کہیں ہم ہاتھ نہ ملتے رہ جائیں

کہیں ہم ہاتھ نہ ملتے رہ جائیں
 کہیں ہم ہاتھ نہ ملتے رہ جائیں

  

جب سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کنٹینر پر کھڑے’’ گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگوا رہے تھے، تو مَیں ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھا پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا، جی ہاں پاگلوں کی طرح اِس لئے کہ مجھے،یعنی عوام کو سارے پاکستانی سیاست دان پاگل ہی سمجھتے ہیں۔ یہ مراد علی شاہ کا وقتی جوش تھا یا اِس بات کا غصہ کہ ہر اہم سرکاری میٹنگ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کو تو شامل کیا جاتا ہے، مجھے کیوں نہیں بلایا جاتا، لیکن ہنسی کا سبب یہ نکتہ تھا کہ بلاول بھٹو زرداری بھی اب یو ٹرن لے کر گو نواز گو کے نعرے سے دستبردار ہو چکے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کی موجودگی میں ’’کفریہ‘‘ جملوں سے انکار کر چکے ہیں کہ انہوں نے منتخب وزیراعظم کو غدار کہا ہے یا انہیں دھکا دے کر گرتی ہوئی دیوار کو جلد گرا دینے کی بات کی ہے۔ ایسے میں مراد علی شاہ کا کنٹینر پر کھڑے ہو کر عمران خان والے نعرے لگوانا ایک بہت بڑا لطیفہ نظرآتا ہے۔ پتہ نہیں وہ دن کب آئے گا،جب ہمارے یہ پیارے سیاست دان عوام کو بے وقوف سمجھنا چھوڑ دیں گے۔ ایک سیانے کا قول ہے کہ جب کوئی کسی دوسرے کو بے وقوف بنانا چاہتا ہے تو اُس سے پہلے وہ خود بے وقوف بن چکا ہوتا ہے، کیونکہ کسی کو بے وقوف سمجھنا بھی ایک بہت بڑی بے وقوفی ہے۔

پیپلزپارٹی آج کل عجیب مخمصے میں ہے۔ اُس کے رہنماؤں کو یہ احساس ہے کہ فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر کے انہوں نے پیپلزپارٹی کو زمین سے لگا دیا ہے۔ کراچی میں سانحۂ کار ساز کے حوالے سے ریلی کو پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا احیا سمجھنا بھی ایک بے وقوفی ہے۔حالیہ دِنوں میں جماعت اسلامی نے بھی اس سے بڑی ریلیاں کئی مواقع پر کراچی میں نکالی ہیں۔ تحریک انصاف بھی بڑے بڑے جلسے کر چکی ہے، حتیٰ کہ پاک سرزمین پارٹی نے اپنا پہلا جلسہ بھی کچھ کم نہیں کیا تھا۔ قمرزمان کائرہ ایک ٹی وی ٹاک شو میں یہ کہہ رہے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ریلی جس علاقے سے بھی گزری، اُس کے گھروں اور چھتوں پر لوگ ہی لوگ تھے۔ ارے بابا ہنسی پر ہنسی آ رہی ہے مجھے تو۔ سڑک پر خالی ڈھول بھی بج رہا ہو تو لوگ بالکونی یا چھت پر آ کر جھانکنے لگتے ہیں، یہ تو بلاول بھٹو زرداری کی ریلی تھی، لوگ اُسے کیوں نہ دیکھتے، مگر سوال یہ ہے کہ کراچی کے لئے پیپلزپارٹی کی حکومت نے کیا کِیا ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جا سکے کہ لوگ پھر اُس کے دیوانے ہو گئے ہیں۔ یہ تو شکر ہے کہ ایک بزرگ شاہ کی جگہ جوان شاہ وزارتِ اعلیٰ پر متمکن ہے۔ اگر وہی شاہ ہوتے تو لوگوں کو زیادہ ہنسی آنی تھی کہ پیپلزپارٹی آج بھی ایک بھلکڑ شاہ کے ذریعے کراچی میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ کراچی کے عوام پانی، بجلی اور صفائی کے لئے دہائیاں دے رہے ہیں، اِس حوالے سے کوئی ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا۔ یہ سب صوبائی حکومت کے کام ہیں، مگر اس کے باوجود نعرے گو نواز گو کے لگائے جاتے رہے۔ بلاول نے تو پتنگ کا بھی بو کاٹا کر دیا ہے۔ اُس پتنگ کا جو آج کل ویسے ہی بند ہوا کے باعث اُڑ نہیں پا رہی اور جھول کھائے دوبارہ زمین پر آ گرتی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی شکست و ریخت ضرور ہوئی ہے، مگر پیپلزپارٹی کس خوشی میں یہ کہہ سکتی ہے کہ اُس کے سارے حامی پیپلزپارٹی کی جھولی میں آ گریں گے۔ آٹھ سال سے سندھ کے تخت پر براجمان جماعت ،جس کے دور میں کراچی کسی بھی بڑے ترقیاتی منصوبے سے محروم رہا، کیونکر یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اب وہ اس شہر کی تقدیر بدل دے گی۔

عوام کو بے وقوف بنانے یا سمجھنے کی سوچ صرف پیپلزپارٹی تک محدود نہیں، اس حمام میں سب ننگے ہیں، جس روز وزیراعظم نواز شریف کو کنونشن سنٹر اسلام آباد کے اجلاسِ عام میں مسلم لیگ(ن) کے ووٹروں نے پارٹی کا صدر منتخب کیا، اُسی روز شام کو تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے رہنما اسے عوام کو بے وقوف بنانے کی ایک کوشش قرار دے رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے مقابلے میں کون آ سکتا تھا۔ مولا بخش چانڈیو نے تو یہ تک کہہ دیا کہ جس پارٹی کا نام ہی مسلم لیگ نواز ہو،اُس کا صدر نواز شریف نہ ہو تو اور کون ہو۔ اُن سب کی گفتگو سن کر لگ رہا تھا کہ صرف مسلم لیگ(ن) ہی ایسی جماعت ہے، جس کے نواز شریف32سال سے صدر چلے آ رہے ہیں، باقی جماعتوں کے قائدین تو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں،حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان میں سوائے جماعتِ اسلامی کے ہر سیاسی جماعت پر ایک قائد یا خاندان قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ آیا عمران خان کے مقابلے میں تحریک انصاف کا کوئی صدر بن سکتا ہے۔ کیا پیپلزپارٹی کو آصف علی زرداری سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے، کیا اے این پی میں ولی خاندان کے سوا کسی کی اجارہ داری قائم ہو سکتی ہے، کیا مسلم لیگ (ق) میں چودھری برادران کی جگہ کوئی لے سکتا ہے؟ ناصاحب نا، ایسا تو سوچنا بھی گناہ ہے، سب کو سب کچھ معلوم ہے، اس کے باوجود عوام کو بے وقوف بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ الیکشن کمیشن کی شرط نہ ہو تو کوئی یہ جھوٹے سچے الیکشن کرانے کی بھی زحمت نہ کرے۔ ہماری جمہوریت کی اصل کمزوری یا خرابی تو ہے ہی یہ کہ اس کی سیاسی جماعتیں جاگیر کے طور پر چلائی جاتی ہیں ۔ اس میں قصور عوام کا بھی ہے کہ وہ شخصیات سے تعلق جوڑتے ہیں، مثلاً ایم کیو ایم کو الطاف حسین کے بغیر قبول نہیں کرتے، تحریک انصاف پر کپتان کو فوقیت دیتے ہیں، مسلم لیگ (ن) کو نواز شریف کے بغیر کچھ نہیں سمجھتے، سو ایسے میں ہو گا تو وہی جو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ہوا ہے، مگر اس کے باوجود ان سیاسی جماعتوں کے رہنما، جن کے اندر خود اِسی قسم کی شخصی آمریت ہے، تنقید کرنے سے باز نہیں آتے، حالانکہ جب حمام میں سب برہنہ ہوں تو دوسرے کی طرف انگلی اٹھانا اپنی برہنگی کو نمایاں کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے تو موجودہ حکومت کے بارے میں کہا تھا کہ مغلیہ بادشاہت کی طرح چلائی جا رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری اس جمہوریت کے خمیر میں ہی یہ صفت ڈال دی گئی ہے کہ وہ بادشاہت ہی نظر آتی ہے۔ یہ آج کی بات تو نہیں کہ فردِ واحد کے چشم و ابرو ے کے اشارے پر نظام چل رہا ہے۔ یہاں تو جو آمر آتے رہے ہیں، انہوں نے بھی جھوٹے سچے عوامی ایوان بنا کر مغلیہ بادشاہوں کی طرح حکمرانی کی ہے،یعنی اس بادشاہت میں جعلی یا نقلی جمہوریت کا تڑکا ضرور لگانا پڑتا ہے، باسی دال کو تازہ ثابت کرنے کیلئے گھی اور مرچ مصالحہ نیا ڈال دیا جاتا ہے۔ مغل بادشاہ تو بیچارے سر پر بیٹھ کر بادشاہت کرتے تھے، یہاں تو دبئی اور لندن میں بیٹھ کر بھی بادشاہت چلائی جاتی ہے، کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ حکم عدولی کر سکے، سو یہ خرابی دائمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وزیراعظم نواز شریف پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے خطاب میں یہ کہہ رہے تھے کہ اُن کے دور میں مُلک نے بہت ترقی کی ہے اور اس ترقی کا پیمانہ سڑکوں کی تعمیر کو قرار دے کر انہوں نے عمران خان پر نام لئے بغیر سخت تنقید کی تو کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ دو نومبر کی متوقع صورتِ حال سے فکر مند ہیں،مگر کیا انہیں واقعی فکر مند نہیں ہونا چاہئے۔کیا اِس بات کا خطرہ موجود نہیں کہ اس روز کوئی سانحہ بھی ہو سکتا ہے؟ ریاست اور ہجوم جب آمنے سامنے ہوتے ہیں تو کوئی بھی ناخوشگوار صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ ابھی تک حکومت نے اِس سلسلے میں اپنی حکمتِ عملی کو واضح نہیں کیا، تاہم وزراء کے بیانات سے لگ رہا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر عمران خان کے اسلام آباد بند کرانے کی کوشش کو ناکام بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔یہ تو کسی بھی طرح مُلک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ یہ درست ہے کہ عمران خان کے مطالبات بے لچک ہیں، وہ استعفیٰ مانگ رہے ہیں یا تلاشی دینے کا کہہ رہے ہیں، لیکن سیاست میں تو کوئی چیز بھی حتمی نہیں ہوتی۔ ایک ڈیڈ لاک ہے،جسے توڑنے کے کئی راستے نکالے جا سکتے ہیں۔ ہر راستہ کسی نہ کسی منزل کی طرف لے جا سکتا ہے، راستے بند کر دینے سے تو سوائے خون خرابے کے اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ حیرت ہے کہ پورے مُلک میں کوئی ایسا ادارہ، کوئی ایسی سیاسی قوت، کوئی ایسا راستہ موجود نہیں جو ہمیں اس بند گلی سے نکالے، جو اُس انہونی کو روکے جو بے تدبیری کے راستے ہمیں بڑے تصادم کی طرف لے جا رہی ہے۔ ہمیشہ عوام کو بے وقوف سمجھنے والے سیاست دان کم از کم اس موقع پر تو خود بھی کسی دانشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مُلک کو بے یقینی کی صورتِ حال سے نکالیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وزیراعظم نواز شریف فون اُٹھائیں اور عمران خان سے کہیں کہ مَیں آپ کو ہر ایشو پر مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں اور عمران خان بھی جواب میں خوشدلی سے مذاکرات کی دعوت قبول کریں۔ اصل جمہوریت تو اِسی صورت میں مضبوط ہو سکتی ہے، ایسا نہیں ہوتا تو پھر خاکم بدہن ہمیں ہاتھ ملتے رہ جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

مزید : کالم