او آئی سی کے فیصلے،روشنی کی کرن

او آئی سی کے فیصلے،روشنی کی کرن
او آئی سی کے فیصلے،روشنی کی کرن

  

محمد عباس خان (تاشقند)

تاشقند میں ہونے والے او آئی سی کے اجلاس کو اسلامی امہ کے لئے روشنی کی ایک کرن سمجھا جارہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ اسلامی امہ ایک انتشار اور افراتفری کا شکار نظر آتی ہے، یہ اجلاس امن واتحاد کے لئے ایک اہم کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمان دیر تک اس اجلاس کے علاقائی امن کے لئے کردار پر غور و فکر اور بحث کرسکتے ہیں۔

”تنظیم برائے اسلامی تعاون“ کے وزرائے خارجہ کے 43ویں اجلاس کی چیئرمین شپ ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیلوف نے کی۔ اجلاس میں پاکستان کے وفد نے پاکستان کے منسٹر آف سٹیٹ اور وزیراعظم کے سپیشل اسسٹنٹ سید طارق فاطمی کی قیادت میں شرکت کی۔ طارق فاطمی صاحب نے تاشقند میں متعین سفیر پاکستان ریاض حسین بخاری کی مصیت میں اجلاس سے پہلے ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیلوف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اطراف نے دونوں ملکوں کے آپسی تعلقات کی ترقی زیر بحث لائی، نومبر 2015ءمیں پاکستانی وزیراعظم کے دورئہ تاشقند کے دوران نواز شریف اور مرحوم صدر اسلام کریموف کے درمیان طے شدہ فیصلوں کو بھی زیر بحث لایا گیا، کچھ علاقائی اور عالمی معاملات کے ساتھ ساتھ او آئی سی OIC کے 43 ویں وزرائے خارجہ کے ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے کے نکات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئیے اس سے قبل کہ اس اجلاس میں ہونے والے نکات پر روشنی ڈالی جائے ہم مختصر طور پر اس تنظیم OIC کے عالمی کردار کا جائزہ لیں اور پھر یہ کہ پاکستان اور OIC کے باہمی تعلقات و تعاون پر غور کریں۔ کبھی سوتی اور کبھی جاگ اٹھنے والی یہ تنظیم دراصل 25 ستمبر 1969ءکو ایک چارٹر پر دستخط کے نتیجے میں قائم ہوئی اور اس کا نام ”آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس“ رکھا گیا۔ مختلف مراحل طے کرتی ہوئی اس تنظیم کا نام 28 جون 2011ءکو قزاقستان کے دارالحکومت میں ہونے والے ایک اجلاس میں بدل کر ”آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن“ رکھ دیاگیا۔ تنظیم کے ممبران کی تعداد 57 ہے جن میں سے 27افریقہ، 25 ایشیا، تین یورپ اور دو جنوبی امریکا سے تعلق رکھتے ہیں۔ روس اور تھائی لینڈ بطور خاص آبزرور ممالک کا درجہ رکھتے ہیں، ممبر ممالک کی کل آبادی 1.6 بلین سے زیادہ ہے۔ اس کا جھنڈا سبز رنگ کا ہے جس کے درمیان میں سفید دائرہ اور اس میں ہلال احمر اور اللہ اکبر لکھا ہوا ہے۔ اس کے تنظیمی نشان میں ہلال احمر اس میں عالمی گلوب اور مرکز میں خانہ کعبہ کی تصویر ہے۔ تنظیم کے قیام کے وقت یہ اعلان کیا گیا کہ یہ تنظیم دنیا بھر کے مسلمانوں کی اجتماعی آواز ہوگی اور اس کا اہم مقصد ”عالمی امن اور یکسانیت کو ترقی دیتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ “ ہے۔ تنظیم نے ابھی تک دنیا کے اسلامی ممالک میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے دس مستقل ادارے قائم کئے ہیں۔ یہ ادارے ترکی، بنگلہ دیش، مراکش، سعودی عرب، نائیجیریا، یوگنڈا اور ایران میں کام کررہے ہیں۔ اسلام سیٹ اسلامک نیٹ ورک نامی ریاض سعودی عرب میں کام کرنے والے ادارے کی ایک برانچ پاکستان میں بھی قائم کی گئی ہے۔ اسی طرح اس تنظیم کے دو خاص تعلیمی اور میڈیا ادارے سعودی عرب اور مراکش میں قائم کئے گئے ہیں۔ تنظیم سے متعلقہ کچھ مزید ادارے جو کہ معیشت سے منسلک ہیں وہ 11 ہیں جو کہ ملائیشیا، سعودی عرب، لیبیا، ترکی اور بحرین میں ہیں، ایسا ہی ایک ادارہ اسلامک چیمبر اینڈ انڈسٹری کراچی پاکستان میں کام کررہا ہے ۔ گویا تنظیم سے متعلقہ 23 اداروں میں سے ایک ادارہ کراچی پاکستان میں کام کررہا ہے جبکہ ایک دوسرے ادارے کی ذیلی برانچ پاکستان میں ہے۔ تنظیم کے موجودہ سیکرٹری جنرل عیاض بن امید مادانی ہیں جن کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ اس سے قبل نوسیکرٹری جنرل کام کرچکے ہیں جن کا تعلق ملائیشیا، مصر، سینی گال، تیونس، نائیجیریا اور ترکی سے رہا ہے جبکہ مراکش کے دو سیکرٹری جنرل رہے ہیں۔ پاکستان کے سید شریف الدین پیر زادہ بھی ایک دفعہ چار سال کے لئے تنظیم کے سیکرٹری جنرل (1984-88 ئ) رہے ہیں۔ تنظیم کے اب تک 13 سربراہی اجلاس ہوچکے ہیں جن میں ایک 22-24 فروری 1974ءکو ذوالفقار علی بھٹو شہید کی کوششوں سے لاہور میں منعقد ہوا۔ اسی طرح تنظیم کے ہائی لیول کے 5 سپیشل اجلاس ہوچکے ہیں جن میں سے پہلا 23-24 مارچ 1997 ءکو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ عمومی طور پر تنظیم فلسطین اور کشمیر جیسے ا ہم مسئلوں کے حل کی طرف کوئی خاطر خواہ قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے ۔ اسی طرح مسلم امہ کی معاشی کامیابیاں بھی کوئی خاص نہیں سامنے آئیں یا پھر سیاسی طور پر مسلم امہ کے اندرونی مسائل 1969ءکے مقابلے میں اب زیادہ بڑھ گئے ہیں اور اس وقت مسلم امہ مزید ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے خطرے میں مبتلا نظر آرہی ہے۔ افغانستان، یمن، عراق، شام، لیبیا، پاکستان، مصر حتیٰ کہ سعودی عرب میں بھی اندرونی خلفشار بڑھ رہا ہے۔ غیر مسلم طاقتیں بھوکے بھیڑیوں کی طرح مسلم امہ کی بھیڑوں پر ٹوٹ پڑنے کو ہیں ایسے میں مصر میں مسلم امہ کا پارلیمانی اجلاس اور تاشقند میں مسلم امہ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اندھیرے میں روشنی کی کرن بن کر سامنے آئے۔ آئیے دیکھتے ہیں تاشقند میں اسلامی وزرائے خارجہ کے 43ویں اجلاس میں کن نکات پر خاص طور پر توجہ دی گئی۔

ازبکستان کے وزیر خارجہ اور OIC فارن منسٹرز کونسل کے چیئرمین عبدالعزیز میلوف نے سیکرٹری جنرل عیاض امین مادانی اور 50 سے زیادہ ممالک کے وزرائے خارجہ و دیگر مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تاشقند ڈکلریشن کے چیدہ چیدہ نکات یوں بیان کیے”اس دفعہ معزز مہمانوں نے ٹھوس اتحاد، یکسانیت اور عالمی معاملات میں مل جل کر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی۔ نتیجتاً عالمی معاملات میں ہماری تنظیم کے اہم کردار کی نشاندہی کی گئی۔ ان کوششوں کو آگے بڑھایا گیا کہ تنظیم مسلم امہ کے اتحاد کو بڑھاوا دے۔ ایک ٹھوس امن اور استقلال کے قیام کا مظاہرہ ہو۔ ممبر ممالک کی سماجی و معاشی ترقی میں مدد کرسکے۔ منسٹرز کونسل نے ایک دفعہ پھر فلسطین اور القدس شریف کے مسئلے کے حل کے لئے اپنی امداد کا اعلان کیا۔ ہم فلسطینیوں کے آئینی اور حقیقی حقوق کی حمایت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے مسائل کے پرامن حل پر زور دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی روشنی میں فلسطینی مہاجرین کے مسائل کے حل کی حمایت کرتے ہیں۔ OIC ممبر ممالک وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ کے ممالک کے مسائل کے حل اور وہاں ایسے استحکام کا مطالبہ کرتے ہیں جو کہ طے شدہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہو اور سیاسی طور پر حل نکالا گیا ہو۔

ہم افغانستان کی طرف عالمی انسانیت کی توجہ دلاتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، یہ صرف افغانوں اور ان کی تسلیم شدہ لیڈر شپ کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے اور اسی سمت کوشش اور عمل کیا جانا چاہیے۔

ممبر ممالک نے دہشتگردی اور انتہاءپسندی کی ہر حالت کی مذمت کی ہے۔ نارکوٹکس کی پیداوار اور ٹرانسپورٹیشن، غیر قانونی اسلحوں کی تجارت، تباہی لانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور ان کو ٹرانسپورٹ کرنے والے آلات کی مذمت کی گئی۔ ان تمام مسائل کی بنیادوں پر توجہ کرتے ہوئے باہمی اور متحدہ کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا۔دہشت گردی کے نظرئیے کا مقابلہ صرف ایک روشن خیال اسلامی نظرئیے سے کیا جاسکتا ہے اور مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی اور مذہبی بنیاد پرستی کے مقابلے میں اسی سلامی نظرئیے کو ایک کارگر انسٹرومنٹ کے استعمال کرنا ہوگا“

ازبکستان کی چیئرمین شپ کے تحت OIC کے وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس اس نعرے کے تحت منعقد کیا گیا ہے ”تعلیم اور روشن خیالی۔ راستہ ہے امن اور تخلیق کا“ لہٰذا ماضی کے مسلمان سکالرز اور سائنسدانوں کی تعلیم و تخلیقات پر خاص توجہ دی گئی۔ اجلاس میں مجموعی طور پر تعلیم و تربیت، معیشت، امن، ترقی، روشن خیالی کے مسائل پر توجہ دی گئی۔ ازبیک ریاست کے بانی اور پہلے صدر جناب اسلام کریموف کی کوششوں اور کردار کو سراہا گیا۔ بتایا گیا کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی نہ صرف اپنی قوم بلکہ اسلامی امہ، علاقائی معاملات اور عالمی امن وترقی کے لئے صرف کردی۔

موجودہ اجلاس میں ایک خاص اجلاس نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے اور ان کے لئے مواقع مہیا کرنے کے موضوع پر کیا گیا۔

مزید : بلاگ