ہر ضلع میں یونیورسٹی بنانے کی ضرورت

ہر ضلع میں یونیورسٹی بنانے کی ضرورت

پنجاب اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کی جائے۔ یہ قرارداد جماعتِ اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر وسیم اختر کی طرف سے پیش کی گئی، جس کی تمام ممبران نے منظوری دی۔ ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے قرارداد اِس تاثر کو نمایاں کرتی ہے کہ صوبہ پنجاب میں علمی ماحول ماضی کے مقابلے میں زیادہ اثر انگیز ہے۔ اِسی علمی ماحول کو پروان چڑھانے کے لئے یونیورسٹیوں کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ مذکورہ قرارداد کے محرک صوبہ پنجاب کو ’’یونیورسٹیوں کا صوبہ‘‘ بنانے کے خواہشمند ہیں۔ پنجاب میں اضلاع کی تعداد35ہے، اگر قرارداد پر من و عن عملدرآمد ہو تو پہلے سے قائم چند سرکاری یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر گنتی کی جائے گی، تو35نئی یونیورسٹیوں کی بہار پورے صوبے میں دیکھنے کو ملے گی۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف صوبے میں تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ توقع رکھنی چاہئے کہ وہ پنجاب اسمبلی کی متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد پر عملدرآمد کی منظوری دے دیں۔ ویسے بھی وہ چیلنج بڑے شوق سے قبول کیا کرتے ہیں۔بہرحال، اِس قرارداد کے حوالے سے یہ بات بہت آسان ہو گی کہ اضلاع میں پہلے سے موجود ڈگری کالجوں کو اَپ گریڈ کر کے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا جائے تو نئی یونیورسٹیوں کے قیام پر اُٹھنے والے اخراجات کی خاصی بچت ہو جائے گی، تاہم ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرتے ہوئے ڈگری کلاسز کے لئے نئی عمارتوں کی تعمیر کے لئے اراضی کا بندوبست پہلے ہی کر لیا جائے،ورنہ یونیورسٹی بنانے کے اعلان کے بعد مشکلات کا سامنا ہو گا اور مخالفین یہ کہہ سکیں گے کہ تعلیم کے نام پر مذاق کیا جا رہا ہے۔

مزید : اداریہ