مریضوں اور افسران پر تشدد کے واقعا ت،ینگ ڈاکٹروں کے قائدین کے خلاف تحقیقات کا آغاز

مریضوں اور افسران پر تشدد کے واقعا ت،ینگ ڈاکٹروں کے قائدین کے خلاف تحقیقات ...

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں مریضوں اور انتظامیہ کے اہم افسروں پر تشدد اور ان کا گھیراؤ اور ہڑتالیں کرنے والے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے اہم رہنماؤں کے خلاف شکنجہ تیار کر لیا گیا ہے اس سلسلے میں گزشتہ 10سالوں سے ایسا کرنے والے وائی ڈی اے کے ڈاکٹرز اور ہنماؤں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔جس کیلئے مثاثرہ ڈاکٹروں اور مریضوں کا ریکارڈ جمع کرنے کیلئے کام شروع کر دیا گیا ہے ۔آغاز میو ہسپتال کی ایسٹ سرجیکل وارڈ کے بے گناہ مریض پر تشدد کرنے والے وائی ڈی اے میو ہسپتال کے صدر سمیت دیگر ڈاکٹروں جنہوں نے انہیں کھلے عام تشدد کا نشانہ بنایاکے خلا ف کیا گیا ہے ۔، سیکرٹری صحت نے تحقیقات کیلئے سپیشل سیکرٹری صحت ڈاکٹر ساجد چوہان،یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر جنرل (ر)محمد اسلم اور علامہ اقبال میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر عیص محمد کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی نے ابتدائی شواہد اکٹھے کر لئے ہیں اور متاثر ہ مریض اور اس کے لواحقین،ساتھی مریضوں،انتظامیہ اور تشدد کرنے والے وائی ڈی اے کے رہنماؤں اور دیگر ڈاکٹروں کے بھی بیانات قلمبند کر لئے ہیں ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس میں وائی ڈی ا ے پر مریض پر تشدد کرنے کا الزام ثابت ہو گیا ہے اور کمیٹی اپنی رپورٹ آئندہ 24گھنٹوں میں سیکرٹری صحت کو پیش کر دے گی جو وزیر اعلیٰ کو پیش کریں گے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دیگر ہسپتالوں جہاں مختلف پروفیسرز ،پرنسپلز،میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور مریضوں سے وائی ڈی اے کے بعض رہنماؤں کی طرف سے تشدد کیا گیا ،انہیں کمروں میں بند کیا گیا یا ان کے دفاتر سے نکال دیا گیا ان کے حوالے سے بھی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو مریضوں اور مریضوں کو ڈاکٹروں کا گریبان پکڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کی اخلاقیات اجازت دیتی ہے نہ قانون۔میو ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں میں ہونے والے واقعات کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1