اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

  

 جس رشتے نے ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھایا، بولنے میں مدد کی، اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے اور آگے بڑھ کر حق بات کے اظہار کا حوصلہ دیا، پیچیدہ ترین گتھیوں کو سلجھانے میں دوستانہ انداز میں رہنمائی کی، کسی بھی ذاتی و اجتماعی مسئلے میں ذہن و دل کو بقائمی ہوش و حواس استعمال کرنے کی ترغیب دی، انسانیت کی بہتری کے لئے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تعلیم دی، اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے کا دو ٹوک پیغام خداوندی ایمان کا حصہ بنانے میں حصہ ڈالا۔ اس رشتے کی اہمیت اگرچہ ہمیشہ رہے گی، مگر زندگی خالی خالی ہے کہ اب نگاہوں میں صرف تصویر ہے۔ درحقیقت وہ جسمانی طور پر ہمراہ نہیں۔ میرے والد جناب ریاض احمد فیضی.... (اللہ مغفرت کرے اور اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین!)والد کا رشتہ دکھانے یا سنانے کا ہرگز نہیں، مگر ایسا عظیم تعلق کہ ایک بار پیار سے والد کو دیکھنے کا ثواب حج کے برابر قرار دے دیا گیا۔ راقم نے اپنے صحافتی سفر میں ہمیشہ والد گرامی سے رہنمائی کا حصول چاہا، وہ بیک وقت اچھے مقرر، صحافی، شاعر اور سب سے بڑھ کر عظیم انسان تھے۔ جن چیزوں کا علم نہیں تھا، ان کے جانے کے بعد پتہ چلا تو فخر سے ماتھا مزید چمک اٹھنے لگا۔ یہ معمول تو بچپن سے دیکھتے آئے کہ ناشتہ کبھی20 تو کبھی 50 لوگوں کے ہمراہ ہمارے صحن میں ہو رہا ہوتا۔ دور دراز سے لوگ اپنے مسائل لے کر آتے اور قبلہ والد صاحب فون گھما رہے ہوتے کہ فلاں کا یہ مسئلہ ہے۔ اس کا حل کیا ہے؟.... فلاں بیوہ.... فلاں یتیم.... فلاں بے گھر.... فلاں بے آسرا کے دکھوں کا مرہم ہو تو کیسے؟مساجد کے تعمیری مسائل ہوں یا سکول و مدرسے کے.... ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا.... ان کی وفات کے بعد پتہ چلا کہ کتنے گھرانے ان کے زیر سایہ چل رہے تھے، چولہے جل رہے تھے(اللہ ان کی کوششوں کو قبول فرمائے، آمین) اکتوبر کے مہینے میں وہ جس شخصیت کے بارے بالخصوص گفتگو کرتے، یادیں تازہ کرتے، وہ آغا شورش کاشمیری مرحوم کی تھی۔ حضرت شورش کاشمیری سے ان کی بے تکلفی بھی تھی اور گہرے مراسم بھی۔ جب آغا صاحب بیمار تھے اور خطرہ تھا کہ ان کو زہر دیا جاسکتا ہے، تب وہ خاص طور پر ہمارے ہاں فون کرتے کہ خالص مکھن کھانے کی خواہش ہے۔ والد صاحب ایک بار مکھن لے کر آغا صاحب کے پاس پہنچے تو ہسپتال کے دروازے پر روک لیا گیا کہ باہر سے کوئی چیز نہیں جاسکتی۔ آغا صاحب کو پتہ چلا تو اونچی آواز میں بولے، اگر ریاض فیضی زہر بھی لے کر آئے گا تو کھالوں گا....نجانے اور کتنے واقعے....آغا صاحب کی برسی پر کوئی پروگرام ہوتا تو سب سے پہلے پہنچتے، مگر اس سے قبل برادرم مسعود شورش کے ساتھ پلاننگ کرتے۔

مجھے بطور خاص ہدایت ملتی کہ آغا صاحب کی یاد میں پروگرام ہے تو تم نے بولنا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بچپن سے میری آئیڈیل شخصیات میں مولانا ابو الکلام آزاد، آغا شورش کاشمیری شامل تھے، گھر کا ماحول اور والد گرامی کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارنے کے سبب کتاب بینی، شعر و شاعری کے ساتھ ہمیشہ تعلق رہا۔ کوئی ایسی کتاب نہیں تھی جو والد صاحب کی لائبریری میں موجود نہ ہو۔ آغا صاحب سمیت مولانا مودودیؒ، سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی تقاریر بہت شوق سے سنتے تھے تو ریکارڈ بھی کر لیتے تھے۔ پھر ایک وقت آیا جب علامہ احسان الٰہی ظہیر نے میدان خطابت میں نام کمایا تو ان کی تقاریر سنی جانے لگیں۔ والد صاحب علامہ احسان الٰہی ظہیر کی مدینہ یونیورسٹی سے واپسی کے بعد ان کے قریبی دوستوں میں تھے، جن میں عبدالحمید کھوکھر سمیت دیگر شامل تھے۔ راقم بیرون ملک گیا تو اس عظیم باپ نے اپنے بیٹے، پوتے بارے بے شمار نظمیں لکھیں جو آج بھی میرا حوصلہ ہیں۔اپنے 24 سالہ دور صحافت میں راقم نے کبھی ذاتی نوعیت کا کالم تحریر نہیں کیا، مگر آج جب دورِ نفسانفسی، مادہ پرستی میں نگاہ دوڑاتا ہوں تو کوئی ایسا نظر نہیں آتا، جس نے نفع و نقصان کے بغیر والا کھاتہ دوستی کھولا ہو۔ وہ واحد دوست میرے والد گرامی تھے اور سچی بات یہ ہے کہ ان کی تعلیمات، کردار آج بھی میری رہنمائی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے سینئر صحافیوں، دانشوروں کے ہاں حاضری دیتا ہوں کہ وہ والد کے تعلق داروں میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام فوت شدگان کی مغفرت کرے اور جن کے والدین کا سایہ سلامت ہے، ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطاءفرمائے، آمین! والد گرامی نے یوں تو پنجابی، اردو، فارسی میں بہت سے شعر کہے، مگر عوامی قطعات اور شعروں نے بہت قبولیت پائی ، ان میں کچھ یوں ہیں:اے اہلِ حکومت دیکھو تو ہم تیر ستم کے بسمل ہیںیا لا کے قاتل پیش کرو، یا مانو ہم خود قاتل ہیںپھر کہا:فصلیں سروں کی لے کے کٹانے چلے ہیں ہمبزمِ وفا لہو سے سجانے چلے ہیں ہمشیشے کے گھر کے باسیو! گھر کو سنبھال لواب سنگِ انتقام اٹھانے چلے ہیں ہمگنج بخش و غوثِ اعظم، داتا و مشکل کشاتیرے بن کوئی نہیں ہے اے خدائے کبریا

مزید :

کالم -