آخری مباحثہ ،دونوں امریکی صدارتی امیدواروں کا انتخابات سے قبل بڑا امتحان

آخری مباحثہ ،دونوں امریکی صدارتی امیدواروں کا انتخابات سے قبل بڑا امتحان

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی ٹکٹ ہولڈر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 8 نومبر کے صدارتی انتخابات سے صرف تین ہفتے قبل ہونے والا تیسرا اور آخری مباحثہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ صدارتی مباحثہ امریکی ریاست نیواڈا کے معروف شہر لاس ویگاس میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں امریکی ایسٹرن ٹائم کے مطابق بدھ کی رات آٹھ بجے (پاکستان وقت کے مطابق جمعرات کی صبح چھ بجے) شروع ہوگا۔ جیسے فوکس نیوز کے اینکر کرس ویلس کنڈکٹ کریں گے۔ نوے منٹ کے اس مباحثے کا طریق کار پہلے مباحثے جیسا ہی ہوگا۔ کہنہ مشق ڈپلومیٹ اور سیاستدان سابق خاتون اول اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی نسبت پہلی بار کسی پبلک پوسٹ کیلئے انتخاب لڑن یوالے ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے زیادہ اہم ہے، کیونکہ وہ اپنے لاپرواہ رویے کے باعث صدارتی دوڑ میں کچھ پیچھے ہیں اور انتخابات سے قبل اپنی پوزیشن واضح کرنے کا اس سے اچھا موقع انہیں دوبارہ نہیں ملے گا۔ اس مباحثے کو کنڈکٹ کرنے والے کرس ویلس ایک سنجیدہ اور غیر جانبدار صحافی شمار ہوتے ہیں، جو فوکس نیوز کے دوسرے سٹاف کے برعکس طرفداری سے گریز کرتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی حکومتی نظام اور معیشت کے حوالے سے تیارہ کردہ ان کے سوالات کا دونوں امیدوار کس طرح سامنا کرتے ہیں۔ جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے، ان کے بارے میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی رائے اچھی نہ ہونا کوئی عجب بات نہیں ہے لیکن ان کی اپنی ری پبلکن پارٹی کی قیادت نے ان کے غیر مناسب رویے اور بیانات کی کبھی تائید نہیں کی بلکہ پارٹی کے بعض اہم لیڈروں نے کھل کر ان کی حمایت سے دستبردار ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسرے صدارتی مباحثے سے چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایک پرانی ویڈیو منظر عام آنے پر اس کی اخلاقی حیثیت کو کافی دھچکا لگا جس میں اس کی فحش اور بے ہودہ حرکتیں دکھائی گئی ہیں۔ خواتین کے بارے میں ان کے عمومی ریمارکس پر بھی بہت ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ مسلمانوں اور تارکین وطن کی امریکہ آمد پر پابندی یا ان کی سخت سکروٹنی نے بھی انہیں امریکی مسلمانوں اور امریکنس میں خاصہ غیر مقبول بنا رکھا ہے۔ اب حال ہی میں انہوں نے انتخابی نظام میں متوقع فراڈ کے حوالے سے سنگین الزام لگائے ہیں جس سے بعض مبصرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ انہیں اپنی شکست نظر آرہی ہے، اس لئے اپنی خفت مٹانے کیلئے وہ قبل از وقت واویلا کر رہے ہیں۔ یہ اندازہ 100 فیصد درست نہیں ہے۔ ٹرمپ ہر شدید تنقید کے بجائے اس کے وفادار ووٹروں پر زیادہ اثر نہیں پڑا اور ان کی ریلیوں کے شرکاء کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ لیکن یہ وفادار ووٹر ان کو جتانے کیلئے کافی نہیں۔ انہیں اپنے موقف کو واضح کرکے مزید ووٹروں کو ہم نوا بنانے کی ضرورت ہے اور یہ تیسرا صدارتی مباحثہ ان کے لئے ایک اہم موقع ہے جسے انہیں گنوانا نہیں چاہئے۔اگرچہ انتخابی نقشہ ہیلری کلنٹن کے حق میں جا رہا ہے لیکن اپنے وفادار ووٹروں کو قابو میں رکھنے اور مزید ووٹ حاصل کرنے کیلئے یہ تیسرا مباحثہ ان کے لئے بھی کم اہم نہیں ہے۔ دونوں صدارتی امیدوار معمر ہیں اور ہیلری کلنٹن کی عمر ٹرمپ سے زیادہ ہے اور ان کی صحت کے بھی کچھ مسائل ہیں جنہیں ٹرمپ کی ٹیم زیادہ اچھالتی رہتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہیلری کلنٹن کی صحت اتنی بری نہیں ہے، وزارت خارجہ کے دور میں انہوں نے سرکاری ای میلز کیلئے اپنے ذاتی کمپیوٹر کا استعمال کیا وہ ان کے لئے بہت بڑا مسئلہ بنا رہا اور شاید اب بھی ہے۔ لیکن ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس معاملے میں ان کی موجود رہا۔ معاملہ صرف ای میلز کیلئے ذاتی کمپیوٹر استعمال کرنے کا نہیں تھا جس غلطی کا انہوں نے اعتراف کرلیا تھا، مسئلہ یہ تھا کہ کچھ کلاسیفائیڈ ای میل سامنے آگئیں جن میں عراق جنگ کے حوالے سے امریکہ کی خفیہ پالیسی کے ایسے پہلو نشر ہوگئے جن پر بہت تنقید ہوئی۔ تاہم اب وہ ان مسائل سے آگے نکل آئی ہیں۔آخری صدارتی مباحثہ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ہیلری کلنٹن کے ترجمان برائن فیلن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی امیدوار ان تمام حربوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں جو ان کے مخالف ٹرمپ اختیار کریں گے۔ ٹرمپ کی مہم کی مینجر کیلیئن کانوے ٹرمپ کو اپنی آخری نصیحت کر دی ہے اور وہ ہے فوکس یعنی سوال پر جواب دیتے ہوئے پٹڑی سے نہیں اترنا۔ آخری مباحثے کو کنڈکٹ کرنے والے اینکر کرس ویلس نے آج بتایا ہے کہ ان کے سوالات کے موضوعات میں امریکی قرضے، مائیگریشن، معیشت، سپریم کورٹ، تازہ خارجہ امور اور صدارت کیلئے اہلیت شامل ہیں۔ وہ ہر موضوع پر پندرہ منٹ صرف کریں گے۔ دیکھیں صدارتی امیدوار کس طرح ان سوالات کا جواب دیتے ہییں اس سے یہ فیصلہ ہوگا کہ ہیلری کلنٹن 8 نومبر تک اسی طرح آگے رہیں گی یا ڈونلڈ ٹرمپ ووٹروں کو متاثر کرکے ان سے آگے بڑھ جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول