حاضر ہوں مَیں تیرے حضور

حاضر ہوں مَیں تیرے حضور
حاضر ہوں مَیں تیرے حضور

  

صد شکر کہ رب کریم نے میرے دل میں یہ تمنا پیدا کی کہ مَیں حج کا مقدس فریضہ ادا کروں ، پھر اس ذات باری کا کرم کہ اس نے اس تمنا کو پورا کرنے کی خاطر مجھے مالی استطاعت عطا فرمائی اور آخر میں میرے ارادے اور اپنی عطا کردہ استطاعت کے بعد مجھے اس رحمتوں بھرے سفر کے لئے اذن عطا فرمایا .... اس سے قبل اللہ رب جلیل کا مجھ پر بے حد کرم رہا کہ مَیں تین بار بغرض عمرہ حجاز مقدس جا چکا ہوں۔ ایک بار عمرہ رمضان مبارک کے ماہ مکرم میں بھی رب عظیم کی کرم فرمائیوں کے باعث ادا کر چکا ہوں، مگر نہ جانے کیا بات ہے کہ اس بار جو دل میں ہلچل ہے ،اس سے قبل کبھی نہ تھی۔ آج تک دوستوں اور دیگر احباب سے سفر حج اور اس سفر خاص کے حوالے سے بہت سی باتیں اور بہت سے تجربات سنتا رہا ہوں، مگر اس کے باوجود عجیب سی بے کلی اور بے چینی ہے جو ہر دم میرے اندر موجود ہے۔ دل میں اٹھنے والے سوالات ہیں کہ امڈتے چلے آرہے ہیں خود ہی سوال کرتا ہوں اور خود ہی جواب تلاش کرتا ہوں۔ ایک طرف اللہ کے احکامات کی نافرمانیاں ہیں تو دوسری طرف اس کے جود وکرم کے ڈھیر۔حج کا فریضہ بھی کیا ہے؟ کیا اللہ رب جلیل نے صرف اور صرف اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام، ان کی شریک حیات اور ان کے جلیل القدر فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سنت اور اعمال کو تاابد محفوظ رکھنے کے لئے اس فریضے کی حکم فرمایا اور اپنے خلیل اور اس کے اہل خانہ کی سنت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان کی مکمل تربیت اور اس کے اپنے رب کے ساتھ کئے گئے عہد کو بھی یاد دلانا مقصود تھا؟ یقینا ایسا ہی تھا۔ حج کا بنیادی مقصد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کی سنت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان کی تربیت اور انسانوں کا اپنے رب سے کیا گیا عہد یاد دلانا مقصودہے۔روئے ارض کے کونے کونے سے آئے ہوئے اہل اسلام ہر رنگ، ہر نسل اور ہر قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد جب ایک نظام الاوقات کے تحت ایک ساتھ اللہ کے حکم کے مطابق اس کی عبادت کرتے ہیں اور ایک ہی آواز میں اس کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے ہیں، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تمام تعریفیں اور تمام بادشاہتیں صرف اسی کو زیبا ہیں تو ابلیس اوراس کے حواریوں کو یقینا سخت بے چینی ہوتی ہوگی، لیکن ابلیس اور اس کے حواریوں کی پریشانی کے یہ لمحات زیادہ طویل نہیں ہوتے، چند روز بعد ہی اللہ کو لاشریک گرداننے والے اور اللہ ہی کو تمام حمد و ثناءاور تمام بادشاہتوں کے مالک ہونے کا اعلان کرنے والے مسلمان اپنے دنیاوی معبودوں اور ظاہری بادشاہوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لئے تیارہو جاتے ہیں۔ حیرت تو یہ ہے کہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس سفر مقدس پر مالی اخراجات، صرف اللہ رب جلیل کی خوشنودی کی خاطر دنیاوی پریشانیاں جھیلنے کے باوجود اہل ایمان کی اکثریت اپنے عرفات و منیٰ کے قیام اور حرم مقدس میں طواف کے دوران دی گئی شہادت اور کئے گئے عہد کو بھلا کر اپنے نئے معبودوں اور نئے بادشاہوں کو خوش کرنے کے لئے صف آراءہو جاتے ہےں۔ 

موجودہ دور میں میڈیا اور لائیو کوریج کے باعث حج کے مناظر دنیا کے کونے کونے میں دکھائے جا رہے ہوتے ہیں، لاکھوں افراد کے اس روح پرور اجتماع اور لاکھوں افراد کی جانب سے اللہ کے احکامات کی تمام جزئیات کے ساتھ بجا آوری کے باوجود اسلام کے دشمن اہل ایمان کے اس اجتماع اور اتحاد کے ساتھ ساتھ ان کی کثیر تعداد سے خوفزدہ کیو ںنہیں ہوتے؟ کیا حجاج کرام اور ان کے ساتھ دیگر تمام اہل ایمان نے کبھی غور کیا؟ کیونکہ ہمارے دشمنوں کو علم ہے کہ یہ تمام لوگ صرف اپنی زبانوں سے اللہ کے لاشریک ہونے کا اعلان کر رہے ہیں، نہ ان کے ذہن اور نہ ان کے قلب، ان کی زبان کے ساتھ ہیں اور جب کسی کی زبان اس کے ذہن و قلب کے ساتھ نہ ہو تو نہ اس کا عہد پختہ ہوتا ہے اور نہ اس کی گواہی معتبر۔ اسی لئے حج کا عظیم اجتماع دنیا کے لئے ایک انبوہ کے سوا کچھ بھی نہیں، مسلمانوں کی یہ کشیر تعداد نہ اپنے لئے سود مند ہے اور نہ غیروں کے لئے قابل توجہ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے صحابہؓ کی محفل میں تشریف رکھتے تھے تو بیان فرمایا (مفہوم) کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا، جب مسلمانوں کا یہ حال ہو گا کہ جیسے تیز رفتار پانی میں کسی تنکے کا ہوتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے پریشان ہوتے ہوئے گزارش کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر ہماری زندگیاں قربان، کیا اس زمانے میں مسلمانوں کی تعداد اتنی قلیل ہو جائے گی کہ وہ اس طرح بے وقعت ہو جائیں گے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، قطعاً ایسا نہیں ہو گا، بلکہ اس زمانے میں مسلمانوں کی تعداد بنی کلب (عرب قبیلہ جن کے پاس وسیع تعداد میں بکریاں ہوتی تھیں) کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ ہو گی، لیکن اس وسیع تعداد کے باوجود اس دور کے مسلمانوں کے دل ایمان سے خالی ہوں گے، اسی لئے ان کی وسیع تعداد کے باوجود زمانے میں وہ بے حیثیت ہوں گے اور ان کی حالت اپنے دشمنوں کے سامنے ایسی ہی ہو گی کہ جیسی تیز بہتے پانی کے سامنے تنکے کی ہوتی ہے۔ہماری بدقسمتی کہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ اس بدترین دورمیں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری اس حالت کا ذمہ دار کون ہے.... کیا ہمارے حکمران؟ کیا ہمارے علمائے کرام؟ کیا ہمارے والدین؟ یا پھر اجتماعی طور پر ہم تمام مسلمان؟ یقینا اس شرمناک حالت زار کی ذمہ دار تمام امت اجتماعی طور پر ہی ہے۔ کثیر تعداد کے باوجود ایسی قابل رحم حالت، لیکن اس سے بھی بڑھ کر قابل تشویش بات یہ کہ ہم اجتماعی طور پر اس ذلت و پستی سے نکلنا بھی نہیں چاہتے۔ ہم دکھاوے کی خاطر اپنی حالت رسوائی کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہماری یہ خواہش، چونکہ صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک ہی ہوتی ہے، اس لئے ہماری یہ ساری خواہش اور ساری تگ و دو بے نتیجہ بہ بقول حضرت علامہ اقبالؒ:زبان سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصلدل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیںآج کل مسلمانوں اور مسلم مملکتوں میں تبدیلی کی بڑی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ خود ہمارے ملک میں بھی آنے والے انتخابات کے حوالے سے تبدیلی کا ایک شور بلند ہے، لیکن ہماری یہ تبدیلی کی خواہش بھی دوسروں کے لئے ہے ہم دوسرے تمام افراد میں تبدیلی دیکھنے اور تبدیلی لانے کے خواہش مند ہیں ،لیکن نہ خود کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور نہ خود کو قابل اصلاح سمجھتے ہیں۔ حکمرانوں میں بھی تبدیلی کی خواہش اس لئے رکھتے ہیں کہ ہم حکمرانی کی مسند پر اپنی پسند کے چہرے دیکھنا چاہتے ہیں نہ نظام میں تبدیلی ہماری خواہش ہے اور نہ ذہن و قلب میں تبدیلی ہماری منزل جب تک ہمارے ذہن و قلب تبدیل نہ ہوں گے، نہ ہماری ذلت و رسوائی کے دن ختم ہوں گے اور نہ ہی اللہ کے فرمان کے مطابق ہم دنیا پر حکمرانی کے حقدار ہو سکتے ہیں ذہن و قلب کی تبدیلی کے بغیر حج کا فریضہ ادا تو کیا جا سکتا ہے، نہ حج کے ثمرات ہمیں نصیب ہو سکتے ہیں اور نہ اس طرح کے حج ہماری زندگیوں میں کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں:ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیاکند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیامکس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدید؟ہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرام

مزید :

کالم -