بونیر ،خام مال لے جانیوالے ٹرکوں کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری

بونیر ،خام مال لے جانیوالے ٹرکوں کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری

بونیر (ڈسٹرکٹ رپورٹر )بونیر سے ماربل کی خام مال لے جانے والی ٹرکوں کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی ۔ہزاروں کی تعداد میں مزدور بے روزگا ،سینکڑوں ٹرکس کی بندش سے حکومت کو رائیلٹی کی مد میں روزانہ لاکھوں روپے نقصان ،جب تک تورورسک میں حکومتی کانٹا موجود ہے ۔بونیر سے ماربل کی خام مال سپلائی نہیں کریں گے ۔صوبائی حکومت اور ڈی سی بونیر عوام کو بے روز گار کرنا چاہتی ہے اور بونیر کی واحد صنعت کو تباہ کرنے کے درپے ہے ،پہیہ جام ہڑتال کے لئے بہت جلد کال دی جائے گی ،جس میں بونیر کے تمام ٹرک او نرز ایسوسی ایشن اور ماربل فیکٹری مالکان بھر پور شرکت کریں گے ،ہم نے کروڑوں روپے انوسمنٹ کرکے گاڑیاں خریدی ۔موجودہ وزن میں ہم کام کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار بونیر ٹرک ایسوسی ایشن کے صدر عبدالستار جنرل سیکرٹری شاہ فرین خان ،مختیار خان اور اسلام شاہ عرف مامے نے ہڑتال کے موقع پر میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈی سی بونیر کے حکم پر تور ورسک کے مقام پر وزن تولنے کے لئے ایک کانٹا نصب کیاہے جو بڑے گاڑیوں کے لئے 25 ٹن اور چھوٹے گاڑیوں کے لئے 17 ٹن وزن مقرر کیاہے ،اس سے زیادہ وزن لے جانے والی گاڑیوں پر بھاری جرمانے لگائے جاتے ہے ۔صدر عبدالستار نے کہا کہ اتنے کم وزن میں گاڑی کا اپنا خرچہ پورا نہیں ہوتا ،منگل کے روز سے ہمارا ہڑتال جاری ہے اور جب تک یہ کانٹا ہٹایا نہیں جاتا ہمارا ہڑتال جاری رہیگا ،انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ بونیر کے عوام کو بے روزگا ر کرنا اور ماربل کی صنعت کو تباہ کرنا چاہتے ہے ۔اس صنعت سے ہزاروں افرادکی روزگار وابستہ ہے ۔حکومت ہمیں مال بردار گاڑیوں کے لئے الگ سڑکوں کا بندوبست کرے یا بونیر میں ماربل سٹی کی قیام کو ممکن بنائے ،بصورت دیگر ہم بہت جلد ضلعی سطح پر تما م ٹرکوں کی بند کرکے مکمل پہیہ جام ہڑتال کریں گے جس میں ماربل فیکٹری مالکان بھی شامل ہوں گے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر