عوامی پذیرائی کی لہریں

عوامی پذیرائی کی لہریں
 عوامی پذیرائی کی لہریں

  

بانی پاکستان حضرت قائداعظم ؒ ایسی نابالغہ روزگار شخصیت تھے جن کی عوامی پذیرائی ابھی تک قائم ہے۔ جناح صاحب کے نقطہ نظر سے اختلاف رکھنے والے لوگوں کی بھی کمی نہیں لیکن ان کے نظریہ کی اساس اس قدر پرکشش تھی کہ اس نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک کر ان کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ مسلمانوں میں ان کے سیاسی نظریہ کی اس قدر پذیرائی ہوئی لوگ ایک جماعت کی صورت ان کے اردگرد جمع ہوئے اور اپنے نظریہ اور سیاسی فلسفہ کی بنیاد پر وہ اس قدر مقبول ہوئے کہ مسلم امہ میں بہت کم لوگوں کو مقبولیت کا ایسا اعزاز حاصل ہوا جو سیاسی طورپر قائداعظم ؒ کو ہوا۔ عوامی پذیرائی کا یہ اعزاز صرف اور صرف ان کے ایک مخصوص نظریہ کی وجہ سے تھا۔ مزید برآں ان کے سیاسی نظریہ کی سچائی اور پختگی ہی تھی جس سے ان کی مقبولیت ہمہ گیر ہوئی۔ جو پروگرام انہوں نے پیش کیا وہ اس قدر ناقابل شکست فلاسفی بنا کہ برصغیر کے انگریز حکمران اور ان کے حلیف ہندو لیڈر ان کے سامنے سینہ سپر نہ ہوسکے اور ان کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

قائداعظمؒ کے نظریہ نے مسلمان قوم میں وہ ولولہ اور جوش پیدا ہوا کہ ان کی قیادت مقبولیت کی اوج پر پہنچ گئی اور یہ عوامی پذیرائی اس قدر بلند تھی کہ ان کے جلسہ میں آنے والے حاضرین اگرچہ ان کی انگریزی میں کی گئی تقاریر کا ایک لفظ بھی نہ سمجھتے تھے لیکن وہ یہ زعم ضرور رکھتے تھے کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ سچ اور حق ہے اور یہ کہ ان کا لیڈر جھوٹ نہیں بولتا۔ ان کے سیاسی نعرہ یا پروگرام کی گہرائی کا ہی کمال تھا کہ مقبولیت کے جس معیار پر وہ فائز ہوئے وہ کسی اور مسلمان سیاسی لیڈر کو نصیب نہ ہوسکا۔ ان کے سیاسی نظریہ کی سچائی کی وجہ سے مقبولیت کی یہ لہر آج تک قائم ہے اور اس کی بنیاد پر ایک ملک معرض وجود میں آگیا جو سیاسی تاریخ کا ایک بے مثل واقعہ ہے۔ اگر وہ سیاسی پروگرام نہ دے سکتے تو کیا ایسا ہوتا اور کیا اسی طرح پاکستانی قوم میں مقبول ہوتے اور دنیا کے عظیم سیاسی زعماءمیں اپنا نام لکھوا سکتے تھے اور دنیا کے نقشہ پر ایک ایسے ملک کو تخلیق کرسکتے۔ ایسا صرف اور صرف ایک نظریہ کی اساس پر ہو سکا۔ اس نظریہ کی بدولت جو مقبولیت قائداعظم ؒ کے حصہ میں آئی کیا برصغیر کے کسی اور سیاستدان کو نصیب ہوئی۔

پاکستان کی تشکیل کے بعدعوامی مقبولیت کی ایک اور لہر 1970ءکی دہائی میں بھی دیکھی گئی یہ ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی مقبولیت کا دورتھا ۔ بھٹو صاحب نے بھی عوامی پذیرائی کا وہ مقام حاصل کیا جو قائداعظم ؒ کے بعد کسی سیاست دان کا مقدر نہیں بن سکا۔ اگر ان کی اس مقبولیت کا تجزیہ کیا جائے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ انہوں نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر محروم اور پسے ہوئے طبقات کے لئے ایسے سیاسی پروگرام کا اعلان کیا جس میں عوام کے لئے کشش تھی۔ بھٹو صاحب کی مقبولیت کے پیچھے جو عناصر کارفرما تھے وہ ایک نظریہ اور اقتصادی پروگرام تھا جس کی کشش کی وجہ سے عوام ان کے گرد جمع ہوئے کیونکہ انہوں نے سیاسی طورپر عوام کو کامیابی سے باور کرایا کہ چند بنیادی اقتصادی تبدیلیاں لاکر ہی ان کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکتا تھا۔ اس لئے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک ایسے مقبول عوامی لیڈر تھے جنہوںنے عام آدمی کو یہ امید دلائی کہ تبدیلی کے لئے ایک خاص اقتصادی پروگرام پر عمل کرنا ہوگا۔

 وہ ایک ایسے سیاستدان تھے، جنہوں نے ایک خاص سیاسی نظریہ کو متعارف کرایا اور لوگوں کو یہ عندیہ دینے میں کامیاب رہے کہ عہد کہن کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ اسی منشور اور پروگرام کا کرشمہ تھا کہ لوگ ان کو سننے کے لئے بڑے بڑے اجتماعات کی صورت میں اکٹھے ہوئے۔ بھٹو کے اس سیاسی فلسفہ کو جسے بھٹو ازم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کتنی کامیابی ملی، ایک علیحدہ بحث کا موضوع ہے جس کے لئے بہت کچھ کہاجاچکا ہے اور کہا جاتا رہے گا۔ ان کا مقبول نعرہ جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ایک باقاعدہ نظریہ¿ سیاست تھا جو انتہا درجہ مقبول ہوا اور عوامی پذیرائی کی مثال بنا کیونکہ یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک پورا سیاسی منشور تھا جس میں عوامی اپیل موجود تھی ۔ اپنے نظریات پر بھٹو صاحب کہاں تک قائم رہے اور اس پر عمل کیا یہ تاریخ کا ایسا باب ہے جس پر پھر کسی اور نشست میں بات ہوگی لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ان کا نعرہ ایک ایسا سیاسی پروگرام تھا کہ اگر اس پر عمل ہو جاتا تو پاکستان کی حالت زار تبدیل ہو جاتی۔

ملک کی تاریخ میں تیسری مرتبہ عوامی مقبولیت اور پذیرائی کی ایک لہر اٹھتے ہوئے نظر آرہی ہے جس کی بنیاد عمران خان نے رکھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عوامی پذیرائی کی یہ لہر خان صاحب کو اس مقام تک لے جاسکتی ہے جس پر ان کے پیش روفائز ہوچکے ہیں، خان صاحب کی مقبولیت سے انکار نامکمن ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی نظریہ یا بنیاد دکھائی نہیں دیتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کی مقبولیت سیاسی نظریات سے زیادہ اس نظام سے نفرت کا اظہار ہے جو اس وقت ملک میں قائم ہے کیونکہ موجودہ سیاسی نظام اس قدر فرسودہ ہے کہ عوام کی اکثریت اس سے متنفر دکھائی دیتی ہے اس نظام نے عام آدمی کی زندگی اس قدر اجیرن کررکھی ہے کہ وہ تبدیلی کے نعرہ سے متاثر ہوکر عمران خان کے گرد اکٹھے ہوچکے ہیں اور ہرطرف لوگ ان کے لئے دیدہ¿ ودل فرش راہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

 اصل میں لوگوں کے اندر یہ تبدیلی اس نظام سے بغاوت ہے جو اس وقت ان کے اوپر مسلط ہے حالانکہ اگر تجزیہ کیا جائے تو فی الوقت خان صاحب کا اپنا نظریہ اور سیاسی فلسفہ مبہم ہے۔ وہ کوئی ایسا سیاسی پروگرام دینے میں ناکام نظر آتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ تبدیلی لاسکتے ہیں۔ وہ موجودہ نظام کے ناقد ضرور ہیں لیکن ان کے پاس اس کا متبادل نظر نہیں آتا۔ ان کے پاس مستقبل کی ٹھوس اقتصادی اورسیاسی حکمت عملی کا فقدان نظر آتا ہے جس کے ذریعہ نظام کے اندر تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ موجودہ سسٹم سے عوامی بیزاری ان کی مقبولیت کا ایک بڑا ذریعہ بن رہی ہے جس میں ان کی شخصی کرشماتی شخصیت کا بھی حصہ ہے لیکن کیا صرف کرشماتی شخصیت کی بنا پر وہ آئندہ کے لئے قوم کے لئے کچھ کرسکتے ہیں اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے لیکن کم ازکم اس وقت ہمیں اس سلسلہ میں کوئی زیادہ امید نہیں۔ ذاتی شخصی کرشمہ تو بھٹو صاحب کی ذات میں بھی بہت موجود تھا۔ اور مزید برآں اس لیڈر کے پاس پروگرام اور منشور بھی تھا لیکن عمل درآمد کے مصداق سے اس پروگرام سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔

 اگر خان صاحب کسی ٹھوس اقتصادی پروگرام کو متعارف نہ کراسکے تو یہ مقبولیت ختم بھی ہوسکتی ہے۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ضرور ہے کہ خان صاحب نے بھٹو صاحب کی طرح عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا ہے اور لوگوں کو احساس دلایا ہے وہ اپنی حالت بدلنے کے لئے باہر نکلیں۔ اس کارخیر میں طاہرالقادری کا بھی ایک قابل بیان حصہ ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ قادری صاحب کا منشور اور پروگرام ٹھوس شکل میں بھی موجود ہے تو یہ غلط نہ ہوگا لیکن سیاسی قد کاٹھ کے لحاظ سے عمران خان جس جگہ موجود ہیں وہاں سے تبدیلی لائی جانا ممکن ہوسکتی ہے بشرطیکہ ان کے پاس مستقبل کی ٹھوس حکمت عملی موجود ہو کیونکہ لوگوں کی اس قدر والہانہ انداز سے ان کے جلسوں میں شمولیت اس بات کی غماز ہے کہ وہ تبدیلی کے نقیب بن کر سامنے آئے ہیں اور عوام بھی ایسی تبدیلی کے لئے تیار ہوچکے ہیں۔ اس لئے قوم کے سیاسی شعور کی بیداری ایک ایسا کارنامہ ہے جس کا کریڈٹ بہرحال عمران خان کو جاتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کے اس موڈ کو استعمال کر کے ملک کے نظام کو تبدیل کرنا کیسے ممکن ہوگا۔اس کے لئے عمران خان کو ایک ایسے سیاسی، اقتصادی اور عمرانی نظام کے خدوخال وضع کرنے چاہئیں جو اس تبدیلی کو قابل عمل بناسکے۔

 عمران خان کے پاس ایک ایسا سنہری موقع میسر آیا ہے کہ اسے عملی شکل ملنی چاہئے اوریہ تب ہی ممکن ہے اگر ان کے پاس ایک ایسا منشور موجود ہو جو واقعی اس تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکے اور اگر اس سنہری موقعہ کوگنوادیاگیا تو پھر دہائیوں تک قوم مزید اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی اور عوامی پذیرائی کی جس لہر پر وہ سوار ہیں ختم ہو جائے گی، کیونکہ قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع شادہی میسر ہوتے ہیںاس لئے اس موقعہ کو ضائع نہیں ہونا چاہئے ۔ سال ہا سال کی عوامی محرومیوں نے بیداری پیدا کرنے کے لئے مہمنیرکا کام کیا ہے اور اگر اس کو لیڈر شپ میسر نہ آئی تو یہ قوم کی بدقسمتی ہوگی۔ خان صاحب کو اس وقت ضرورت ہے کہ ایک تھنک ٹینک قائم کرےں جس میں ملک کے چیدہ چیدہ اقتصادی ماہرین ہوں جو آنے والی تبدیلی کے خدوخال تشکیل دیں اور پھر اسے پالیسی دستاویز کے طورپر منشور کی صورت میں قوم کے سامنے رکھا جائے تاکہ اس پر خاطر خواہ قومی بحث ہوسکے تاکہ ایک ایسا قومی پروگرام مرتب کیا جاسکے جو آئندہ نظام کی بنیاد بنے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کے پاس بہت زیادہ وقت نہیں ہے اور ان کو اس تھوڑے وقت سے فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوسکا تو عوامی مقبولیت کی موجودہ لہر ابھار کو چھونے سے پہلے ہی ختم بھی ہوسکتی ہے کیونکہ تبدیلی کے خلاف عناصر اپنی سازش سے اسے ناکام بناسکتے ہیں۔

اب جبکہ قوم تبدیلی کے لئے تیار ہے، یہ عناصر مختلف حیلوں بہانوں سے اس کے خلاف بند باندھ سکتے ہیں لیکن ایسے عناصر کو شکست دینے کے لئے فوری طورپر قومی اقتصادی ایجنڈا سامنے آجانا چاہئے اگر قوم کواس مرحلہ پہ ایک اچھی لیڈر شپ میسر آجائے، تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوسکا تو مایوسی کی لہر بھی انتہائی شدید ہوگی جس سے اس قوم کے اندھیرے مقدرکو روشنی میسر آنے میں کئی عشرے درکار ہوں گے۔ کیونکہ کسی سیاسی قیادت پراعتماد اور اعتقاد ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو استعمال کرکے نظام کی تبدیلی کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اور ایسا اعتماد پیدا ہونے میں بہت وقت درکار ہوتا ہے اس وقت ہماری ابھرتی ہوئی سیاسی قیادت کا امتحان ہے جس میں کامیابی ضروری ہے وگرنہ ناکامی کی صورت میںقوم کی بدقسمتی کا ہی دخل ہو سکتا ہے۔

مزید :

کالم -