بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے : وزیر اعظم

بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے : وزیر اعظم

  

استنبول228 اسلام آباد (اے پی پی228 نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ترقی پذیر ممالک کی تنظیم ڈی 8 کے 9ویں سربراہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے استنبول پہنچ گئے۔ استنبول کے ڈپٹی گورنر مہمت علی الوتاس نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف بھی وزیراعظم کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ معاشی تعاون پر ڈی ایٹ تنظیم کا 9 واں اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہا ہے۔ اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں۔ اسلامی ممالک کی تنظیم ڈی ایٹ میں مصر، ایران، بنگلادیش، انڈونیشیا، ملائشیا، نائیجیریا، ترکی اور پاکستان شامل ہیں۔ 8 ممالک کی مجموعی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے جبکہ ڈی ایٹ ملکوں کی مشترکہ منڈی10 کھرب ڈالر سے زائد ہے۔ تنظیم کے مقاصد میں رکن ممالک کے درمیان معاشی تعاون میں اضافہ اور عوامی زندگیوں میں بہتری بھی شامل ہے۔ ڈی ایٹ کا تنظیمی ڈھانچہ سمٹ، کونسل اور کمیشن پر مبنی ہے۔ سمٹ میں سربراہان مملکت، کونسل میں وزراء خارجہ جبکہ کمیشن میں اعلیٰ حکام اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تنظیم کے چارٹر کے تحت زراعت، فوڈ سیکورٹی، توانائی، معدنیات، صنعتی تعاون، صحت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کا فروغ شامل ہے۔پاکستان ڈی ایٹ تنظیم کا متحرک رکن ہے۔ تاریخی شہر استنبول میں ہونے والے 9 ویں ڈی ایٹ اجلاس میں سربراہان مملکت و حکومت مستقبل کے لائحہ عمل پر گفتگو کریں گے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آج 9 ویں ڈی ایٹ سربراہ کانفرنس سے خطاب کے علاوہ توقع ہے کہ ڈی ایٹ کے رکن ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ کے لئے حضور پاکؐ کے سنہرے اصول ہماری رہنمائی کرتے ہیں رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر ہم آزاد معاشرے کے فروغ کے لئے پرعزم ہیں ۔ ہندوکمیونٹی پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ شاہد خاقان عباسی نے پاکستان اور دنیا بھر میں ہندو کمیونٹی کو دیوالی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی بہبود و فلاح اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے بانی پاکستان قائد اعظم کا وژن اور ہمارا آئین بھی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے آج سب سے زیادہ بین المذاہب اور ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت ہے کوئی مذہب نفرت اور تشدد کا درس نہیں دیتا ۔ ہر مذہب انسانیت کے لئے امن ہم آہنگی اور محبت کے فروغ کا درس دیتا ہے مذہبی راہنما معاشرے کو انسانی بندھن میں باندھنے کے لئے مذہبی اقدار کو فروغ دیں تاکہ ملک سے فرقہ پرستی اور اقلیتوں میں تصادم کے ماحول کا خاتمہ ہو سکے انہوں نے ہندو کمیونٹی سے کہاکہ وہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ یہ ملک مزید مستحکم اور ترقی کر سکے ۔ بین المذاہب اور بین العقیدہ ہم آہنگی کے فروغ کی اشد ضرورت ہے ٗ حکومت اقلیتوں کی بہبود اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے پر عزم ہے۔ وزیرا عظم نے دیوالی کے تہوار پر ملک وبیرون ملک ہندو برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک تمنائیں ظاہر کیں کہ رنگوں اور روشنیوں کا یہ تہوار اس دن کو منانے والوں کی زندگیوں میں امن او خوشیاں لائے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے پر عزم ہے بین المذاہب اور بین العقیدہ ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جاتی ہے ۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کوئی بھی مذہب منافرت اور تشدد کا درس نہیں دیتا ۔ درحقیقت ہر مذہب امن ، ہم آہنگی اور انسانیت سے محبت کے فروغ کا حامی ہے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیاکہ وہ بنیادی مذہبی اقدار کو اجاگر کرنے اور ان اقدار کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں جو معاشرے کو انسانیت کے رشتے میں جکڑتی ہیں ۔ انہوں نے اس موقع پر ہندو برادری پر بھی زور دیاکہ وہ پاکستان کی خوشحالی کے لئے اپنی قابل قدر خدمات انجام دیتے رہیں، ہم ذات اور نسل پر مبنی ہر قسم کے امتیاز سے پاک معاشرے کے فروغ کے لئے پرعزم ہیں۔وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ ترکی سے قبل چیئرمین تحریکِ جوانان پاکستان محمد عبداللہ گل نے ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی بدلتی سیاسی صورتِ حال ، افغانستان سمیت وزیرِ اعظم کے دورہ ترکی پر گفتگو کی گئی۔ چیئرمین تحریکِ جوانان پاکستان نے وزیرِاعظم سے کہا کہ دورہ ترکی کے دوران وہ ترک حکومت سے کے۔پی۔کے۔ سندھ اور بلوچستان میں بھی ریلیف آپریشن شروع کرنے کی درخواست کریں۔تا کہ ان صوبوں کی احساسِ محرومی کا خاتمہ ممکن ہو۔ افغانستان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کا قیام پاکستان کے کردار کے بغیر ممکن نہیں۔ معشیت کے حوالے سے آرمی چیف کے بیان پر دونوں رہنماؤں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کا معشیت کے بارے میں بیان حقائق پر مبنی ہے ہمیں غیر ملکی قرضوں سمیت معاشی امور پر از سرِ نو پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ داعش و دیگر جنگجو گروپس سے لڑنے کے لئے قوم میں اتحاد واتفاق لازم ہے اور حکومت اور نوجوان مل کر اپنا کردار ادا کریں گئے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -