اعلی ترین شخصیت کاانکار!

اعلی ترین شخصیت کاانکار!
 اعلی ترین شخصیت کاانکار!

  

ملکی سیاست کی مانند اسلام آباد کے موسم نے بھی کنفیوز کررکھا ہے ، سمجھ نہیں لگتی کہ کس طرح کے کپڑے زیب تن کیئے جائیں ، دن کو ائیر کنڈیشنرز کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا رات کو خنکی ہوجاتی ہے لگتاہے کہ موسم بھی ملک میں جاری سیاسی تغیر کا شکار ہوگیا ہے 24گھنٹوں میں درجہ حرارت کے اس تفاوت کی بدولت دارالحکومت کے مقیم اسی طرح بیمار ہونے لگے ہیں ، جیسے پانامہ فیصلہ کے بعد ملکی سیاست میں تغیر سے حکومت لاغر نظر آرہی ہے ، موسمی جراثیم کی مانند تبدیلی کے خواہش مند جرثومے تاک تاک کر ملکی سیاست اور حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں جس سے ملکی سیاست انفیکشن میں مبتلا ہوتی چلی جارہی ہے ،ملکی سیاست کے اس عارضے سے حکومتی اور اپوزیشن دونوں اطراف کے سیاست دان پریشان ہیں ، حکومت کویہ فکر لاحق ہے کہ اس عارضہ کے ساتھ وہ کس طرح مارچ 2018میں سینیٹ انتخابات کی سیاسی لائف لائن کو حاصل کرسکتی ہے ، پاکستان مسلم لیگ کے حلقوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ اگر حکومت کھینچ تان کر آئندہ سینیٹ انتخابات تک پہنچ جاتی ہے تو سیاسی افاقہ یقینی ہے ، جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کو یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی نااہلی کے باوجود مطلوبہ سیاسی ثمرات حاصل نہیں ہوپائے ، پی ٹی آئی کے بیشتر حلقے نوازشریف کی وزارت عظمیٰ سے بے دخلی کے باوجود انتخابی دنگل میں اپنی کامیابی کے حوالے سے اس وقت تک پر امید نہیں جب تک نوازشریف خود سیاسی میدان میں موجود ہیں اوران کی قیادت میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جو سینیٹ انتخابات میں پانامہ کاسیاسی حساب چکانے کی صلاحیت کی حامل نظرآتی ہے۔

نااہلی کے بڑے واقعہ کے بعد گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف پر فرد جرم عائد ہونے کی ٹائمنگ بھی انکے سیاسی منظر پر برقرار رہنے یا غروب ہونے کے حوالے سے خاصی اہم ہے ، ایک طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاسی حریف آئندہ سیٹ اپ یا الیکشن میں اپنی کامیابی کیلئے نوازشریف کے سیاسی منظر سے ہٹنے کو لازم سمجھتے ہیں لیکن دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے اندر سے پارٹی کمان کی تبدیلی کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں بالخصوص عین ان پر فرد جرم عائد ہونے والے دن ریاض پیرزادہ کے بیان میں خاص پیغام پنہاں ہے ، دلچسپ امر یہ ہے کہ اکتوبر99 میں فوجی ٹیک اوور ہوا تھا اور اب 2017میں اکتوبر کے مہینہ میں ہی ریاض پیرزادہ کی جانب سے پارٹی کے اندر شہبازشریف کو پارٹی ٹیک اوور کرنے کا مشورہ دیاگیاہے ، یعنی پاکستان مسلم لیگ ن کو 18سال بعد باہر سے توٹیک اوور کا خطرہ ہو یا نہ ہو لیکن پارٹی کے اندر سے ٹیک اوور کی باتیں سنائی دینے لگی ہیں ، لیکن لگتاہے کہ ابھی نوازشریف داخلی ٹیک اوور کے دباؤ کو خاطر میں لانے کو تیار نظر نہیں آرہے کیونکہ انہوں نے لندن سے واپسی کے ٹکٹ بک کروالئے ہیں نوازشریف کا یہ طرز عمل پی ٹی آئی کی فتوحات کیلئے مطلوبہ اعتماد میں مزید کمی کا باعث ہوسکتا ہے ، اعتماد کی اس کمی کے بطن سے ہی قبل ازوقت انتخابات اور کیئر ٹیکر سیٹ اپ کی طوالت یا ٹیکنوکریٹس کے ممکنہ سیٹ اپ کے طرح طرح کے تصورات جنم لے رہے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کو اپنے مستقبل کے حوالے سے لاحق خطرات واقعی ہی سنجیدہ نوعیت کے ہیں ، اس بناء پر ٹیکنوکریٹس جیسے کسی ممکنہ سیٹ اپ کے قیام کی سنجیدہ کوششوں کو سمجھا جاسکتا ہے ، اگرچہ وفاقی دارالحکومت میں وقتاًفوقتاًاس طرح کے ہوائی گھوڑے دوڑائے جاتے رہتے ہیں ، بہت سے لوگ کنفیوز ہیں کہ اس بار بھی کسی ٹیکنوکریٹس سیٹ اپ کی باتیں شائد ماضی جیسی ہی ایک فضول مشق ہے! لیکن اس بار بے تابی سے انتظار میں کھڑے ٹیکنوکریٹس کنفیوز نہیں ، انہیں یقین ہے کہ ان کی باری آنیوالی ہے ،ٹیکنوکریٹس کے ممکنہ سیٹ اپ کے ممکنہ امیدواروں کو اگرکوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ سیاسی سے زیادہ موسمی تغیر کا ہے وہ اس بات پر جز بز ہیں کہ انہو ں نے موسم گرما کی شیروانیاں سلوا رکھی ہیں لیکن جس طرح ملکی سیاست کی طرح موسم اپنا رنگ تیزی سے بدل رہاہے تو انہیں موسم سرما کی مناسبت سے نئے سرے سے شیروانیاں نہ سلوانی پڑ جائیں ! بلاشبہ حکومت کے بارے میں عالمی ذرائع ابلاغ سے وابستہ پاکستانی صحافی حکومت کو مفلوج قرار دے رہے ہیں آئی ایس پی آر کی یقین دہانیوں کے باوجود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بدستور ’’دہائیاں ‘‘دیتے رہے ،غزل کے بعد جواب آں غزل کا سلسلہ بھی نظر آیا لیکن جب معاملہ جواب الجواب کے مرحلے میں آیا تو لفظی جنگ کا سیز فائر ہوگیا ۔

لیکن اس کے باوجود سب اچھا نہیں ہے ،چل چلاؤکاتاثرنظرآرہاہے ، دارالحکومت کے ہر تھڑے ، دالان اور ایوان میں حکومت کی مدت کے بارے میں قیافے لگائے جارہے ہیں ، دارالحکومت میں بے یقینی کے سائے بڑھ رہے ہیں، لیکن اہم ترین بات ہے صرف حکومت کیلئے نہیں بلکہ اس بار یہ بے یقینی تمام فریقوں کے چہرے پر نظر آرہی ہے! دلچسپ امر یہ ہے کہ دارلحکومت کے دروبام یہ اسلوب شائد پہلی بار دیکھ رہے ہیں ، اگرچہ تمام تیاریاں مکمل نظر آرہی ہیں ماحول بنا ہواہے ، لوہا گرم ہے لیکن چوٹ لگانی ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہوگئی ہے کیونکہ اقتدار کی تثلیث کے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز اہم ترین شخصیت کی جانب سے کسی طرح کی مہم جوئی کو آشیرباد دینے سے صاف صاف انکار کردیا گیاہے ، واقفان حال کے مطابق ایک سے زائد مرتبہ فیڈ بیک لیا گیا لیکن پذیرائی نہ مل سکی دارالحکومت میں جاری سیاسی کھیل کے تناظر میں یہ ایک انتہائی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ،اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کسی ممکنہ سیٹ اپ کی باتیں انتہائی سنجیدہ اہمیت کی حامل ہیں تاہم اس انکارکے بعد امیدواران برائے حکومت ٹیکنوکریٹس جو پہلے ہی موسم کے تغیر سے کنفیوز ہیں ایسا نہ ہو کہ اس اہم پیشرفت کے نتیجہ میں وہ بے یقینی کے حمام میں بے لبادہ ہی کھڑے رہ جائیں اوران کی شیروانیاں ان کے انتظار میں باہر لٹکی رہیں۔

مزید : کالم