گورنر سندھ کا مصطفی کمال کو جوابی باؤنسر،نعمت اللہ خان کی تعریف

گورنر سندھ کا مصطفی کمال کو جوابی باؤنسر،نعمت اللہ خان کی تعریف

تجزیہ:نعیم الدین

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال کی جانب سے گزشتہ روز گورنر سندھ پر لگائے جانے والے الزامات کے جواب میں ڈاکٹرعشرت العباد خان نے بھی مصطفی کمال کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے ۔گورنر سندھ نے اپنے اوپر کرپشن کے الزامات کے جواب میں مصطفی کمال کو بھی ’’کدال‘‘ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ مال بنا کر ملائیشیا اور لندن بھیجتے رہے ہیں ۔گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی جانب سے زبان کھولنے پر سیاسی حلقوں نے انتہائی حیرت کا اظہار کیا ہے ، ان کی جانب سے سابق سٹی ناظم مصطفی کمال کی جانب سے لگائے گئے سخت الزامات کے جوابات دیئے گئے ہیں، جن سے یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ گورنر سندھ مستقبل میں مصطفی کمال کی پارٹی میں شامل نہیں ہونگے۔ کیونکہ سیاسی پنڈت مصطفی کمال کے سیاست میں آنے کے بعد اس بات کا اندازہ لگارہے تھے کہ یہ سارا کھیل گورنر سندھ کا ہے اور وہ مستقبل میں اس پارٹی میں ضرور شمولیت اختیار کریں گے۔ لیکن مصطفی کمال کی جانب سے پنڈورا بکس کھولنے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ ڈاکٹر عشرت العباد نے کبھی ان کی حمایت نہیں کی ۔ ڈاکٹر عشرت العباد نے بڑے عرصے بعد سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ جرم میں جو لوگ بھی ملوث ہونگے ، انہیں سزا ضرور ہوگی چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق سٹی ناظم نعمت اﷲ خان کی بھی تعریف کی کہ جن کے دور میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہوا تھا، اور انہیں مصطفی کمال نے انتہا تک پہنچایا ، ان کا صرف اتنا ہی کمال تھا ۔مصطفی کمال کی جانب سے صدر مملکت کے نمائندے گورنر سندھ کے خلاف سخت زبان میڈیا پر استعمال کرنے پر حیرت ہوئی ہے کہ وہ پڑھے لکھے اور ایک ذمہ دار شہری بھی ہیں ، ان کی تلخ زبان دنیا بھر میں لوگوں نے سنی جو کہ ایک اچھا تاثر نہیں رکھتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے اندر 22 اگست کے بعدجو ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں کیا یہ تبدیلیاں مصطفی کمال کیلئے نقصان دہ ہیں ؟ کیا ڈاکٹر عشرت العباد نے ان تبدیلیوں میں کوئی اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے سٹی ناظم اس قدر مشتعل ہوئے؟ یا کوئی اور معاملات ہیں جو اب تک کھل کر سامنے نہیں آسکے ہیں۔ اگر موجودہ حالت میں ڈاکٹر عشرت العباد اور مصطفی کمال ایک دوسرے کے خلاف پنڈورا بکس کھولتے رہیں گے تو مزید انکشافات عوام کے سامنے آسکتے ہیں اور آنے والے الیکشن پر پوری متحدہ قومی موومنٹ کے جتنے بھی دھڑے ہیں، ان کی آپس کی چپقلش کا فائدہ شاید کوئی اور اٹھاجائے ۔سوال یہ بھی ہے کہ گورنر اور سابق سٹی ناظم کراچی کے اہم عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیات کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی کیا کوئی تحقیقات بھی ہونگی کیونکہ الزامات نہایت ہی سنگین ہیں یا پھر ایک مرتبہ الزام برائے الزام سیاست دہرائی جارہی ہے جس کانتیجہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوگا ۔

مزید : تجزیہ