ایون صدر ،فوج کے سیاسی پرآئین کی قینچی نے کاٹ دئیے

ایون صدر ،فوج کے سیاسی پرآئین کی قینچی نے کاٹ دئیے
ایون صدر ،فوج کے سیاسی پرآئین کی قینچی نے کاٹ دئیے

  

سپریم کورٹ نے ” اصغر خان کیس“ کا فیصلہ سنا دیا ہے، یہ کیس1996 ءمیں ائیر مارشل(ر) اصغر خان کی درخواست پر شروع کیا گیا ، درخواست کے مطابق 1990 ءکے عام انتخابات میں بدعنوانی ہوئی اور آئی ایس آئی نے سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کرکے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی ) قائم کیا، دوران سماعت یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اس وقت کے صدر غلام اسحق خان کے حکم پر ایوان صدر کے اندر الیکشن سیل قائم کیا گیا،جس کا مقصد من پسند سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو انتخاب جیتنے کے لئے سہولتیں فراہم کرنا تھا، عدالت نے اس سلسلے میں اس وقت کے صدر غلام اسحق خان، چیف آف آرمی سٹاف اسلم بیگ اور جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے آئین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، عدالت نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ فوج اور دیگر فوجی ادارے سیاست میں ملوث نہیں ہو سکتے، ایسا کرنا آئین کے منافی ہے، نہ صرف یہ بلکہ صدر مملکت بھی کسی سیاسی جماعت کی حمائت نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے جہاں ایک طرف 1990 ءمیں رقوم وصول کرنے والے سیاستدان (جن میں مبینہ طور پر بڑے بڑے نام شامل ہیں) ایف آئی اے کی تحقیقات کی زد میں آئیں گے تو دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کا سیاسی کردار بہت محدود ہو گیا ہے، وہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں اور ایوان صدر میں وہ اپنی جماعت اور اس کے اتحادیوں کے اجلاس بھی بلاتے رہتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل41 کے تحت صدر مملکت جمہوریہ کے اتحاد کا مظہر اور نمائندہ ہوتا ہے، غیر جانبداری اور کسی بھی سیاسی جماعت سے عدم وابستگی اس عہدے کا آئینی تقاضہ ہے جس کا اظہار سپریم کورٹ نواز شریف کیس میں بھی کر چکی ہے۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ اپنے پاس رکھنا غیر آئینی ہے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے اس آئینی صورتحال پر بھی مہر تصدیق مثبت کر دی ہے کہ صدر آصف علی زرداری کسی ایک سیاسی جماعت کے صدر بن کر رہیں گے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گا، آصف زرداری اپنی جماعت کے سیاسی و انتخابی جلوسوں سے خطاب نہیں کرسکیں گے۔اس حوالے سے الیکشن کمیشن بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایسے انتخابی جلسوں پر پابندی لگا سکتا ہے جن سے صدر نے خطاب کرنا ہو۔

سپریم کورٹ نے ایوان صدر سے کوئی رعایت کی ہے اور نہ ہی سیاستدانوں اور فوجی حکام کو بخشا ہے۔ عدالت نے فوج، آئی ایس آئی، ایم آئی اور حتیٰ کہ آئی بی کے آئینی و قانونی دائرہ کار کا تعین کر دیا ہے، عدالت عظمیٰ رقوم بانٹنے والے حکام اور رقوم وصول کرنے والے سیاستدانوں کا ٹرائل نہیں کر رہی تھی، اس کے زیر نظر ایوان صدر اور فوج کے سربراہ و دیگر ان کا ایک اقدام تھا، جسے آئین کے معیار پر پرکھا جانا تھا۔عدالت عظمیٰ نے اس حوالے سے ایک ” لینڈ مارک“ فیصلہ دیا ہے، جس کے نتیجے میں انتخابی اور سیاسی معاملات میں مختلف اداروں کی غیر قانونی مداخلت کے پَر آئین کی قینچی سے کاٹ دئیے گئے ہیں، ٹرائل کا مرحلہ ایف آئی اے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آئے گا۔ اگر رقوم کی وصولی متعلقہ عدالت میں ثابت ہو گئی تو متعلقہ سیاستدانوں پر نا اہلی کی تلوار لٹک جائے گی کیونکہ ان کا صادق اور امین نہ ہونا ثابت ہو جائے گااور آئین کا آرٹیکل62(1) ایف ایسے سیاستدانوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا، علاوہ ازیں ایسے سیاستدان جواسمبلی کی رکنیت کے لئے نا اہل ہوں وہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت کسی سیاسی جماعت کے سربراہ یا عہدیدار بھی نہیں بن سکتے، اس طرح تو اس فیصلے کے اثرات اتنی دور تک جائیں گے کہ کئی سیاستدانوں کا سیاسی مستقبل داﺅ پر لگ سکتا ہے۔

سریم کورٹ میں پیش کی جانے والی فہرست کے مطابق رقوم حاصل کرنے والوں میں مبینہ طور پر میاں نواز شریف، سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی، محمد خان جونیجو مرحوم ، جا م صادق، لیفٹیننٹ جنرل(ر) رفاقت، جام یوسف، حاصل بزنجو، عابدہ حسین، میر افضل خان،نادر مگسی، ہمایوں مری، پیر پگاڑ ا مردان شاہ(مرحوم) ،غلام مصطفی جتوئی اور دو اخبار نویسوں کے علاوہ جماعت اسلامی کا نام بھی شامل ہے۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کے نتیجے میں جن سیاستدانوں کے خلاف ثبوت مل گئے ان کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا اور سزا ملنے کی صورت میں وہ اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل بھی ہو سکتے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -