوالے سے پنجاب بالخصوص لاہور پولیس نے رواں سال لاتعداد اہم کامیابیاں اپنے نام کی ہیں تاہم کئی واقعات ایسے بھی ہیں جو دلخراش اور انتہائی افسوس ناک بھی ہیں جنہیں مدتوں یاد رکھا جائے گا ان واقعات میں پولیس کے کردار کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ صوبائی دارالحکومت جوکہ سواکروڑ آبادی کا شہر ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہاں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور ہمیشہ ہم نے پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ پولیس کو جو ٹارگٹ سونپے گئے ہیں وہ صرف جرائم کو کنٹرول کرنے کے ہی نہیں ہیں ان کی ذمہ داریاں مذید بھی بہت بڑ دی گئی ہیں جس سے یہ ادارہ حقیقی معنوں بھی اب اپنا کردار ادا بھی نہیں کرپارہا اس لیے ہمیں ان کے اچھے کاموں کو بھی سراہنا چاہیے۔ہفتہ کے روز اقبال ٹاؤن کے علاقہ میں ایک گھر میں 6ڈاکوؤں کے داخل ہونے پر پولیس نے بروقت اطلاع ملتے ہی اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کراس فائرنگ کے دوران انہیں ہلاک کیا تو سارا دن لاہور پولیس کے اس مقابلے کومشکوک جان کر طرح طرح کے سوالات اٹھائے گئے ان کے گھر میں داخل ہونے کی گزشتہ روز جب سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی جس میں ڈاکوؤں کو گھر میں داخل ہوتے ہوئے اور پولیس کی بروقت جوانمردی سے کارروائی کو دیکھا گیا تونفی میں آنے والے تمام سوالات دم توڑ گئے۔ ایک لمحہ کے لیے اگر یہ سوچاجائے کہ یہ واقعہ ہمارے ساتھ پیش آیا ہو اور ہمارے ساتھ کوئی الٹے سیدھے سوالات کررہا ہو تو کیا ہمیں اس پر غصہ نہیں آئے گا یہ تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس گھر میں ڈاکوداخل ہوئے وہ محفوظ رہے ورنہ پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں اسی روزڈکیتی کی اپنی نوعیت کی انوکھی واردات ہوئی ہے جس میں ڈاکوؤں کو پکڑنے گئے پولیس اہلکار خود بھی ان کے ہاتھوں لٹ گئے۔

واقعہ تھانہ کوٹ لدھا کے علاقے تھابل دوچھہ میں پیش آیا جہاں ڈاکو ناکہ لگا کر شہریوں کو لوٹ رہے تھے، واردات کی اطلاع پر جانے والے پولیس اہلکاروں کو ڈاکوؤں نے دبوچ لیا، 4 ڈاکوؤں نے پولیس اہلکاروں کو واردات کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ڈاکو پولیس اہلکاروں سے سرکاری اسلحہ، نقدی اور دیگر اشیاء_  لوٹ کر فرار ہو گئے، اس سے پہلے ڈاکوؤں نے ناکہ لگا کر متعدد شہریوں سے بھی لوٹ مار کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم ڈاکوؤں کے خلاف متاثرہ سب انسپکٹر کی مدعیت میں ڈکیتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔اگر اقبال ٹاؤن کے واقعہ میں اہل خانہ میں سے کسی کی جان چلی جاتی تو میڈیا نے اسے ناقص حکمت عملی قرار دیتے ہوئے آسمان سر پر اٹھالیناتھا۔اسی طرح درجنوں دیگر ایسے واقعات بھی ہیں جس میں پولیس شہریوں کی جان بچانے کے لیے جانفشانی سے کا م کرتی نظر آتی ہے مگر ہم نے کبھی انہیں خراج عقیدت پیش نہیں کیا۔ہمیں پولیس کے شہدا کی بے مثال قربانیوں کوہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔آئی جی پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو اس عذم پر سیلوٹ پیش کیا جانا چاہیے کہ وہ شہدا کی مستحق فیملی کو آجکل اپنا گھر جیسی نعمت سے نواز رہے ہیں۔ آئی جی پولیس نے پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ویلفیئر ہسپتال قائم کرکے اسے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے تحت کر دیا ہے۔اسی طرح پولیس ویلفیئرہسپتال گوجرانوالہ کو گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال اور پولیس ویلفیئرہسپتال راولپنڈی کو راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال کے ساتھ منسلک کیاگیاہے۔ پنجاب پولیس کے زیرانتظام ویلفیئرہسپتالوں کو سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے ساتھ منسلک کرنے کا بنیادی مقصد صرف ایک ہی ہے کہ پولیس ملازمین کو صحت کی بہترسہولیات ملنی چاہیں۔اسی طرح پنجاب بالخصوص لاہور میں درجنوں خدمت مرکز قائم کیے گئے ہیں۔یہ منصوبے اپنی نوعیت میں بے مثال ہیں اہم ترین کامیابیوں میں مذکورہ منصوبے ایسے شاندار کارنامے ہیں جن پر نہ صرف آئندہ تعینات ہونیوالے آئی جی پولیس اور لاہور میں تعینات ہونے والے نئے پولیس سربراہان فخر کریں گے بلکہ ان کی افادیت روز بروز بڑھتی جائے گی۔آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان انور، لاہور پولیس کے سربراہ بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن عمران کشور کی انتھک محنت‘ خلوص اور جدوجہد کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔سب نے مل کر جنسی‘ جسمانی‘ ذہنی‘نفسیاتی تشدد کا شکار خواتین اور بچوں کے تحفظ کیلئے بھی جوسنٹرقائم ہیں ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔لاہور میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو کنٹرول کرنے کے لیے آرگنائزڈ کرائم سیل اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی کاوشیں قابل تحسین ہیں ان کی انتھک محنت کی بدولت ہی شہر سے بڑے بڑے کریمنل گروپوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔

لاہور پولیس نے ایک اور بہت اچھا اقدام کیا ہے کہ آجکل کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اس کے لیے چیف ٹریفک آفیسر مستنصر فیروز اور ان کی ٹیم خصوص مبارکباد کی حقدار ہے کہ انہوں نے ڈیفنس میں کم عمر ڈرائیور کے ایک گاڑی کو ٹکر مار کر 6 افراد کی موت کے بعد سے جاری آپریشن میں کم عمر ڈرائیونگ پر 2251 جبکہ بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر 558 مقدمات درج کیے ہیں۔ سینکڑوں گاڑیاں تھانوں میں بند کردی گئی ہیں،بغیر لائسنس دوسرے روز 558 ڈرائیورز کیخلاف مقدمات درج ہوے،سب سے زیادہ کارروائی ڈیفنس اور کینٹ کے سیکٹرز میں کی گئی،کم عمر بچوں کو گاڑی، موٹرسائیکل دینے والوں کیخلاف بھی مقدمات درج کروائے گئے۔سی ٹی او لاہور مستنصر فیروزکا کہنا ہے کہ شہر میں 30 لائسنس دفاتر، 10 موبائل وینز اور 03 سینٹر 24گھنٹے کام کررہے ہیں،چھٹی کے روز بھی شہر کے تمام لائسنس دفاتر معمول کے مطابق کھلے ہیں،والدین 18 سال سے کم عمر بچوں کو ہرگز گاڑی،موٹرسائیکل نہ چلانے دیں،والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے خود ذمہ دار ہیں،کریمنل ریکارڈ بننے سے سرکاری نوکری اور ویزہ حصول میں مشکلات آسکتی ہیں، اب کم عمر ڈرائیورز کیخلاف ایف آئی آر درج ہو گی،والدین اپنی ذمہ داری نبھائیں اور اپنے کم عمر بچوں کو ڈرائیونگ کی اجازت ہرگز مت دیں۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ کم عمر ڈرئیورز کو گاڑی، موٹر سائیکل دینے والے والدین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،آئی جی پنجاب نے آر پی اوز، ڈی پی اوز، ڈسٹرکٹ ٹریفک پولیس افسران کو بلا تفریق کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑیاں اور موٹر سائیکل چلانے والے کم عمر ڈرائیورز کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -