چونگی نمبر 9فلائی اوور کے نیچے آتشزدگی ، واسا کے سوا کروڑ کے پائپ خاکستر

چونگی نمبر 9فلائی اوور کے نیچے آتشزدگی ، واسا کے سوا کروڑ کے پائپ خاکستر

ملتان(کرائم رپورٹر،نمائندہ خصوصی)ضلعی انتظامیہ یا محکمہ واسا ، غفلت اور لاپرواہی کس کی؟ 9نمبر چونگی کے قریب سوا کروڑ مالیت کے پائپ جل کر خاکسترہوگئے۔8ماہ سے زائد عرصہ سے واسا کے ہیوی ڈیوٹی پائپ 9نمبر چونگی کے قریب بغیر کسی دیکھ بھال کے پڑے رہے ،آگ لگنے کے(بقیہ نمبر36صفحہ7پر )

بعد میٹرو بس کی آمدو روفت بندکر دی گئی،ریسکیو فائر برگیڈ آ گ بجھانے میں ناکام ،پاک آرمی کی امدادی ٹیم کی مدد پر ایک گھنٹہ25منٹ بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روز 9نمبر چونگی پر میٹرو فلائی آور کے نیچے محکمہ واسا کے سوا کروڑ مالیت کے پلاسٹک کے ہیوی ڈیوٹی پائپ موجود تھے۔جو دو ماہ سے زائد عرصہ سے بغیر کسی دیکھ بھال کے وہیں پڑے تھے۔وہاں موجود کچرے کو آگ لگائی گئی آگ کچرے کو جلانے سے زور پکڑ گئی، جس پر اہل علاقہ کی اطلاع پر پولیس اور ریسکیو فائر برگیڈ موقع پر پہنچ گئے۔فائر برگیڈ کی 8گاڑیوں نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی تاہم ناکام رہے،آگ کے شعلے میٹرو ٹریک کو چھونے لگے،جس کے باعث میٹرو سروس کا روٹ تبدیل کر کے نو نمبر چونگی سے بی سی جی چوک تک روٹ روک دیا گیا،ریسکیو کی امدادی گاڑیوں میں پانی کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے ریسکیو ادارے آگ پر قابو پانے میں ناکام رہے ۔بعدازاں ایم ڈی واسا موقع پر پہنچ گئے،آگ بجھانے کے ریسکیو آپریشن میں پاک آرمی کی امدادی ٹیم بھی شامل ہوگئی،معلوم ہوا ہے کہ آگ 10 بج کر 05 منٹ پر لگی ،ایک گھنٹہ 25منٹ بعد اس پر قابو پایا گیا۔سیفٹی اقدامات مکمل ہونے کے بعد میٹرو سروس بحال کردی گئی۔دوسری جانب ٹھیکیدار سلیم کی درخواست پر کوتوالی پولیس نے آتشزدگی کے واقعہ کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کیخلاف درج کرلیا ہے۔ دریں اثناء منیجنگ ڈائریکٹر واسا گذشتہ روز چو نگی نمبر 9 پر سیوریج پائپوں کی خو فناک آتشزدگی کے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مو قع پر پہنچ گئے انہوں نے ڈائریکٹر ورکس نسیم خالد چانڈیو سمیت دیگر آفیسران کو بھی جائے حادثہ پر طلب کر لیا اس موقع پر شعبہ ڈسپوزل اسٹیشن کی طرف سے ایم ڈی واسا کو بتایا گیا کہ سیوریج پائپ ایچ ڈی پی آئی ( ہائی ڈینسٹی ایتھنائل پائپ) جو کہ انتہائی اعلی معیار کے حامل پائپ ہیں اور ان کو میٹروبس منصوبے کے تحت چو نگی نمبر9 پر فورس مین پائپ لائن کی تبدیلی کیلئے منگوایا گیا تھا اور اس منصوبے کے فنڈز ایم ڈی اے نے فراہم کرنا تھے اور اس منصوبے کی باقاعدہ منظوری کے بعدکنٹریکٹر الشان کنسٹرکشن کمپنی کو ورک آرڈر جاری کیا گیاتھا جس نے (8) ماہ قبل 40 انچ چوڑائی اور تقریبا 200 میٹر لمبائی کے یہ پائپ منگوا رکھے تھے مگر مگر اس منصوبہ کے تخمینہ کے ریوائزڈ نہ ہونے اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث پر اجیکٹ کا آغاز نہ ہو سکا اور اب نا معلوم افراد کے کو ڑا کر کٹ کو آگ لگانے کی وجہ سے یہ قیمتی پائپ جلنے کا حادثہ رو نما ہوا ہے اور ان پائپوں کی دیکھ بھال کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ کنٹریکٹر کی ہی ہے جس پر منیجنگ ڈائریکٹر راؤ محمد قاسم نے اس آتشزدگی واقعہ کی تمام تر تفصیلی رپورٹ ڈائریکٹر ورکس نسیم خالد چانڈیو سے (24) گھنٹے کے اندر طلب کر لی ہے قبل ازیں آتشزدگی کے واقعہ کی اطلاع پر ریسکو 1122، فائر بریگیڈ، ٹریفک و ضلعی پو لیس سمیت دیگر ادارے اور آفیسران بھی حادثہ پرپہنچ گئے اور آگ بجھانے کیلئے کی جانے والی کو ششوں کی مانیٹرنگ کر تے رہے۔

آتشزدگی

مزید : ملتان صفحہ آخر