جس شہزادے کا سر قلم ہوا، اس کا شاہ سلمان سے کیا رشتہ تھا؟ اتنا قریبی تعلق کہ آپ بے اختیار کہہ اٹھیں گے، ’انصاف ہو تو ایسا‘

جس شہزادے کا سر قلم ہوا، اس کا شاہ سلمان سے کیا رشتہ تھا؟ اتنا قریبی تعلق کہ ...
جس شہزادے کا سر قلم ہوا، اس کا شاہ سلمان سے کیا رشتہ تھا؟ اتنا قریبی تعلق کہ آپ بے اختیار کہہ اٹھیں گے، ’انصاف ہو تو ایسا‘

  

مدینہ منورہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں شاہی خاندان کے اہم ترین رکن کو منگل کے روز سزائے موت دی گئی ہے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جس شہزادے کا سر قلم کیا گیا ہے وہ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کا بھتیجا تھا۔

تفصیلات کے مطابق شاہی خاندان کے چشم و چراغ شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر کو منگل کے روز اپنے ہی دوست عادل المحیمید کے قتل کے جرم میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کے حکم پر سزائے موت دی گئی ۔ اس موقع پر شہزادے کے اہل خانہ نے مقتول کے لواحقین کو دیت کی رقم دینے کی بھرپور کوشش کی تاہم مقتول کے والد نے یہ رقم لینے سے انکار کردیا جس کے بعد سعودی دار الحکومت ریاض میں شہزادے کا سر قلم کردیا گیا۔

شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر  کے جرم اور سزائے موت کے بارے میں مکمل تفصیلات جاننے کیلئے یہاں کلک کریں

شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ شاہ سلمان کے والد شاہ عبدالعزیز بن سعود کے بھائی کی نسل میں سے تھا اور رشتے میں شاہ سلمان کا بھتیجا تھا لیکن پھر بھی اسے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سزائے موت دے دی گئی۔ واضح رہے کہ عرب ممالک میں 1975 کے بعد سے اب تک کسی بھی شاہی خاندان کے کسی فرد کو سزائے موت نہیں دی گئی ۔ شہزادہ ترکی بن سعود شاہی خاندان کا پہلا فرد ہے جسے پچھلے 41 سالوں میں سزائے موت دی گئی ہے۔ 

مزید : عرب دنیا