تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کی وقتی قربتیں پھر فاصلوں میں بدلنے لگیں

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کی وقتی قربتیں پھر فاصلوں میں بدلنے لگیں

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان مل کر بھی قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کو ہٹاتو نہیں سکیں‘ البتہ اب بحث بلکہ کج بحثی یہ چھیڑ دی گئی ہے کہ قائد حزب اختلاف کو ہٹانے کیلئے دراصل رابطہ پہلے کس نے کیا تھا؟ ایم کیو ایم پاکستان نے تو انہی دنوں میں جب شاہ صاحب کو ہٹانے کیلئے امیدیں بہت بلند تھیں کہہ دیا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے ہمارے ساتھ مل کر خورشید شاہ کو ہٹانے کا بیڑہ اٹھایا، ہم بھی یہی چاہتے ہیں اس لئے نہ صرف خود کوشش کریں گے بلکہ دوسری جماعتوں کو بھی ساتھ ملائیں گے، لیکن اب جبکہ یہ کوشش بری طرح ناکام ہوگئی ہے بلکہ خورشید شاہ بدستور اپنے عہدے پر نہ صرف برقرار ہیں بلکہ ان کی مشاورت کے ساتھ نیب کے نئے چیئرمین کا تقرر بھی ہوچکا ہے اور غالباً یہی وہ فوری وجہ تھی جس کیلئے ایمرجنسی میں خورشید شاہ کو ہٹانے کی مہم جوئی کی گئی۔ اب تحریک انصاف کے ایک اہم عہدیدار نے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ رابطہ ایم کیو ایم نے کیا تھا۔ چلیے رابطہ کسی نے بھی کیا، خورشید شاہ کو ہٹانے کی کوشش تو کی گئی جس طرح کی سیاسی کہہ مکرنیاں اب ہو رہی ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کلاں دونوں جماعتیں یا ان میں سے کوئی ایک کہہ دے کہ ہم نے تو یونہی مذاق کیا تھا، ہم خورشید شاہ کو ہٹانا تھوڑی چاہتے تھے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست بھی آسانی سے سمجھ آنے والی نہیں، ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب مہاجر سیاست کرنے والی جماعتوں کے تمام رہنماؤں نے باہم ملاقات کی اور یہ عندیہ دیا کہ وہ مل کر چلیں گے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایم کیو ایم پاکستان نے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی تھی۔ اس کانفرنس میں اور تو کوئی جماعت گئی نہیں لیکن پاک سرزمین پارٹی اور مہاجر قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم حقیقی کے قائدین چلے گئے۔ کبھی یہ سب حضرات ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے تھے، اب الگ الگ سیاست کر رہے ہیں، لیکن سیاسی سفر کا آغاز تو انہوں نے اکٹھے ہی کیا تھا۔ پھر ایک متنازعہ تقریر کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے اگلے ہی روز لندن سے اپنے راستے جدا کرلئے اور اب تک کئی بار اعلان کرچکے ہیں کہ ان کا اب لندن کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن یار لوگ ان کی بات مان کر نہیں دے رہے اور مسلسل کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک سیاسی چال ہے اور غالباً انہی شکوک و شبہات کی وجہ سے ان کی آل پارٹیز کانفرنس نہ ہوسکی۔ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان خورشید شاہ کو ہٹانے کے بہانے قریب آئی تھیں۔ یہ قربت بھی زیادہ دن نہ چل سکی، اب جب اکٹھے چلنے کا ایک موقع ہی نہ رہا تو پھر کتنے دن ساتھ چلتے رہتے، چنانچہ چار دن کی یہ چاندنی ختم ہوگئی۔ اب ایم کیو ایم نے سیاست تو کرنی ہے اور سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رکھنی ہیں اس لئے اس نے موقع غنیمت جانتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کرلی اور انہیں کچھ وعدے یاد دلا دیئے، ایم کیو ایم نے وزیراعظم کے انتخاب کے وقت ان کے حق میں ووٹ کا استعمال کرکے اچھا پیغام بھیجا تھا۔ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اپنا اپنا امیدوار کھڑا کیا ہوا تھا، لیکن ایم کیو ایم نے اپنے امیدوار کو دستبردار کرکے شاہد خاقان عباسی کی حمایت کا فیصلہ کیا۔

اب سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ اگر تحریک انصاف اور ایم کیو ایم، دونوں مل کر خورشید شاہ کو ہٹانے کی پوزیشن میں نہیں تھیں اور یہ بھاری پتھر اٹھائے نہیں اٹھ رہا تھا تو انہیں کس نے کہا تھا کہ وہ ایک ایسا اقدام کرتے جس سے انہیں کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوا، بلکہ الٹا نقصان یہ ہوا کہ تحریک انصاف کے اندر سے شاہ محمود قریشی کے خلاف آوازیں اٹھیں کہ ہم تو انہیں قائد حزب اختلاف نہیں مانیں گے، بنانا ہے تو عمران خان کو بناؤ۔ عمران خان اگرچہ شاہ محمود قریشی کے حق میں فیصلہ کرچکے تھے لیکن جہانگیر ترین نے پارٹی کے اندر اپنے حامی ورکروں کے ذریعے جو کھیل کھیلا اس سے دو باتیں ثابت ہوگئیں ، ایک تو یہ کہ تحریک انصاف کے اندر گروہ بندی موجود ہے اور باوجود کوششوں کے یہ سلسلہ ختم نہ ہوسکا۔ دوسری یہ بات ثابت ہوئی کہ پارٹی کے اندر جہانگیر ترین کا گروپ موثر ہے جس نے شاہ محمود قریشی کا راستہ روکنے کیلئے پوری سکیم کو ہی ناکام بنا دیا اور عملاً حزب اختلاف کی کسی بھی جماعت نے اس کا ساتھ دینے کی حامی نہ بھری۔ مسلم لیگ (ق) نے تو باقاعدہ شکوہ کیا کہ تحریک انصاف فیصلے پہلے کرلیتی ہے اور مشورہ بعد میں کرتی ہے، حالانکہ یہ ترتیب اس کے برعکس ہونی چاہئے۔ سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین کے خلاف نااہلی کا جو کیس جاری ہے اس سے شاہ محمود قریشی کے حامی حلقے اندر خانے خوش ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر نااہلی کیس میں فیصلہ جہانگیر ترین کے خلاف آگیا تو تحریک انصاف میں شامہ محمود قریشی کا گروپ مضبوط ہوگا۔ تاہم ایسی صورت میں تحریک کو مجموعی طور پر ایک بڑا دھچکا لگے گا جس سے سنبھلنا بہت مشکل ہوگا کیونکہ جہانگیر ترین کے مخالفوں نے ان کا نام ’’اے ٹی ایم‘‘ رکھا ہوا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کے اخراجات کا زیادہ تر بوجھ جہانگیر ترین نے اٹھا رکھا ہے، جہاز اور ہیلی کاپٹر بھی انہی کے استعمال ہوتے ہیں، منفی فیصلے کی صورت میں یہ بوجھ یا تو علیم خان کو اٹھانا پڑے گا یا پھر چودھری محمد سرور کو، جو اس وقت پارٹی سیاست میں زیادہ متحرک نہیں ہیں، ایسی صورت میں شاہ محمود قریشی کو آگے آنے کا موقع تو مل سکے گا لیکن پارٹی اخراجات کا معاملہ ضرور الجھ جائے گا۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، حالانکہ جتنے ارکان کا دعویٰ وہ کرتی ہے اتنے ارکان تو امریکہ اور برطانیہ کی جماعتوں میں بھی نہیں ہیں جن کی سینکڑوں برس کی سیاسی تاریخ ہے۔ اس لحاظ سے تو تحریک انصاف دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ دیکھیں ایک فیصلہ اس جماعت کے مستقبل پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے؟

وقتی قربتیں

مزید :

تجزیہ -