عقیدہ ختم نبوت ؐ اور جھوٹے مدعیان نبوت

عقیدہ ختم نبوت ؐ اور جھوٹے مدعیان نبوت
 عقیدہ ختم نبوت ؐ اور جھوٹے مدعیان نبوت

  

ختم نبوت کے منکرین اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ یہ فتنہ آنحضور ؐکے دور ہی میں شروع ہوگیاتھا ۔ جہاں آپ ؐنے اپنی ختم نبوت کا اعلان فرمایا، وہیں آپ ؐ نے قیامت تک نمودار ہونے والے ان کذابین کا بھی تذکرہ فرمایاتھا۔ بندۂ مومن کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں سوچ سکتا کہ آنحضورؐکے بعد کوئی نبی اور رسول آسکتا ہے ۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کا تو اس باب میں قول فیصل ہے جو کذاب نبوت کا دعویٰ کرے۔ اس سے یہ پوچھنا بھی کہ وہ اس کی دلیل پیش کرے ۔ ایمان سے خارج کردیتاہے ۔ آج کل یہ فتنہ پھر سر اٹھا رہاہے ۔ان کذابین میں سے بنو حنیفہ کا سردار، مسیلمہ کذاب نہایت خطرناک تھا۔ اس کا انجام بھی عبرت ناک ہوا۔یہ شخص بہت دھوکے باز، عیّار، مکّار اور چرب زبان تھا۔ اس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔ یہ بدبخت کہا کرتا تھا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی اللہ کے رسول ہیں اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اسے کذّاب قرار دیا تھا۔ مسیلمہ کا ایک خط تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے، جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریکِ نبوت بنایا گیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے تھوڑا ہی عرصہ قبل اس نے آپؐ کے نام جو خط لکھا وہ مورخ طبری نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے: (جلد سوم ص 146۔147)

مِنْ مُسیلمہ رسول اللہ الیٰ محمدٍ رسول اللہ سلامٌ علیک فانی اُشرکتُ فی الامر مَعَکَ۔مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے، محمد رسول اللہ کی طرف، آپ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔مسیلمہ اور اس کے پیروکار بہت مکار، فریبی اور دھوکے باز تھے۔ وہ اذان اور نماز کا اہتمام کرتے تھے۔ اذان میں اشھدان محمدا رسول اللّٰہ کے بعد اشھد ان مسیلمۃ رسول اللّٰہ کہا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خط ملتے ہی اس پر لعنت بھیجی اور اسے کافر وکذّاب قرار دیا۔ بنوحنیفہ کے بیش تر مسلمان نیک نیتی کے ساتھ سمجھتے تھے کہ مسیلمہ بھی اللہ کا رسول ہے۔ اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کے بعد انھوں نے اس کی اتباع شروع کردی۔ اس کے باوجود کچھ مخلص اور فہیم اہلِ ایمان اس پر ایمان نہیں لائے تھے۔ اس کے خلاف آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم فوج بھیجنا چاہتے تھے، مگر اجل مسمّٰی نے آپ کو مہلت نہ دی۔ یہ اہم کام حضرت ابوبکرصدیقؓ کے دور خلافت میں انجام دیا گیا۔ یہ شخص دھوکہ دینے کے لئے کبھی نرمی اختیار کرتا اور کبھی اپنی دھونس جمانے کے لئے ظلم وستم کی انتہا کردیتا تھا۔ امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ سورۂ النحل کی آیت نمبر106میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کرلیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔‘‘(النحل16:106)

اس کی تفسیر میں امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اس رخصت کے باوجود عمومی طور پر عزیمت کا راستہ اختیار کرتے تھے اور جان کی قربانی دے دیتے تھے، مگر کفریہ کلمہ اپنی زبان سے نہیں نکالتے تھے۔ حضرت حبیب بن زید انصاریؓ(حضرت ام عمارہ کے فرزندِدل بند) یمامہ کے علاقے سے گزر رہے تھے۔ مسیلمہ کو اس کی اطلاع ملی۔ مسیلمہ نے انھیں اپنے پاس بلایا اور کہا:’’ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمداللہ کے رسول ہیں؟ ‘‘انھوں نے فرمایا: ہاں میں گواہی دیتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ تو انھوں نے فرمایا کہ نہیں۔ مسیلمہ کذّاب ہے۔ اس نے کہا: تم اگر یہ گواہی نہ دو گے تو میں تمھیں قتل کردوں گا۔ انھوں نے فرمایا: تمھیں جو کچھ کرنا ہے کرلو، میں ہر گز یہ گواہی نہیں دوں گا۔ پھر اس نے حکم دیا کہ ان کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ ہاتھ کٹنے کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ پھر ان کا ا یک پاؤں کاٹا گیا، مگر ان کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔ پھر دوسرا ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹا گیا۔ امام ابن کثیرؒ کے الفاظ میں: فَلَمْ یَزَلْ یَقْطَعُہٗ اِرْباً اِرْباً وَھُوَ ثَابِتٌ عَلٰی ذَالِکَ۔ یعنی انھیں ایک ایک عضو کاٹ کر شہید کیا گیا، مگر وہ اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔ (تفسیرابن کثیر، ج4،ص228، مطبوعہ ، بیروت)

مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابوبکرصدیقؓ نے حضرت عکرمہؓ بن عمروکو ایک فوج دے کر روانہ کیا اور حکم دیا کہ تمھارے پیچھے شرحبیل بن حسنہؓ ایک مزید دستہ لے کر آرہے ہیں۔ ان کے آنے تک جنگ شروع نہ کرنا، جب وہ پہنچ جائیں تو مسیلمہ پر حملہ کردینا۔ اہلِ یمامہ نے مضبوط قلعے تعمیر کررکھے تھے اور مسیلمہ کے گرد مختلف قبائل کے مرتدین اور جنگجو بھی ہتھیار بند ہو کر پہنچ چکے تھے۔ حضرت عکرمہؓ اور ان کے ساتھی جب اس علاقے میں پہنچے تو انھوں نے حضرت شرحبیلؓ اور ان کے ساتھیوں کا انتظار کرنے کی بجائے مسیلمہ سے جنگ چھیڑ دی۔ چونکہ ان کی تعداد کم تھی اور دشمن پہلے سے تیار بیٹھا تھا، اس لئے مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کو جب یہ اطلاع ملی تو انھوں نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور ایک خط میں سرزنش کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے کیوں عجلت سے کام لیا اور شرحبیل کے پہنچنے سے قبل جنگ کیوں چھیڑ دی، خیر جومقدر تھا وہ ہوا، اب واپس مدینہ آنے کی بجائے مہرہ اور عمان کے مرتدین کے خلاف لڑنے کے لئے حذیفہؓ اور عرفجہؓ سے جاملو۔ جب وہاں سے فارغ ہوجاؤ تو پھر حضرموت اور یمن کے مرتدین سے لڑنے کے لئے مہاجر بن ابی امیہؓ کے پاس چلے جانا۔

اس عرصے میں حضرت خالدؓ بھی اپنی مہمات سے فارغ ہوچکے تھے اور مالک بن نویرہ کے قتل کی شکایات پر مدینہ آکر خلیفۂ رسولؐ کی خدمت میں اپنا موقف پیش کررہے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے ان کی معذرت اور وضاحت قبول کرتے ہوئے انھیں مسیلمہ کذاب کے مقابلے پر سپہ سالار بنا کر بھیجا اور حضرت شرحبیلؓ کو حکم دیا کہ وہ خالدؓ کے لشکر میں شامل ہو کر مسیلمہ کے مقابلے پر جہاد میں حصہ لیں۔ حضرت خالد کے لشکری تو پہلے سے ان علاقوں میں موجود تھے۔ ان کی مدد کے لئے مدینہ سے انصار ومہاجرین صحابہ پر مشتمل دو دستے بھی روانہ کیے گئے۔ ان صحابہؓ میں بہت سے حفاظ وقرأ بھی شامل تھے اور وہ اصحاب بھی بڑی تعداد میں تھے، جو بدرواحد اور احزاب وحنین کے معرکوں میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں حصہ لے چکے تھے۔ مہاجر صحابہؓ کے امیر حضرت ابوحذیفہؓ اور انصار کے امیر حضرت ثابت بن قیس انصاریؓ تھے۔ فوج کے علم بردار حضرت عمربن خطابؓ کے بھائی حضرت زید بن خطابؓ مقرر کیے گئے۔ (البدایۃ والنہایۃ، امام ابن کثیر، المجلد الاول، ص1318۔1319)

جنگ یمامہ تاریخ اسلام کے عظیم ترین اور اہم ترین معرکوں میں شمار ہوتی ہے۔ حضرت خالدؓ اپنی فوج کو لے کر اس علاقے میں پہنچے تو دیکھا کہ مسیلمہ چالیس ہزار جنگجو اپنے گرد جمع کیے اپنے قلعے کے باہر عقربا کے مقام پر خیمہ زن ہے۔ اس کے سامنے کھلے میدان میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے بھی پڑاؤ ڈال دیا۔ اس عرصے میں یہاں پہنچنے سے قبل حضرت خالدؓ کا آمنا سامنا بنوحنیفہ ہی کے ایک اور کافر سردار مجاعہ بن مرارہ کے ساتھ ہوا، جو بنوعامر اور بنوتمیم پر شب خون مارنے کے بعد مال غنیمت لے کر واپس جارہا تھا۔ اس کے سب ساتھیوں کو قتل کردیا گیا اور حضرت خالدؓ کے حکم سے اسے جنگی حکمت عملی کے پیش نظر قید کردیا گیا۔

حضرت خالدؓ کے میدان جنگ میں پہنچنے کے دوسرے روز باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی۔ دشمن کا ایک جنگجو میدان میں نکلا اور مسلمانوں کو مقابلے کے لئے للکارا۔ حضرت زید بن خطابؓ اس کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے اور اسے تہہ تیغ کردیا۔ دشمن کا یہ جنگجو رجال بن عنفوہ تھا جو اپنی بہادری کے لئے مشہور تھا۔ اس کے قتل پر مسیلمہ کی فوج بپھر کر مسلمانوں پہ حملہ آور ہوئی۔ یہ حملہ اتنا سخت تھا کہ مسلمانوں کی صفوں میں قدرے کمزوری نظر آنے لگی۔ اس موقع پر علم بردرانِ لشکر حضرت زید بن خطابؓ حضرت ثابت بن قیسؓ اور ان کے دیگر ساتھی بڑی پامردی سے لڑے اور مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے دونوں علم برداروں نے جہاد کی عظمت، شہادت کا مقام ومرتبہ اور جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج آگے بڑھنے کا دن ہے۔ حضرت ابوحذیفہؓ اور حضرت سالمؓ مولیٰ ابوحذیفہؓ نے بھی اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے دشمن پر زوردار حملہ کیا۔ وہ بھی مسلمانوں کو مسلسل تلقین کیے چلے جارہے تھے: ہَلَمُّوْا اِلَی الْجَنَّۃِ یعنی آؤ جنت کی طرف بڑھو۔ بنوحنیفہ بڑے ماہر تیرانداز تھے۔ مسلمان بنوحنیفہ کے تیراندازوں کے تابڑ توڑ حملوں سے منتشر ہونے لگے تو ان صحابہؓ کے ساتھ حضرت عمار بن یاسرؓ بھی آگے بڑھ کر صحابہؓ کو پکارنے لگے: اے اہلِ ایمان! میں عمار بن یاسرؓ ہوں، میری طرف آؤ۔ وہ سامنے جنت ہے، جنت سے کیوں فرار اختیار کررہے ہو۔ حضرت عمارؓ اس نازک مرحلے پر ایک بلند ٹیلے پر کھڑے تھے اور ان کا ایک کان شہید ہوچکا تھا، مگر اس تکلیف سے بے پروا وہ مردانہ وار دشمن سے برسرپیکار تھے، جبکہ حضرت سالمؓ نے ایک گڑھا کھود کر اس میں پاؤں جما لئے اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ (جاری ہے)

مزید : کالم