سی پیک منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ،نواز شریف کرپٹ مافیا کے سردار ہیں :عمران خان

سی پیک منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ،نواز شریف کرپٹ مافیا کے سردار ہیں :عمران ...

اسلام آباد،ملتان (اے این این،خبر نگار خصوصی ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کرپٹ مافیا کے سردار ٗاقتدار میں آکر حسنی مبارک بن جاتے ہیں ٗ مسلم لیگ (ن)کے انٹرا پارٹی الیکشن سے بڑا مذاق کوئی نہیں ٗان کی پارٹی میں تو جمہوریت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں ٗبادشاہت میں ایسا ہی ہوتا ہے ٗ وزیراعظم نے انٹرا پارٹی الیکشن سے خطاب کے دوران ساری باتیں کیں صرف اپنی کرپشن کے بارے میں نہیں بتایا ٗ کوئی چوری نہیں کی تو تلاشی دینے میں کیا حرج ہے ٗسی پیک منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ٗ حکومت نے ایم او یو پر ہونے والے دستخط تین سال تک چھپا کے رکھے ٗ 2 نومبر کو اسلام آباد میں لوگوں کا سمندر ہوگا ٗ لوگ جان چکے ہیں ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے احتساب ضروری ہے ۔ بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں 13سال کرکٹ کھیلنے کے بعد نمبر ون آل رانڈر بنا اور صرف ایک کروڑ روپے کا فلیٹ خرید سکا جب کہ حسن نواز شریف نے ایسا کونسا پیتل سے سونا بنانے کا فارمولا ڈھونڈا تھا جو ایک طالب علم ہوتے ہوئے ساڑھے 6 سو کروڑ روپے کا فلیٹ خرید لیا، یہ سب وزیراعظم نواز شریف کی چوری کی ہوئی رقم ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کو بچانا ہے تو کرپشن پر قابو پانا ہوگا، نواز شریف کرپٹ مافیا کے سردار ہیں اور اگر وہ اقتدار میں رہے تو ملک مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے گا۔ انہوں نے وزیراعظم کو میاں پاناما شریف پکارتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے کوئی چوری نہیں کی تو پھر تلاشی دینے میں کیا حرج ہے لیکن وزیراعظم اپنی کرپشن بچانے کے لئے ہم پر فوج بلانے اور سی پیک کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگا رہے ہیں، سی پیک منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں، صرف اعتراض اس بات پر ہے کہ سی پیک کے ایم او یو پر 2013 میں دستخط ہوئے لیکن حکومت نے اسے چھپا کر رکھا اور اس منصوبے کے حوالے سے عوام کو 2016 میں بتانا شروع کیا۔چیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ 2 نومبر کو اسلام آباد میں عوام کا سمندر ہوگا اور جب تک عوام ساتھ ہیں تو اکیلے نہیں ہو سکتے، اب لوگ جان چکے ہیں کہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے وزیراعظم نواز شریف کا احتساب ضروری ہے، 2 نومبر کو عوام دل سے تحریک انصاف کے ساتھ ہوگی جب کہ سارے چور وزیراعظم کے ساتھ ہوں گے۔ عمران خان نے کہا کہ 2018 میں حکومت بنانا وزیراعظم کی خوش فہمی ہوگی کیونکہ 2018 ابھی بہت دور ہے۔دوسری طرف سابق وفاقی وزیر حامد یار ہراج اور محمد یار ہراج نے عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا۔ حامد یار ہراج کا کہنا ہے کہ عمران خان پاکستان میں امید کی واحد کرن اور تبدیلی کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرسودہ اور کرپٹ سیاسی نظام کیخلاف فیصلہ کن معرکے میں عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ دونوں شخصیات کا پی ٹی آئی میں شمولیت پر خیر مقدم کرتا ہوں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ آج حق و باطل کے مابین تفریق بالکل واضح ہو چکی ہے، وہ ملتان میں سابق ممبر صوبائی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنماء ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ 2 نومبر کو پورا پاکستان اسلام آباد میں ہو گا۔ سے قبل ملتان میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے بھی عمران خان حکومت پر خوب گرجے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو رکاوٹیں ہٹا کر اسلام آباد پہنچیں گے، وزیر اعظم کو پاناما لیکس پر جواب دینا ہو گا۔

مزید : صفحہ اول