میں سڑک کے ایک کنارے پر کھڑا ہوں اور سڑک پار کرنے کی جگہ نہیں مل رہی

میں سڑک کے ایک کنارے پر کھڑا ہوں اور سڑک پار کرنے کی جگہ نہیں مل رہی
میں سڑک کے ایک کنارے پر کھڑا ہوں اور سڑک پار کرنے کی جگہ نہیں مل رہی

  

رحیم یارخان کے وسط سے گزرنے والی شاہی روڈ صدیوں پرانی سڑک ہے جو شیر شاہ سوری کے دور میں بھی موجود تھی اور افغانستان کے ساتھ جنگ کے انگریز فوج بھی یہیں سے گزری تب یہ علاقہ ریتلا تھا اور بھاری توپخانہ وغیرہ یہاں سے نہیں گزر سکتا تھا اس لیے سڑک پر سولنگ لگائی گئی اور یہ سولنگ بھی صرف ٹائر گزرنے والی جگہ پر لگائی گئی باقی دائیں بائیں اور درمیان سے یہ کچی ہی رہی شاہی روڈ سابقہ ریاست بہاولپور کی مرکزی شاہراہ بھی  تھی جو ایک طرف تو ریاست کے تمام حصوں کو منسلک کرتی تھی وہیں لاہور سے کراچی تک جانے والے راستے کا درمیانی حصہ بھی تھی۔

شاہی روڈ سابقہ شاہراہ پاکستان بھی ہے اس کا موجودہ حصہ چنی گوٹھ ضلع بہاولپور سے شروع ہو کریہ  ضلع رحیم یار خان کی حدودمیں لیاقت پورسے لے کر  چوک بہادر پور تک جاتی ہے جہاں پر یہ ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ میں شامل ہو جاتی ہے۔  تقریبا 130کلومیٹر لمبی اس سڑک پر  چنی گوٹھ سے لے کر چوک بہادر پور تک اس کے کنارے متعدد بستیاں اور قصبےآباد ہیں جبکہ کئی چھوٹے بڑے شہروں کے درمیان سے بھی یہ گزرتی ہے، جن میں چنی گوٹھ ، لیاقت پور، رشید آباد ، فیروزہ ، جیٹھہ بٹھہ ، خانپور ، سہجہ ، کوٹسمابہ ، ترنڈہ ، رحیم یارخان اور چوک بہادر پور شامل ہیں شاہی روڈ پہلے رحیم یارخان شہر کے وسط سے گزرتی تھی ۔ اس کے متعلق بہاولپور ریو کی 1954۔ 1953 کی اشاعت میں ایک دلچسپ واقعہ ملتا ہے جس میں  رحیم یارخان کی ٹاون پلاننگ کرنے والے انجینئر سید نور علی ضامن حسینی  نے لکھا کہ جب میں شہر کی ٹاون پلاننگ کر رہا تھا اور شاہی روڈ کی چوڑائی 150فٹ رکھی تو کئی دوستوں نےمجھ سے کہا کہ اس سڑک پر تو گنتی کی 3 یا 4گاڑیاں گزرتی ہیں تو اتنی چوڑی سڑک کا کیا فائدہ ہو گا تو میں نے انہیں کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میں سڑک کے ایک کنارے پر کھڑا ہوں اور سڑک پار کرنے کی جگہ نہیں مل رہی اور وہ انجینئر نور علی ضامن حسینی کی وفات کے 30 برس جا کر پوری ہو چکی ہے  شاھی روڈ پرگزشتہ  10 سالوں کے دوران 20 سے زائد مہلک حادثات میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔  اکثر حادثات بسوں کے ہوئےپھر کوچوں کا نمبر ہے لیکن کاریں موٹرسائیکل اور دوسری سواریوں کے حادثات کی تعداد بھی کم نہیں  ۔

قدیم اور مصروف تین سڑک ہونے کے باوجود آج تک سنگل روڈ ہی ہے اسے دو رویہ نہیں کیا گیا شاھی روڈ کے درمیان 3 درجن سے زائد خطرناک موڑہیں  اس سڑک سے روذانہ ھزاروں گاڑیوں کا گذر ھوتا ھے  لیکن ذٰادہ حادثات مسافر بسوں اور کوچوں کے ہوتے ہیں یہ حادثات ہمیشہ تیز رفتاری کے باعث پیش آتے ہیں مگر آج تک تیز رفتاری کے باعث حادثات کا سبب بنے والی ان ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے خلاف کبھی بھی کوئی موثر کاروائی نہیں ہوئی۔ ذرائع کے مطابق سہجہ کے اردگرد گزشتہ 8 سالوں کے دوران 9 ایسے ٹریفک حادثے ھوئے ھیں جن میں درجنوں خاندان اجڑ گئے ہیں کچھ عرصہ قبل سہجہ کے مقام پر بھی 2 بسیں ٹکرائی جن میں 2 باراتیں سوار تھیں دونوں دلہنیں اور دولہوں سمیت 55 افراد جاں بحق ہوگئے تھے گزشتہ دنوں جس جگہ 2 بسوں کے درمیان ٹکر ھوئی اور یہاں 31 افراد جاں بحق ہوئے  وہاں  پہلے بھی حادثہ ھوا تھا جس میں 10 قیمتی جانوں کا ضیاع ھوا تھا۔ سہجہ کے قریب ہی موڑ پر 2009میں ایک بس موڑ مڑتی ہوئی صادق برانچ نہر میں جا گری تھی جس میں 30 کے قریب مسافر جاں بحق ہو گئے تھے ۔تب سڑک کے درمیان ریفلیکٹر وغیرہ لگا کر معاملہ گزار دیا گیا تھا ۔

اس حوالے سے ایک تاریخی  واقعہ بھی پرویز صادق سیکرٹری جنرل ادارہ تحقیق و تذکرہ تاریخ پاکستان سنایا کرتے ہیں کہ ریاست بہاولپور کے دور میں بھی ایک مرتبہ سہجہ موڑ پر بس کا حادثہ ہوا تھا جس پر  والی ء ریاست بہاولپورنواب صادق نے خود نہر کے ساتھ موڑ کا دورہ کیا اور باغ کے ساتھ گولائی میں تبدیلی کروائی لیکن اس کے بعد جب بھی خوفناک ترین حادثات ہوئے تو حکومتی بڑا یہاں نہ آیا( مطلق العنان نواب تو خود چل کر پہنچ گیا لیکن نام نہاد جمہوری حکمرانوں کو متاثرہ مقام پر پہنچنے کی توفیق نہیں ہوئی شاید یہ علاقہ لاہور سے کچھ ذیادہ ہی دور ہے) اکثر حادثات گاڑیوں کے آمنے سامنے سے ٹکرانے کے باعث ہوئے 5 برس قبل ایک مرتبہ ایسا حادثہ بھی ہوا کہ گندم سے بھرا ایک ڈالا سڑک کے درمیان خراب ہوا اور ڈرائیور نے وہیں کھڑا کر دیا ڈالے سے ٹکرا کر ریسکیو ملازمین زخمی اور جاں بحق ہوئے ان کی مدد کے لیے رحیم یارخان دعوت اسلامی کے امیر محمد سعید قادری اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ وہاں رکے اور کھڑے تھے کہ ایک اور گاڑی نے انہیں بھی کچل ڈالا اور وہ جان کی بازی ہار گئے ۔ 6 سال قبل  تحصیل لیاقت پور میں ایک تاجر کی گاڑی سامنے سے آنے والی گاڑی سے ٹکرائی تو اس تاجر کا پورا خاندان ہی ختم ہو گیا  ہر حادثے کے بعد سڑک کو دو رویہ کرنے اور خطرناک موڑوں کے ڈیزائن تبدیل کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے لیکن ڈھاک کے تین پات کے مصداق عمل درآمد کی نوبت کبھی نہیں آئی سڑک کو دو رویہ کرنےکی بات ہوتو محکمہ شاہرات فنڈز کی عدم دستیابی کا رونا رونا شروع کر دیتا ہےلیکن جب لاہور ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ اوروسطی پنجاب کے دیگر علاقوں میں عام سڑکوں کو بھی دو رویہ بنی ہوئی نظر آتی ہیں لیکن سینکڑوں جانیں گنوانےکےباوجود رحیم یارخان کی یہ شاہی روڈ حکمرانوں کی نظر کرم کی منتظر ہی ہے۔

ویسے رحیم یارخان کی اس سڑک پر پر حکمران پنجاب کی نظر پڑ بھی کیسے  سکتی ہی آخر 600 کلومیٹر کا فاصلہ کم تو نہیں ہوتا  اس مصروف ترین سڑک کو دو رویہ کر کے اور اسکے مختلف موڑوں کی ساخت میں کچھ تبدیلی لا کر ان خطرناک حادثات سے بچا جاسکتا ہے لیکن ساتھ ہی ایک اور بات بھی حیران کن کہ ضلعی انتظامیہ نے موجودہ حادثے سمیت پہلے بھی کئی حادثات کی وجہ تیز رفتاری کو قرار دیا ہے لیکن تیز رفتاری کا باعث بننے والی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے خلاف اس ضمن کوئی کاروائی ہوتی دکھائی نہیں دی ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حادثے کے مقدمے میں معاوب ملزمان میں بس کمپنیوں کو بھی نامزد کیا جاتا  لیکن یہاں تو کوئی ان سےپوچھنے بھی نہیں گیا اگر ایک مرتبہ بس کمپنیوں کے مالکان اور کرتہ دھرتاوں کو بھی حوالات کی ہوا لگ جائے تو آئندہ ڈرائیور تیز رفتاری سے کچھ پرہیز ہی کریں گے اس لیےاس مسئلے پر یہ 3اقدامات فوری طور پر کرنا ہوں گے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے خلاف اقدام قتل کے مقدمات کا اندراج ، خطرناک موڑوں میں تبدیلی اور سڑک کو دو رویہ کرنا ، اگر لاہور میں صرف ایک سڑک کو سگنل فری کرنے کے لیے ڈیڑھ ارب روپے خرچ کیے جاسکتے ہیں تو شاہی روڈ کو دو رویہ کرنے کے لیے ایک ارب کی رقم کیوں نہیں دی جاسکتی

مزید :

بلاگ -