بے معنی انٹرا پارٹی انتخابات کی ضرورت کیوں ؟

بے معنی انٹرا پارٹی انتخابات کی ضرورت کیوں ؟
 بے معنی انٹرا پارٹی انتخابات کی ضرورت کیوں ؟

  

حیرانگی کی بات ہے کہ آج جماعت اسلامی کے کٹر مخالفین بھی اب اس کی جمہوریت کو داد دینے پر مجبور ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کی جمہوریت بھی ان مخالفین کو جماعت اسلامی کی جمہوری حمایت کے لئے قائل نہیں کر سکتی۔قدرت کا کرشمہ دیکھیں ایم کیو ایم کے گورنر عشرت العباد بھی جماعت اسلامی کے کراچی کے سابق ناظم نعمت اللہ کی تعریف کرتے تھک نہیں رہے، لیکن عشرت العباد کا یہ اعتراف بھی شاید کراچی کے عوام کو جماعت اسلامی کو ووٹ دینے پر قائل نہ کر سکے، کیونکہ شرافت و جمہوریت ووٹ حاصل کرنے کا صرف معیار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان میں جمہوریت کے لئے آواز بلند کرنے والوں کے لئے جماعت اسلامی کی جمہوریت ان کے لئے کافی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے اندر کی مکمل جمہوریت کو بھی وہ ملک کے جمہوری نظام کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں، جبکہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ دیگر جماعتوں کے اندر موجود آمریت بھی ملک کے جمہوری نظام کے لئے خطرہ نہیں ہے۔

یہ بات حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ ملک کی تمام رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ سیاسی و نیم سیاسی جماعتوں میں بدرجہ اتم آمریت موجود ہے۔ کسی کو بھی کسی قسم کا استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ اس حمام میں رب ذوالجلال کے کرم سے سب ننگے ہیں۔ یہ درست ہے کہ جب جماعت اسلامی کے علاوہ سب سیاسی جماعتیں شخصیات کی ذاتی ملکیتیں ہیں اور ان جماعتوں کا تمام وجود انہی شخصیات کے گرد گھومتا ہے، ان شخصیات کی وجہ سے سیاسی جماعتیں وراثتی نظام قیادت کا شکار ہو گئی ہیں۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کیوں ان سیاسی جماعتوں کو انٹرا پارٹی انتخابات پر مجبور کرتا ہے۔ یہ نام نہاد انٹرا پارٹی انتخابات نہ تو ملک و قوم کے لئے کسی بھی قسم کی نیک نامی کا باعث ہیں نہ ہی اس سے پاکستان کی جمہوریت کی کوئی نیک نامی ہوتی ہے۔

یہ درست ہے کہ عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے انٹر اپارٹی انتخابات کا خوب مذاق اڑایا ہے، تحریک انصاف نے اس حوالہ سے تنقید بھی کی ہے لیکن میرے نزدیک انٹر ا پارٹی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف برابر کے ننگے ہیں۔ جتنی شخصی آمریت مسلم لیگ (ن) میں ہے اتنی ہی شخصی آمریت تحریک انصاف میں بھی ہے۔ جس طرح کنٹینر پر سے عمران خان نے اپنی پارٹی کے سب سے سینئر رہنما جاوید ہاشمی کو پارٹی سے نکال دیا تھا، وہ بھی تحریک انصاف میں شخصی آمریت کی عمدہ مثال تھی۔ اسی طرح تحریک انصاف بھی اسی طرح عمران خان اور ان کے ذاتی فیصلوں کے گرد گھومتی ہے، اس لئے اس ضمن میں دونوں برابر ہی ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی بھی ایک خاندان کی میراث ہے۔ اے این پی بھی ایک خاندان کی میراث ہے۔ جے یو آئی (ف) ایک خاندان کی ملکیت ہے۔ ایم کیو ایم میں بھی یہی لڑائی ہے کہ جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ انٹر اپارٹی انتخابات سب فضول ہیں، ایک رسمی قانونی کاروائی ہے، جس سے نہ تو پارٹیوں کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو کوئی فائدہ ہو تا ہے۔ میرا تو الیکشن کمیشن کو یہی مشورہ ہے وہ یا تو اس سارے معاملے سے جان چھڑا لے یا پھر کوئی ایسا میکانزم بنائے کہ وہ اس میکانزم کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر حقیقی جمہوریت لانے پر مجبور کر سکے، جس کا فی الوقت تو کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں شخصیت پسندی کا رحجان ہے، لوگ سیاسی نظریات کی بجائے سیاسی شخصیات کے عشق میں مبتلا ہیں۔ لوگ اپنے سیاسی آئیڈیل کے سات خون بھی معاف کرنے کو تیار رہتے ہیں، فرد پر اصول بھی قربان کر دئیے جاتے ہیں۔ سیاسی آئیڈیل کی اولاد سے بھی اسی طرح پیار کیا جاتا ہے جیسے آئیڈیل سے کیا جاتا ہے، لوگ لیڈر کے بیٹے کو بھی لیڈر ہی مانتے ہیں۔ جیسے گاؤں میں چودھری کا بیٹا چودھری اور نمبردار کا بیٹا نمبردار ہوتا ہے، مالک کا بیٹا مالک۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کیا کر سکتا ہے؟ جب لوگوں کی سوچ ہی شخصیت پسندی کی قید ہے، لوگ شخصیت پسندی کے خول سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں، ایسے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔

لیکن پھر بھی جماعت اسلامی اس کی ایک عمدہ اور بہترین مثال ہے۔ اگر جماعت اسلامی میں مولانا موددویؒ کی شخصیت کی محبت قائم رہتے ہوئے جمہوریت ہو سکتی ہے تو باقی جماعتوں میں کیوں نہیں؟ اگر الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کے اندر اس کے حامی اور ووٹر بننے کے عمل کی باقاعدہ نگرانی شروع کر دے تو الیکشن کمیشن کے پاس ہر جماعت کے اندر ہر سطح پر جائز ووٹر وں کی لسٹیں آجائیں گی۔ جن کی بنیاد پر ان جماعتوں میں انتخابات کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ ایک مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے اور شاید الیکشن کمیشن اس درد سر میں پڑنا نہیں چاہتا۔ لیکن الیکشن کمیشن کو سمجھنا چاہئے کہ یہ رسمی اور فضول انٹرا پارٹی انتخابات اس کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا تے ہیں، جو پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے لئے خوش آئند نہیں اور اس سے جمہوریت پر شب خون مارنے کی تیاری کرنے والوں کو تقویت ملتی ہے۔

مزید : کالم